|
بدلے گا جب ہی حال جب اللہ کو چاہوگے؟۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
11.07.2015, 04:01am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔۔ شمس جیلانی
توبہ جوکرکے دیں پرا گر لوٹ آوگے۔ آسان زیست ہوگی مُرادیں بھی پا ؤگے ۔یہ مہینہ احتساب کا مہینہ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ بھولے ہوئے لوگ واپس توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئیں اور بندوں کے دوسرے تمام اچھے افعال میں سے یہ فعل اللہ سبحانہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس سلسلہ میں بھی ایک مشہور حدیث موجود ہے جو دہرانے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اہل ِ علم سبھی جانتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توبہ اسی مہینے میں کیوں؟ اس لیے کہ اس مہینے میں لوگوں کے دل نرم کر دیتا ہے اور وہ ماحول بن جاتا ہے جو دوسرے دوسرے مہینوں میں میسر نہیں ہوتا ۔ اس مہینے کی اہمیت کو حضور (ص) نے مزید نمایاں فرماتے ہوئے ایک مشہور حدیث میں اس طرح واضح فرمایا ہے جوکہ مستند روایات کے مطابق اسطرح ہے “ ایک روز حضور (ص) نے تین مرتبہ آمین فرما یا ،صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ حضور(ص) آپ کس سے گفتگو فرمارہے تھے، اور کس بات پر آمین فرمارہے تھے؟ جواب میں فرما یا کہ جبرئیل علیہ السلام آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہلاک ہوا جس کے سامنے آپ (ص)کانام لیاگیا اور اس نے درود شریف نہیں پڑھی، میں نے کہا آمین ، پھر فرمایا وہ ہلاک ہوا جس نے ماں باپ میں سے دونو ں یا کوئی ایک پایا اور ان کی دعا کے ذریعہ اپنی مغفرت نہیں کرالی،میں نے کہا آمین۔پھر کہا کہ وہ ہلاک ہوا جس نے رمضان شریف پایا اور اپنی جہنم سے نجات نہیں کرالی،
میں نے کہا( آمین) اس میں تینوں باتیں بڑی اہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے درود کو اپنی اپنی اور فرشتوں کی سنت قرار دیتے ہوئے ہم سب کو پڑھنے کا حکم دیا ہے اور حضور (ص) نے ایک صحابی کے جواب میں فرمایا کہ جتنا زیادہ سے زیادہ وقت درود شریف پڑھنے پر صرف کرو وہ بہتر ہے؟ پھر جہاں جہاں اللہ سبھانہ تعالیٰ نےا پنے حقوق کا ذکر کیا ہے اس کے فورا“ بعد حقوق والدین کا ذکر فرمایا ہے؟ اسکے علاوہ متعدد حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس مہینے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربان ہوجاتا ہے۔ لہذا یہ بہترین موقعہ ہے توبہ کرکے اسکی رحمت سے فائدہ اٹھانے کا، کیا پتہ کہ اگلا رمضان ملے یا نہ ملے ؟ اسی مہینے کے پہلے عشرے میں دیکھئے کہ تقریبا ً دوہزار آدمی کراچی اور سندھ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، گوکہ گرمی کی لہر تو پوری دنیا میں آئی ہوئی ہے، جوکہ بقول سائنس دانوں کے گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے، وہی یہاں بھی آئی اور پورا ملک متاثر ہوا مگر سب سے زیادہ تباہ کاریاں کراچی میں ہوئیں۔ آخر کیوں ؟ اس کیوں کا جواب کیا ہے؟ سوچئے ! کہ اللہ تعالیٰ ہر عذاب کے لیے کراچی کو ہی کیوں چنتا ہے، پہلے اس کا امن و چین تباہ ہوا ،اب اتنی جانیں اس گرمی نے لے لیں۔اسکے لیئے اہلِ کراچی کو سوچنا چاہیئے ، اگر قوموں کی تاریخ آپ قرآن میں دیکھ جائیں تو آپ کو جواب مل جائے گا کہ “ جب قوموں نے یا کسی ایک شہر یا قصبہ نے برائی کو برائی سمجھنا چھوڑدیا اور برائیوں سے روکنے کے بجائے ایک دوسرے کی حمایت کر نے لگے تو وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عذاب نازل فرمادیا۔ کیونکہ اس امت کے لیے اجتماعی عذاب حضور (ص) کی دعاؤں کی طفیل ہٹالیا گیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرقوں میں بٹ کر لڑنے کا عذاب اس امت کے لیے بھی جو باقی رکھا تھاوہ جاری ہے ویسے تو اس نے پورے عالم اسلام کو لیاہوا ہے مگر پاکستان اور روشنیوں کے شہر کراچی میں کئی عشروں سے اندھیر مچا ہوا؟
کبھی کوئی اللہ کا بندہ آجاتا ہے تو امیدیں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر یکایک ٹوٹ جاتیں ہیں اس لیے کہ ہم اس کو عذاب نہیں سمجھتے اگر سمجھتے ہوتےتو توبہ کی طرف مائل ہو جا تے۔ یہ اس وقت تک ہو تا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ راضی نہ ہو جائے؟ پچھلے چند دنوں سے ایک ہنگامہ برپا تھا کہ ایک یاکئی نہ دیدہ ہاتھ حرکت میں آگئے تھے اور وہ ملک کو دوبارہ جنت بنانا چاہتے تھے۔ لہذا دھوم تھی کہ یہ ہورہا وہ ہورہا ہے رینجرز نے چھاپے بھی مارے امید بندھی کہ اب شاید برائیاں دور ہو جائیں گے۔ کہ یکایک ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا جس کی طرف توجہ ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں دلائی تھی کہ ان کی مدت ِکار 8جولائی کوختم ہو نے والی ہے اس کا بڑھانا انہیں کے ہاتھ میں ہوگا، جن پہ چھاپے پڑھ رہے تھے یا پڑنے والے تھے۔ ان سے کیسے امید جاسکتی تھی کہ وہ اپنے ہی خلاف استعمال کر نے کے لیے بلا حیل و حجت مدت بڑھادیں گے؟ ایک اہم صاحبِ اقتدار تو اس برے وقت میں ملک ہی چھوڑ کر ہی چلے گئے کہ انہیں اعتکاف کرنا تھا؟ وہ کافر ہی ہوگا جو کہ اعتکاف کو منع کرے کیونکہ انتہائی نیک کام ہے ؟ لیکن جو صاحب ایک ایٹمک طاقت کے جوہری کنجی کے امین ہوں وہ آن ڈیوٹی رہتے ہوئے کیسے اعتکاف اختیار کرسکتے ہیں؟ جبکہ حالات یہ ہوں کہ پڑوسی ملک سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوں ؟ اس کا صحیح طریقہ یہ تھا اگر وہ پہلے سے منصوبہ بندی کرتے کہ خود رخصت پر جاتے اور اپنی جگہ کسی کو مقرر کرکے اور وہ راز اسے منتقل کرکے جاتے ؟ تبھی وہ یک سوئی سے اعتکاف کے تقاضے پورے کر سکتے تھے۔ یہ ہی واحد صورت تھی۔مگر یہ پروگرام جلدی میں بنااور اب جہاں تک مجھے علم ہے دستور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اپنا نائب مقرر کر سکیں ۔ہاں اگر پہلے منصوبہ بندی کرتے تو انہیں دو تہائی اکثریت ہونے کی بناپر یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ مطلوبہ ترمیم پاس کرالیتے اس طرح انہیں آئینی نائب وزیر اعظم مل جاتا اور وہ بے فکری سے اعتکاف کے تقاضے پورے کر تے اور ثواب کماتے؟ سوائے اس کے یہ اعتکاف ایسا ہو سکتا ہے کہ جیسا ہم نے اپنے انہیں کالموں میں لکھا تھا کہ ایک مل کے مالک ہر سال بلا ناغہ اعتکاف میں بیٹھتے تھے ، اس زمانے میں وائر لیس فون نہیں تھے ۔ان کا ٹیلیفون وہیں منتقل ہوجاتا تھا ، دنیا سے باخبر رہنے کے لیے ٹی وی اور ریڈیو بھی وہیں چلاجاتا تھا۔ وہیں فائیلیں بھی آتی جاتی رہتیں ان کا با قاعدہ مطالعہ کرتے اور دستخط بھی فرماتے اور ہوتے وہ اعتکاف میں تھے۔ جبکہ اعتکاف کے لغوی معنی ہی محدود ہوجانے کے ہیں اور مذہبی اصطلاح میں ذکر اللہ اور عبادت تک محدود ہوجانے کے ہیں ؟ اور اس میں دنیا وی رابطے کی کو ئی گنجائش نہیں ہے چونکہ یہ سنت ہے اور کاروبارِ دنیا کرتے ہوئے حضور (ص) سے یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ اسمیں دین اور دنیا ساتھ چلائے ہوں، سوائے بیت الخلاءتشریف لے جانے کے کیونکہ اس زمانے میں گھروں یا مساجد میں بیت الخلا ءبنانے کا بقول حضرت عائش صدیقہ (رض)رواج نہیں تھا ۔ پھر اس طرح اس عبادت میں ریاکاری کابھی پہلو نکلتا ہے ۔کہ فعل مشکوک ہو جاتا کہ وہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے تھا یا اپنے نفس کو تسکین دینے اور دکھاوے کے لیے تھاکہ ہم تو بہت ہی متقی ہیں ؟ جس کے لیے وعید یہ ہے کہ “ بدترین عبادت وہ ہے جو دکھاوے کے لیے ہو اور اسے روز ِ قیامت اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ فرماکر بندے کے منہ پر ماردے گا کہ یہ خالص میرے لیے نہیں تھی لہذا میرے پاس اسکا کوئی صلہ بھی نہیں ہے “
اس کمی کو دور کرنے کے لیے جنوبی افریقہ سے سپہ سالار صاحب کو یہ ہمیں یہ پتہ نہیں کہ آنا پڑا یا دورہ ہی ایک دن کاتھا۔ دوسرے یہاں وزیر ِ داخلہ کوبھی ایک پریس کانفرنس کرنا پڑی اور اس میں انہوں نے میڈیا سے بڑی درمندانہ اپیل کی کہ خبر کو خبر سے پہلے مت خبر بنادیا کرو ؟ ہاں خبر بن جائے تو ضرور بعجلت لگاؤ کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر انہوں نے بڑی سیاسی فراست سے اعلان کیا کہ اگر سندھ حکومت نہیں چاہتی ہے تو ہم ایک دن کے بعد اس کو ہٹالیں گے۔ چونکہ کل یوم ِ شہادت علی کرم اللہ وجہہ ہے اسکی وجہ سے ہم اسے ایک دن کے لیے اختیارات مرکز کی طرف سے دیدیں گے؟ جس میں اس بات کاکھلا اشارہ تھا کہ مرکز بھی کسی قانون کے تحت مدت میں توسیع کرسکتا ہے ۔ان کی کانفرنس کے بعد پھر لوگ سر جوڑ کے بیٹھے کہ یہ تو “ مس فائر “ ہوگیا اور جس طرح فیصل آباد کے تمام راستہ گھنٹہ گھر چوک پر جاکر ختم ہوتے ہیں یہاں بھی وہ گورنر ہا ؤس تک گئے اور وزیر اعلیٰ ایک مہینے کے لیے توسیع دینے پر تیار ہوگئے۔ پھرافواہیں یہ اڑیں کہ اختیارات مشروط ہیں جو کہ اب حقیقت بن گئیں کہ اس کو کراچی تک محدود کردیاگیا۔ اگر اچھے لوگ خاموشی اختیار کیے رہیں گے اور کوئی پیش رفت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف نہ ہوئی تو امید نہیں ہے کہ کوئی بہتری آسکے ۔ اللہ سبحانہ تعالٰی ہم سب کو عقل عطا فرمائے تاکہ وہ یہ موٹی سی بات سمجھ سکیں کہ جب تک وہ ناراض ہے کچھ نہیں ہوسکتا ؟
|