کسی بھی فقہ میں پوری اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیجئے مولائے کائینات حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک ایسی عظیم المرتبت ہستی ہیں جو اپنی پیدائش سے لے کر نبی آخر ،تاجدار کونین حضور اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال تک ان کے ساتھ سائے کی طرح رہے ۔ آنکھ کھولی تو حضور پاک کی گود مبارک میں ، چار برس کی عمر میں نبی پاک کی زیر کفالت آ گئے ۔۔ نو سال کی عمر میں ضد کر کے ان کے اور حضرت خدیجہ الکبری رض کے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں ۔ جب نبی پاک نے قبیلے کے چالیس قرابت داروں کو بتایا کہ اللہ ایک ہے اور وہ ان کے آخری رسول ہیں تو پورا مجمع خاموش رہتا ہے اور ایک بچہ تین بار گواہی دیتا ہے کہ “میں یقین لایا کہ آپ صادق اور امین ہیں “۔۔ وہ مولا علی تھے ۔۔پھر انہیں خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہرہ کے ساتھ ہمسفری کا شرف بخشا۔
زندگی کے ہر نشیب و فراز میں، امن و جنگ میں ، ہجرت درپیش رہی کہ سکونت ، حضور پاک کے ساتھ مولا علی کھڑے ملتے ہیں ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کبھی اپنا بھائی کہہ کر مہاجر و انصار کا فلسفہ سمجھا رہے تو کہیں انہیں بتا رہے کہ تم میرے لیئے ایسی نسبت رکھتے ہو جیسے ہارون کی موسی کے ساتھ ۔۔۔ ، کبھی نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لیئے آتے ہیں تو مولا علی کو نفس رسول بتاتے ہیں ۔۔ درہ خیبر کو اکھاڑنے سے ایک رات پہلے نبی پاک ص فرماتے ہیں کہ میں علم اس کو دونگا جو اللہ پاک اور اس کے رسول کو سب سے پیارا ہے ۔۔ اور صبح علم علی کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں ۔۔ کبھی اپنے آخری حج سے واپسی پر مقام غدیر پر چبوترے پر علی کا ہاتھ بلند کر کے اعلان فرماتے ہیں “ جس جس کا میں مولا اس اس کا علی مولا “ ۔۔ کبھی قبیلے سامنے فرماتے ہیں کہ “ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ “ ۔۔ کبھی نبی پاک فرماتے ہیں “ علی حق ہے اور حق علی ہے “ ۔۔ کبھی نصیحت فرماتے ہیں “ علی کو دیکھنا عبادت ، علی کو سننا عبادت ہے “ ۔۔
پھر رہتی دنیا تک مومن اور منافق کے درمیان یہ کہہ کر لکیر کھینچ دیتے ہیں “ مومن کبھی زکر علی سے بغض نہیں رکھ سکتا اور منافق کبھی زکر علی سے خوش نہیں ہو سکتا “ ۔ ۔۔ مولائے کائینات کی شان میں سب سے زیادہ احادیث مبارکہ ہیں ۔
حضور پاک ص دنیا سے وصال فرماتے ہیں تو علی ابن ابی طالب ہی کو طلب فرماتے ہیں اور انہیں کی آغوش مبارک میں اللہ پاک سے جا ملتے ہیں ۔۔ پھر مولا علی ہی انہیں ان کی آخری آرامگاہ کی طرف لے کر چلتے ہیں ۔۔۔۔ مولا علی ، حضور پاک کے بغیر بہت بہت افسردہ رہتے تھے ۔۔ اکثر گریہ کرتے اور کہتے “ میرے رفیق اعلی چلے گئے “ ۔
شائد ہم سے کوئی بھی اس غم کو محسوس نہ کر سکے کہ جب مولا علی مدینہ کی مٹی کو یہ اعزاز دیتے ہیں کہ وہ رہتی دنیا تک حضور اقدس کی جسد مبارک سے بقیہ انوار رہے گی اور تا قیامت ان کی خوشبو سے مہکتی رہے گی ۔۔۔ تب مولا علی کتنے حزن و ملال میں ہوں گے ۔۔
تاریخ بتاتی ہے مولا علی کے آنسو رخسار مبارک پر گرتے جاتے اور وہ دن رات حضور پاک ص کی یاد میں ڈوبے رہتے ۔۔۔الصلوات و السلام و علیک یا رسول اللہامام الساکین ، امالمتقین حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی کہی ہوئی نعت مبارک جو مرثیہ کے خواص لئے ہوئے ہے آزاد نظم کی صورت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہوں ۔۔۔جو اسی حزن و ملال کی ایک تصویر ہے ۔لیکن اس میں ایک ایسا پیار اور بے اختیاری ہے کہ آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں ۔۔ اور دل میں رشک کی سی کیفیت ۔۔
آہ ۔۔۔ میرے رفیق اعلی چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ ! جب سے میں نے اپنے رفیق اعلی ، نبی پاک ص کو کفن پہنایا ہے
میں ان کے چھوڑجانے کے غم میں
بہت غمگین ہوں
بہت آرزردہ اور دلگیر ہوں
ہائے !
