|
کراچی پر موت کے سائے ۔۔۔ از: سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا
13.07.2015, 03:01am , سوموار (GMT+1)
اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں اس کے کئ نام ہیں لیکن سب سے خوبصورت نام بڑا مہربان اور نہائت رحم والا لگتا ہے ،پھر کیا وجوہات درپیش آ جاتی ہیں جس کے لئے اس نے قرانِ کریم میں فرمایا ہم کسی بستی پر ہلاکت نازل نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ ظالم نہیں ہو جاتی
کراچی پر چند روز کے اندر ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا سبب کیا اللہ تعالٰی کی کراچی والوں سے ناراضگی ہے اگر ناراضگی ہے تو کراچی والے اللہ کو راضی کیسے کر سکتے ہیں گھروں میں بھی جب والدین خفا ہو جاتے ہیں تو نیک اولاد ان کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ لیتی ہے ناں تو کیا
یہ طوفان اللہ تعالٰی کی جانب سے تنبیہ تو نہیں کہ ابھی بھی وقت ہے معافی سے تلافی کر لو ۔بحیرہ ء عرب میں طوفان کی آمد کی پیشین گوئ جون کے پہلے ہفتے سے شروع ہو گئ تھی اور جیسے جیسے طوفان کراچی کے ساحل کی جانب بڑھ رہا تھا ویسے ویسے کراچی کے موسم کے تیور بھی بدل رہے تھے
کراچی کے عوام گرمی سے بےحال’49 ڈگری ہیٹ انڈیکس اموات کی وجہ بنا‘بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ افراد جناح ہسپتال میں ہلاک ہوئے اور وہاں درجنوں افراد کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔جناح ہسپتال کے شعبۂ ہنگامی امداد کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق جمعرات تک وہاں 329 افراد کی گرمی اور اس سے متعلقہ امراض کی وجہ سے ہلاکت ہو چکی ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شدید گرمی سے مرنے والوں کی تعداد 1140 تک پہنچ گئی ہے اس کے علاوہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے زیرِ انتظام چلنے والے ہسپتالوں میں 213 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ان ہسپتالوں کے علاوہ عباسی شہید ہسپتال سے 164، سول ہسپتال کراچی سے 123، لیاقت نیشنل ہسپتال سے 73، ادارۂ امراض قلب سے 51، ادارۂ اطفال سے 12 جبکہ دیگر نجی ہسپتالوں میں بھی 175 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کراچی میں گرمی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ رہی ۔اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی وجہ سے شہر کے مردہ خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش بھی ختم ہو گئی جس کی وجہ سے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان انور کاظمی کے مطابق گرمی کی لہر شروع ہونے کے بعد ابتدائی تین دن میں ہی 500 لاشیں ایدھی کے مردہ خانے لائی گئی تھیں ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لاشیں مردہ خانے میں نہیں آئیں۔۔جبکہ غیر سرکاری تنظیم جے ڈی سی نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار ہو چکی ہے تنظیم نے شہریوں سے اپیل کی وہ آ گے بڑھ کرمیتوں کو سنبھالنے میں ان کی مدد کریں ،کیونکہ گرمی کے سبب لاشین بہت تیزی کے ساتھ گلنے اور سڑنے لگیں ،پھولنے لگیں اور ان سے تعفن اٹھنے لگا ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں لاشوں کے انبار لگ گئے قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئ گور کنوں کی قلّت ہوگئ اور حسبِ معمول قبروں کی قیمتیں آسمان پر اس طرح جا پہنچیں کہ غریبوں کو اپنے مردے دفنانے کو خیرات مانگنی پڑی ۔
ایدھی کے ترجمان انور کاظمی کا کہنا ہے کہ ’سرد خانے میں 250 میتیں رکھنے کی گنجائش ہے۔ تین روز میں لائی گئی میتوں میں زیادہ تر عمر رسیدہ لوگوں، بچوں اور نشے کے عادی لوگوں کی میتیں شامل ہیں جن کے سر پر کوئی سایہ نہیں ہوتا۔‘ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لاشیں مردہ خانے میں نہیں آئیں۔کراچی میں ہلاکتوں میں کسی حد تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے بھی کہا ہے کہا کہ اگر لوڈشیڈنگ نہ ہوتی تو اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے بچا جا سکتا تھا۔
کراچی پر موت کے سائے کا سبب سمندر میں طوفان اشوبھاکی کی آمد پر سمندر سے چلنے والی ہوائیں پورے پانچ روز کے لئے بند ہو گئیں اور اس پر ستم بالائے ستم کہ شہر میں لوڈ شیڈنگ کے نام پر 48 ،،گھنٹے 36 گھنٹے کے لئے بجلی غائب کی گئ کراچی میں ہلاکتوں میں کسی حد تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے
پانچ دن تک شدید گرمی پڑنے کے بعد شہر کا موسم اب بہتر ہے لیکن اب بھی شہر کے ہسپتال اس گرمی سے متاثر ہونے والے افراد سے بھرے ہوئے ہیں۔اور کم ہو کر بھی روزانہ کی بنیاد پر مرنے والوں کی گنتی دو سو کے ہند سے کو چھو رہی ہے شدید گرمی سے کیسے بچا جائے؟
جسم پر موجود کپڑوں کو گیلا رکھنے سے جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ٹھنڈے پانی میں ہاتھ رکھیں اورکھڑکی کے سامنے پنکھا لگایا جائے تاکہ باہر موجود ہوا اندر کھینچی جا سکے۔کھلے کپڑے پہنے جائیں۔ ٹھنڈے کے بجائے نیم گرم پانی سے نہایا جائے۔پنکھے کا رخ اپنے جسم کے دیگر حصوں کے بجائے چہرے کی جانب موڑیں۔ جناح ہپستال کے شعبے ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کم از کم 200 افراد یا تو مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے یا پھر ان کی ہسپتال میں موت ہوئی ہے۔ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ مرنے والوں میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ افراد کی تھی: ’لُو کے شکار لوگوں کو ہسپتال لایا گیا جنھیں تیز بخار تھا اور ان کے اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں اس کے کئ نام ہیں لیکن سب سے خوبصورت نام بڑا مہربان اور نہائت رحم والا لگتا ہے ،پھر کیا وجوہات درپیش آ جاتی ہیں جس کے لئے اس نے قرانِ کریم میں فرمایا ہم کسی بستی پر ہلاکت نازل نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ ظالم نہیں ہو جاتی
کراچی پر چند روز کے اندر ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا سبب کیا اللہ تعالٰی کی کراچی والوں سے ناراضگی ہے اگر ناراضگی ہے تو کراچی والے اللہ کو راضی کیسے کر سکتے ہیں گھروں میں بھی جب والدین خفا ہو جاتے ہیں تو نیک اولاد ان کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ لیتی ہے ناں تو کیا
یہ طوفان اللہ تعالٰی کی جانب سے تنبیہ تو نہیں کہ ابھی بھی وقت ہے معافی سے تلافی کر لو ۔
الغرض شہر کراچی میرا وہ شہر نا پرساں ہے جو پورے ملک کے غریبوں کی آغوش ہے تو دوسری جانب میرے وطن کے ننگ وطن حاکموں کی چراگاہ ہے جس کی گھاس چر کر وہ بیرون ملک زندگیا ں گزارتے اور ہم پر حکومت کرتے ہیں اور عوام پی پی پی کو اور ن نواز کو اور کھڈّے لائن رکھّو مڈل مین کو
|