|
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔۔۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
12.07.2015, 08:32am , اتوار (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم
ماہِ رمضان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں شبِ قدر ہے، جس میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائی اور اس رات کو دیگر تمام راتوں پر فضیلت وبرتری دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اس قرآن کو شبِ قدر میں نازل کرنا شروع کیا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔اس میں فرشتے اور روح القدس ہر کام کے انتظام کے لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں۔یہ رات طلوع فجر تک امن وسلامتی ہے۔‘‘ (القدر)
حضرت انس بن مالک نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو حضور اقدس نور مجسم صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ یہ مہینہ تم میں آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی آئی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو جو شخص اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا ، اور محروم نہیں رکھا جاتا اس کی بھلائیوں سے مگر وہ جوبالکل بے نصیب ہو ۔ (ابن ماجہ)
حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیئسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔ یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑ ھا ہوا ہے ، اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے ، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے نہ گرمی، اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو سورج تیز شعاعوں سے نہیں نکلتا بلکہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے ۔
شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں: اس سورت میں شب قدر کے متعدد فضائل مذکور ہیں۔ پہلی فضیلت: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شب میں قرآن کریم نازل فرمایا، جو نوع انسانی کے لیے ہدایت ہے اور دنیاوی واخری سعادت ہے۔ دوسری فضیلت: سورت میں اس رات کی تعظیم اور بندوں پر اللہ کے احسان کوبتانے کے لیے سوالیہ انداز اختیار کیا گیا۔ارشاد ربانی ہے: “ اورتمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟‘‘ تیسری فضیلت: یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ چوتھی فضیلت: اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، فرشتے خیر وبرکت اور رحمت کے ساتھہ نزول کرتے ہیں۔ پانچویں فضیلت: یہ رات سلامتی والی رات ہے، چونکہ اس رات میں بندوں کی عذاب وعقاب سے خلاصی ہوتی ہے۔ چھٹی فضیلت: اللہ تعالیٰ نے اس شب سے متعلق پوری ایک سورت نازل فرمائی جو روز قیامت تک پڑھی جائے گی۔
حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’گناہ گاروں کی سسکیوں اور ہچکیوں کی آواز مجھے تسبیح و تہلیل کی آوازوں سے زیادہ پسند ہے ‘‘ اس لئے فرشتے یادِ خدا میں آنسو بہانے والی آنکھوں کو دیکھنے اور خوفِ خدا سے نکلنے والی آہوں کو سننے کے لئے شب قدر کی رات زمین پر اترتے ہیں ۔
شب قدر میں قبولیتِ دُعا شب قدرمیں ایک ایسی ساعت ہے کہ جس میں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ ام المومنین سیّدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتائیں کہ اگر مجھے لیلة القدر (شب قدر) کا پتہ چل جائے تو میں کونسی دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو یہ دعا مانگ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ تُحِبُّ العَفوَفَاعفُ عَنِّی ”اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو درست رکھتا ہے مجھے بھی معاف کر دے“ آیئے دوستو ! شب قدر میں ایسی جامع دعائیں مانگیں جو دونوں جہانوں میں فائدہ بخش ہوں ۔ مثلاً اپنے گناہوں کی بخشش اور رضائے الٰہی کے حصول کی دعائیں مانگیں ۔ اللہ پاک اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے ۔ الہی آمین
طالب دعا ڈاکٹر نگہت نسیم
|