وہ اللہ کے رسول جب سے خاک نشین ہوئے ہیں
یوں سمجھو جیسے ہر طرف اندھیرا ہوا ہے
مصبیتوں نے جیسے ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے
یہ سچ ہے ۔۔۔ ۔ لوگو
جب تک ہم جی رہے ہیں
اللہ کے حبیب جیسا کسی کو نہ دیکھے گے
ہائے ان جیسا ہم کسی کو بھی نہ پائیں گے
اللہ کے حبیب
جو امن و سلامتی کا سب سے مظبوط قلعہ تھے
جہاں ہر دشمن سے پناہ اور حفاظت ملتی تھی
اللہ کے حبیب
صبح صبح جب اپنے گھر سے نکلتے تھے
یوں جیسے سراپا نور وہدایت دکھتے تھے
جب جب وہ ہم میں چلتے پھرتے تھے
ہم تو انہیں بس ۔۔۔ دیکھا کرتے تھے
اے اللہ کے حبیب
آپ کے یوں چلے جانے سے
دن کالی رات سے زیادہ تاریک ہو گیا ہے
آپ کے وصال پر
میں غم سے اب بہت نڈھال ہو گیا ہوں
بہت اداس، بہت سوگوار ہو گیا ہوں
اے اللہ کے حبیب
انسانی بدن اور اس کے پہلو
جن جن شخصتیوں کے آئینہ دار ہیں
ان میں سب بہتر اللہ کے حبیب آپ ہیں
تمام مرنے والوں میں جن کو خاک نے چھپا لیا ہے
ان میں سب سے بہتر اللہ کے حبییب آپ ہیں
اے اللہ کے حبیب
آپ کے رخصت ہو جانے سے
معاملات انسانی ایک ایسی کشتی میں پڑ گئے ہیں
جو سمندر کے اندر اونچی موجوں میں گھر گئی ہے
زمین اپنی وسعت کھو چکی ہے حبیب خدا
زمین اب بہت تنگ ہو گئی ہے حبیب خدا
جب سے یہ خبر عام ہوئی ہے
کہ ۔۔ اللہ کے نبی ص رخصت ہوگئے
جب سے مسلمانوں پر
ایسی مصبیت نازل ہوئی ہے
جیسے چٹانوں میں شگاف پڑ جائیں
بھلا چٹان کے شگاف کا بھرنا کہاں ممکن ہے ۔۔ ؟
اے اللہ کے حبیب ۔۔۔
میرے رفیق اعلی ۔۔ پیارے نبی
اس مصیبت کو ہم لوگ کیسے سہہ پائیں گے
اور جو ہم میں کمزوریاں پیدا ہو گئی ہیں
ان کی تلافی ہم لوگ کیسے کر پائیں گے
اے اللہ کے حبیب
بلال جب ہر نماز میں
بےقراری سے آپ کو پکارتا ہے
میرے دل میں
ہر بارایک نیا حشر بپا کر دیتا ہے
اے میرے غمگسار ۔۔ میرے رفیق اعلی
آپ کے وصال کے بعد
میں بہت تنہا ہو گیا ہوں ، اکیلا رہ گیا ہوں
ڈاکٹر نگہت نسیم