16.10.2026, 03:34pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » محمد عظیم اعظم
 

کیا سیاستدان قومی نظریئے کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں ۔از؛محمداعظم عظیم اعظم
14.07.2015, 02:05am , منگل (GMT+1)

آج یہ بات ہر محب وطن پاکستانی پوری شدت سے محسوس کررہاہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مُلکِ پاکستان میں جتنی بھی (خواہ سول یا آمر)حکومتیں آئیں اور گئیں سب ہی نے اپنے ذاتی، سیاسی یا پارٹی نظریات اور افکارکوہی مقدم جانا،اور اِسی کا ہی خوب خوب پرچاکیا، یوںوہ اپنی جتنی مدت کی حکمرانی امریکی آقاو ¿ں سے لکھواکرلائیں تھیں وہ جیسے تیسے گزارکر چلتی بنیں ،یعنی یہ کہ اِس دوران سب ہی نے اپنی پارٹی و ذاتی نظریہ کوتو متعارف کروایا مگریہ دیدہ ودانستہ قومی نظریہ کو پسِ پشت ڈالتی رہیں بالفرض اگر کبھی کسی کو قومی نظریئے کا خیال بھی آیا ،توبس وہ بھی ہلکے پھلکے انداز سے آیا، مگرپھریہ فوراََ ہی کسی نہ کسی مسئلے یا بحران میں دبادیاگیا،یا خود ہی دب کررہ گیا اور یوں حکمران جماعت کی حکومتوں اور حامی سیاستدانوں کا پارٹی نظریہ تو زورپکڑتاگیامگروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قومی نظریہ پسِ پشت جاتاچلاگیا ۔

    اَب اِس منظر میں قوم یہ کیوں ..؟ نہ سمجھے کہ برسرِ اقتدارجماعتوں اور سیاستدانوں کے نزدیک اپنی پارٹی و ذاتی نظریہ تو مقدم ہے مگر قومی نظریہ صرف ایوانوں ، دیوانوں اور قانون اور نصابی کُتب تک محدود ہوکررہ گیاہے ایسالگتاہے کہ جیسے ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں اور دوسرے حکومتی پِٹھوو ¿ںکے نزدیک یہ خیال قوی حیثیت سے معتبرہوگیاہے کہ قومی نظریئے کو بس یہیں (سردخانے ) تک ہی رکھاجائے اور اپنی اپنی پارٹیوں کا نظریہ عوام الناس اور دنیا میں پھیلایاجائے تاکہ اِن کی جماعتوں اور اِن کی ذاتوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔

    آج اگر کسی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سیکڑوں ڈالرفی بیرل بھی کم ہوجائیں تواِس کمی کا اثرہمارے یہاں بھی ذراساپڑہی جاتاہے اور پاکستان میں بھی تیل کی قیمتیں اُونٹ کے منہ میں زیرہ جتنی کم کردی جاتی ہیں جس کا کریڈٹ بھی ہمارے حکمران اپنی ذات اور اپنی پارٹی سے وابستہ وزراءو کارکنان اوراپنے حامی سیاستدان سے جوڑ دیتے ہیں پھریہ سب میڈیااور پبلک مقامات پر اوجھل اُوجھل کر پاکستان سمیت دنیابھرمیںیہ باورکراتے پھرتے ہیں کہ ہم نے اپنے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اِن کی خواہش و مرضی کے مطابق کمی کرکے ریلیف دیاہے،اور ہماری کوشش ہے کہ مُلک سے مہنگائی اور غربت کا خاتمہ ہواِنہیںاِسی جذبے حب الوطنی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں کمی پر مجبورکیاہے تاکہ اِن کی حکومت میں عوام کو سستی اشیائے ضروریہ میسرہواور عوام کے چہروں پرشادابی اور خوشیاں رقص کرنے لگیں ۔

    اور اِسی طرح اگر مُلک میں پہلے سے موجود بجلی بحران بڑھ جائے یا بڑھتاہی چلاجائے، تو حکمران ،وزراءاور سیاستدان قوم سے یہ کہتے ہیں کہ قوم بارش کی دُعائیں کرے،اِن کی اپیل پرجب بیچاری مفلوک الحال اور بجلی کے بحران سے پریشان حال معصوم قوم اللہ کے حضورپیش ہوکر اِس کے پیارے حبیب حضرت محمدمصطفیﷺ اور اہلبیت کے صدقے ہاتھ اُٹھااُٹھاکر بارش کے لئے دُعائیں کرنی شروع کردیتی ہے ، تواِس کی دُعائیں قبول ہوجاتی ہیں،اللہ کی رحمت بارش کی صورت میں نازل ہوجاتی ہے اور دریااور ڈیم بھرجاتے ہیں تو اِس کا بھی حکمران جماعت،وزراءاور سیاستدان خود کریڈٹ لے لیتے ہیں اور اپنے سینے پھولاپھولاکر کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نے قوم کو دعا کرنے کا مشورہ دیاتھااگر ہم قوم کو مشورہ نہ دیتے تو قوم بھی دعانہ کرتی اور جب قوم دعانہ کرتی تو بارش بھی نہیں ہوتی اور جب بارش نہ ہوتی تو مُلک کے دریااور ڈیم بھی نہ بھرتے جب ایسانہیں ہوتاتو آبی مسئلہ بھی حل نہ ہوتااور ہماری دعاکی اپیل پرقوم دعانہ کرتی تو مُلک میں سیلاب بھی نہ آتااور جب سیلاب نہ آتاتو پھر ہم بیرون ممالک سے امداد کی اپیل بھی نہ کرتے جب اپیل نہ کرتے تو مُلک میں ڈالرزبھی نہ آتے اور جب ڈالرز نہ آتے تو مُلکی معیشت اور اقتصادی صورت حال میںبھی بہتری نہ آتی اور جب ایسانہ ہوتاتو مُلک میں زرِمبادلہ بھی نہ بڑھتااور جب زرِ مبادلہ نہ بڑھتاتو مُلکی معیشت بھی عالمی منڈی میںمستحکم نہ ہوتی اور جب یہ سب کچھ نہ ہوتاتو مُلک بھی ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن بھی نہ ہوتا...

