
دولۃ الکویت میں جمعہ 26 جون کو ھونے والے خودکش حملہ میں 27 افراد شہید اور 227 افراد زخمی ھوۓ تھے اس المناک سانحے کو 12 دن ھوگیے ھیں افق کویت پر ابھی تک اداسی اور غم کی فضا چھائ ھے
رمضان کریم کے مقدس مہینے میں ایسی درندگی ایسا ظلم ۔۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کسی کو ملہت ھی نہ ملی دھماکہ سے مسجد کی چھت منبر و محراب کھڑکی دروازے ٹوٹ گیے سعودی دھشت گرد نے خود کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے خود کو آڑایا اور ان گنت کے گناھوں کے کا خون کیا
اس وحشیانہ کاروائ میں ملوث دھشت گردوں کو گرفتار کیا جاچکا ھے مرنے والوں کی تدفین ھوچکی ھے مگر مسجد امام صادق میں ھونے والے خودکش حملہ میں شہید ھونے والے کم سن بچے محمد احمد جعفر کی ماں ام حسین کی غم سے بری حالت ھے
مآں تو اپنے بچے کو پریشان و اداس دیکھتی ھے تو تڑپ جاتی ھے سلام ھو اس ماں کی ھمت پر جس کا ایک ایک بچہ شہید اور دوسرا بیٹا شدید زخمی ھوا ھو
9 سال کا محمد احمد اپنے والدین کی آنکھوں کی روشنی و دل کا چین تھا اپنے کنبے کا راج دلارا ۔محمد احمد بہت چھوٹی عمر سے اپنے باپ کا ھاتھ پکٹر کر بڑے شوق سے نماز پڑھنے مسجد جاتا تھا
روزے بھی رکھتا تھا باپ اسکو بہت پیار کرتا اور ماں نثار ھوتی بھائ حسین بھی اسکو بہت عزيز رکھتا تھا ۔جمعہ 26 جون کو بھی اس نے اپنی رنگین شرٹ اتار کر سفید دشدشہ پہنا تھا
ماں نے ھمیشہ کی طرح اسکو عطر لگاتے دیکھہ کر بہت محبت سے کہا تھا جیتے رھو احمد
احمد نےمسجد جانے سے پہلے ماں کو پیار کیا تھا رمضان کے آخری عشرے میں احمد اپنے کنبے کے ھمراہ عمرہ کرنے جارھا تھا وہ حج بھی کرچکا تھا اسکو عبادت کرنا اچھا لگتا
وہ تلاوت بھی بڑے ادب و خوش الحانی سے کرتا تھا ۔وہ اپنے ھم عمر بچوں سے زیادہ اپنے بابا اور بھائ کی ھمراھی میں رھنا پسند کرتا تھا
بھائی اسکو اکثر کربلا کے شہداء کا قصہ سناتا مگر احمد کو تو کربلا کے کم سن شہد علی اصغر علیہ اسلام سے محبت تھی وہ ایام محرم میں علی اصغر شہید کے نام کی پٹی اپنے ماتھے پر باندھتا تھا
محمد احمد بڑا پیارا بچہ تھا اسکی کم سنی کی موت پر تو ھر آنکھ ھی اشکبار ھے۔شہید مرتے نیہں شہد زندہ رھتے ھیں شہید کا رتبہ و مرتبہ مقام بہت بلند ھوتا ھے
کویت کے کم سن شہید محمد احمد جعفر کی موت پر قومی یکجہتی کا بے مثال منظر دیکھنے کو ملا سارا کویت قبرستان شہدا کی تدفین کے موقع پر موجود تھا کویت کی مسجد الکبیر میں سنی اور شعیہ دونوں فرقوں کے ھزاروں افراد نے ایک ساتھہ نماز ادا کی جمعہ کو محمد احمد شہید ھوا ھفتے کے دن شہدا مسجد امام صادق کی تدفین ھوئی اتوار کے دن اس کے اسکول میں بھی بہت خاموشی تھی کم سن شہید کا اسکول کے بورڈ پر بھی نام تھا اسکو جانے کی جلدی تھی اس لیے چھوٹی عمر ھی سے اسکول میں اچھی کارکردگی کی بناء پر اسکو سڑیفیکٹ اور اسناد ملتی رھتی تھیں اس نے سارے کام کم عمری میں ھی کر لیے ھاں مجھے علم ھے تمھاری قبر معطر و منور ھے ھاں مجھے پتہ ھے تم جنت الفردوس میں ھو مگرتمھاری ماں کو کیسے تسلی دوں جو ھر روز تمھاری روشن پیشانی پر بوسہ دیتی تھی اور تم کو لمبی عمر کی دعايئں دیتی تھی جسکی آنکھوں سے لہو بہتا ھے جو ابھی تک سو نیہں سکی ھے وہ ابھی بھی پہلو میں تم کو ڈھونڈرھی ھے
اور تمھارے والد جو تعزیت کرنے والوں سے کہتے ھیں کہ مجھے پرسہ نہ دو مجھے مبارک باد دو میرا بیٹا مسجد میں شہید ھوا ھے سجدے کی حالت میں اللہ کے دربار میں گیا ھے مرتے وقت اللہ کا نام اسکی زبان پر تھا ایسی موت تو قسمت والوں کو نصیب ھوتی ھے ۔۔ میں شہید کا باپ ھو میرا بیٹا اتنی صغیر سنی میں بڑا کا کام کرگیا
اللہ پاک شہداء کے درجات بلند فرماۓ آمین