    الغرض کے میرے مُلک کے معاشرے اور میری تہذیب کے ہر زمانے کے ہر فرد میں خودفریبی اور ذاتی نمودونمائش اور شخصی و پارٹی نظریات و افکارکرناضرورت بننے کے ساتھ ساتھ کچھ فیشن بھی بن گیاہے جو کہ ہماری ترقی و خوشحالی کے لئے بڑی روکاوٹ ہے آج دنیاکی تاریخ گواہ ہے کہ روئے زمین کے جس مُلک کے جس معاشرے اور جس تہذیب کے جس زمانے کے لوگوں میں یہ عنصرغالب رہاوہ اپنے قومی نظریہ سے بھٹک گئے اور اپنے ذاتی و سیاسی نظریہ میں لگے رہے تو اِن کی ترقی اور خوشحالی رک گئی اور وہ دوسروں کے ہی رحم وکرم پررہے اور جب مدتوں بعد یہ اپنے اِس خودفریبی کے عنصرسے نکلے اور اِن میں اپنے قومی نظریہ کی اہمیت اجاگرہوئی تو اُنہوں نے چاردانگِ عالم اپنی ترقی و خوشحالی کے جھنڈے گاڑے اور خود کو منوایااور دنیاپر حکومت کی اور پھر ساری دنیامیں کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ترقی و خوشحالی کی اُوج ثریاکی بلندیوں کو بھی چھواہے۔

    موجودہ حالات میں میرااور آپ کا یہ جنت نظیردیس پاکستان جس نازک اور کٹھن دور سے گزررہاہے اِس صورتِ حال میں ہر پاکستانی پر یہ لازم ہوتاہے کہ وہ کم ازکم اِن حالات میں تو اپنے ذاتی وشخصی اور سیاسی نظریات سے مفادات اور فوائد کے لئے سوچناچھوڑدے اور اپنے اُوپر یہ فرض کرلے کہ اِسے اپنی ذات اور اپنی پارٹی سے مُلک کو ہر حال میں فائدہ پہنچاناہے اِس مُلک کو جس نے اِسے پالا،پوسا، اور عزت و آبروکی حفاظت کی ،اِسے آج اپنے ذاتی ، شخصی اور سیاسی فائدے کے حصول کے خول سے باہر نکل کر اپنے مُلک اور اپنی قوم کے فائدے اور اِس کی ترقی و خوشحالی کے لئے اپنے تن من دھن کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرناہے اور مُلک کو مفاد پرست سیاستدانوں اور ذاتی خول میں رہ کر اشرافیہ اور دوسروں کے فائدے کے لئے مُلک کو نقصان پہنچانے والوں سے بچانے کے لئے پاک فوج کا ساتھ دیناہے۔

:دیگر مضامین
(08.07.2015) آہ ۔۔۔۔ صارفین بجلی پر بجلی بم گرگیا .!!از:‌ محمداعظم عظیم اعظم
(22.06.2015) اچھے بھلے اِنسانوں کو. از:‌ محمداعظم عظیم اعظم
(15.06.2015) اَب بے حسی کوختم نہیں کیا جاسکتاہے.از"‌ محمداعظم عظیم اعظم
(12.06.2015) پاکستان کی سلامتی وخودمختاری کی دُشمن "را"‌ ۔از:‌ محمداعظم عظیم اعظم
(03.06.2015) اپنی زندگی دوسروں  کے نام ۔از:‌ محمداعظم عظیم اعظم
(28.05.2015) ہم ہی مداری ہیں اورہم ہی تماش بین.. .. . ؟؟ از:  محمداعظم عظیم اعظم
(25.05.2015) کراچی میں پانی کا بحران اور سعدی ؒ کا لالچی سُوداگر۔از:‌ محمداعظم عظیم اعظم
(11.05.2015) قوم سے محبت اور خلوص کا رویہ ہے...؟از:‌محمداعظم عظیم اعظم
(04.05.2015) معاف کیجئے گاحقیقی جمہوریت بھی ایسی ہے جیسے کہ.....؟؟از: محمداعظم عظیم اعظم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں