

مجھ جیسے ایک کم مایہ شخص کے لیئے ایک ایسے شخص پر کچھ لکھنا جوکہ ہمہ صفت ہو ،جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔یہ ہی جھجک تھی جو کہ ابھی تک کچھ لکھنے سے مانع رہی ۔دوسری طرف انکا احسان میرے اوپر اتنا عظیم ہے کہ انہوں نے اس حقیر کی ایک کاوش کو جو کہ حضور (ص) کی سیرت کی شکل میں ہے اورمیں نے مرتب کی تھی اور اسکے بعد میری ایک درجن سے زائد کتابیں نہ صرف شائع کیں ، بلکہ میری عدم مو جودگی میں بہت ہی محنت سے نہ صرف شائع کرائیں ،بلکہ اہل ِ علم اور لائبریوں تک بھی پہنچائیں اور اس سلسلہ میں انہوں نے جس خلوص ایثار اور اپنایت کا مظاہرہ بار بار فر مایا وہ صرف اہل اللہ کا خا صا ہے کیو نکہ وہ ہر کام خدا کے لیئے کرتے ہیں اور کسی صلے کے خواہشمند نہیں ہوتے ۔
چونکہ یہ حدیث ِ مبارکہ ہے “ آدمی اپنے لین دین سے پہچانا جاتا ہے “میں سمجھتا ہوں کہ وہ مصنفین جو پاکستانی پبلشر ز کے ڈسے ہو ئے ہیں۔ انہیں میں اپنے تجربہ کی بنا پر بلا جھجک یہ مشورہ دے سکتا ہوںکہ وہ ایسے لوگوں کے لیئے ایک ٹھنڈی چھا ؤں ثابت ہونگے اور ان کی اس خوبی سے وہ فا ئدہ اٹھاسکتے ہیں۔یہ بات تو یونہیں بیچ میں آگئی اور عرض کردی کہ اچھا مشورہ
دینا اور اچھوں کو اجا گر کرنا ہر مومن کا فرض ہے تاکہ دوسرے تحریص میں آکر ہی سہی اپنی اصلاح کر لیں۔
ہاں ! تو میں عرض کر رہا تھا کہ احساس ِاحسانمندی کا تقا ضایہ تھا کہ میں بہت پہلے ان پر کچھ لکھتا۔ کیونکہ حکم ِ خداوندی یہ ہی ہے کہ “ احسان کا بدلہ احسان “ ہے۔لیکن میں پریشان تھا کہ ایک ہمہ صفت شخصیت کی کس کس صفت کو اجا گر کروں اور کس کو چھوڑدوں،نیز ڈر رہا تھا کہ میں لکھتے ہوئے انصاف بھی کر سکونگا یا نہیں۔ کیو نکہ ایک پریشانی یہ بھی تھی کہ مجھ جیسے ایک کم تر انسان سے کو ئی کو تاہی نہ ہو جائے اور کوئی وصف ان کا رہ نہ جا ئے۔ آخر میں نے کمر ِ ہمت کسی طرح کس ہی لی۔
قارئین ِگرامی ! اسلام نے ماں باپ کے ذمہ یہ فرض رکھا ہے کہ وہ جب اولاد کو نام دیں تو اچھا دیں۔ اس میں بڑی حکمت ہے کہ نام اثر رکھتے ہیں۔ وہ نام تو اپنی حد تک اچھا ہی دیتے ہیں۔ لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں ہو تا کہ جو نام وہ دے رہے ہیں وہ اسم با مسمّیٰ بھی ہو گایا نہیں ۔کچھ بچے ماں باپ کے دیئے ہو ئے ناموں کا الٹ بھی نکلتے ہیں، مگر نیک ماں باپ یا بزرگوں کے دیئے ہو ئے نام ہمیشہ مستقبل میں وہی خصو صیات کے حامل پائے گئے جو دینے والے کی نیت تھی۔ طاہر صا حب کی عملی زندگی کو دیکھ کر یہ ماننا پڑے گا کہ انکے والدین یقینا ً نیک انسان تھے ،جس کا صلہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں ایک نیک اولاد کی شکل میں عطا فر مایااور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ نیک اولاد کو احادیث میں صدقہ جاریہ فرمایا گیاہے ۔ یہ صا حب جن کا نام طاہر حسین ہے وہ واقعی عملی طور پر ایک پاک کردار اور حسینِ کردار کے حامل ہیں ۔بہت سے لوگ ایسے ہو تے ہیں جنہیں بغیردیکھے مجھ جیسے اجنبی، ہزاروں میل دور بیٹھ کر انکے گر ویدہ بن جا تے ہیں اورمحبت کر نے لگتے ہیں۔ یہ ہی حال میرا بھی ہوا کہ ایک عرصہ تک سوائے فون پر بات کرنے کے، ان سے شرف ِ ملا قات بھی حا صل نہ تھا۔ لیکن چند دن ان کی آواز سننے کو نہ ملے تو میں پریشان ہو جا تا تھا کہ یا اللہ خیر کر نا۔ یہ یاتو ان کی آواز کے جادو کا کرشمہ ہے یا پھراللہ والوں کی آواز ہو تی ہی ایسی ہے کہ دل ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اللہ سبحانہ تعا لیٰ قر آن کریم میں فر ماتے ہیں کہ “ مومن کی مومن کے ساتھ محبت ازلی اور بے لوث ہو تی ہے ً ۔
اب آئیے اس “مجمو عہ ِخوب “ کی خو بیوں کی طرف۔ سب سے پہلے مذہبی خدمات لیتے ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ مومن جا ہل نہیں ہوسکتا،نیزاسلام اور جہالت کا کوئی ساتھ نہیں ہے۔ اسی لیئے سب سے پہلے جو چیزاس نے اپنے نبی پا ک (ص)کو سکھا ئی ،وہ علم و حکمت تھی اور اسی کو حضور (ص) نے آگے بڑھانے کے لیے ہمیں حکم دیا ہے۔ ہمارے طاہر سلطانی صاحب نے بھی پہلے علم حاصل کیاپھر ایک دینی مدرسہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نام سے علم بانٹنے کے لیے قائم کیا ۔اور اس میں بھی اہتمام یہ ہے ،جو کہ ہمارے کانوں تک کہیں سے پہو نچا ہے کہ اگر کو ئی شخص نا جا ئز کما ئی ان کو دیدے یا غلط مد کا پیسہ مدرسے کو دیدے تو وہ اس کے گھر جا کر واپس کر آتے ہیں۔ یعنی وہ مدرسے میں بھی نا جا ئز پیسہ لگا نے اور طلبا ءپر خر چ کرنےکے ر وا دار نہیں ہیں۔


یہ وہ کردار کی بلندی ہے جو ایک طاہر پرہی جچتی ہے ۔اب آئیے علمی خدمات میں بھی دوسرا رخ اجا گر کر تے ہیں۔ وہ میرے خیال میں پہلے آدمی ہیں جنہوں نے پاکستان میں حمد کی تر ویج اور ترقی کو اپنا اوڑھنا بچھو نا بنا یااور اس پر جس قدر انہوں نے کام کیا ہے شاید ہی کسی نے کیا ہو!پھر اس میں ندرت یہ کہ ماہانہ طر حی مشاعرہِ حمد شروع کیااور اس کی اشاعت ہر ماہ ماہنامہ ِ جہانِ حمد میں جس کے وہ مدیر ہیں کی اور اپنے دوسرے کتابی سلسلہ ارمغان ِحمد میں بھی شروع فر مائی ۔اس سے لوگوں کی بڑی حو صلہ افزائی ہوئی کیو نکہ حمد اور نعت میں اسا تذہ پہلے ہی اتنا کچھ کہہ گئے ہیں کہ لوگ “ توارد “ کے ڈر سے زبان کھو لتے ہو ئے گھبراتے تھے ۔اس کاوش سے وہ ڈر جاتا رہا اور نئے شاعروں کو نئی راہ مل گئی۔ اس لیئے کہ انہوں نے یہ نیا اندازاپنایا کہ اسا تذہ کی ہی زمین میں اورانہیں کے مصرع طرح پر حمد کہنا شروع کی۔اس سے لوگوں کی بہت حو صلہ افزائی ہوئی اورآج اچھی خا صی تعداد میں ںنے لوگ ان کی کو ششوں سے اس میدان حمدمیں رو شناس ہو ئے ۔ کمال یہ ہے کہ انہوں نے حمد کے ساتھ نعت کو بھی فرا موش نہیں کیا۔ اس کو بھی شانہ بشا نہ آگے بڑھا تے رہے ،وہ خو د بھی بہت اچھے حمد گو اور نعت گو ہیں ۔اور آپ جانتے ہیں کہ شعر میں زور بغیر عشق کے کبھی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے عشق ضروری ہے وہ چاہے عشق ِ حقیقی ہویا عشق ِ مجا زی ۔ جبکہ عشق ِ مجا زی لاحق ہو جانا اور اس میں ہو ش کھو بیٹھنا ایک وقتی اور سفلی جذ بہ ہے۔ جس کے بار ے میں حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ دو رِ جہالت کے تمام شعرا ءامرا ؤ بن قیس کی زیر قیا دت قیامت کے دن جمع ہو نگے اور اپنی ابدی مقام کی طرف لے جائے جائیں گے؟
اس کا الٹ یہ ہے کہ تما م مو من شعرا ئِ کرام حضرت حسان (رض) بن ثابت کے زیر ِ قیادت وہاں جمع ہوں گے ۔کیو نکہ عشقِ حقیقی اللہ اور رسول (ص) سے محبت کرنے کے پاک جذبہ کانام ہے۔ اور یہاں متعدد احا دیث میرے اس ثبوت ِ دعوےٰ کے لیئے موجود ہیں کہ حضور (ص) نے فرمایاکہ جو جس سے محبت کرتا ہے وہ قیامت کے دن جنت یا دوزخ میں اسی کے ساتھ ہو گا ً چونکہ حضرت حسان (ص)بن ثابت وہ ہستی تھے کہ جن سے اللہ اور حضور (ص) راضی تھے اور حضور (ص) نے قریش کے بیہودہ گوشاعروں کی بادہ گوئی کا جواب دینے کا نہ صرف انہیں حکم دیا، بلکہ ان کو اپنے منبر پر اپنے سامنے بٹھا کر سنا بھی ۔اب اس سے اخذکر لیجئے کہ عشق مجازی کے شاعر امراؤ قیس بن قیس کی قیادت میں کہا ں جا ئیں گے؟ اور حضرت حسان (رض) بن ثابت کی راہ پر چلنے والے انکی قیادت میں کہاں رونق افروز ہو نگے۔ مزید سمجھنے کے لیئے قر آن میں سورہ الشعرا کی ان آیات کو ملا حظہ فر ما لیجئے جو شعرا ءکے بارے میں ہیں، وہاں بھی انہیں آیتوں میں جہاں شاعری کی مذمت آئی ہے، وہیں تعریف بھی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ طاہر سلطانی صا حب انشا اللہ اس قافلے میں اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کے ساتھ ، اپنے تمام مجمو عہِ حمد اورنعت اٹھائے ہوئے شامل ہونگے جس کے قائد حضرت حسان (رض) بن ثابت ہونگے اور انکے ہمراہ حضور (ص) کے قافلے سے جا ملی ںگے ۔کیوں کہ طاہرسلطانی صاحب جوعرف عام میں شاعر ِ حمد و نعت کہلاتے ہیں، انہوں نے ارمغان حمد، جہان حمد جاری کر کے اردو میں حمد گوئی کی نئی طرح ڈالی۔ یہ لکھنے سے آپ خدانخواستہ یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ میں اردو میں اولین حمد گوؤں کی نفی کر رہا ہوں،یا میں نعوذو با اللہ عربی کے استعمال کے خلاف ہوں۔عربی میں جس طرح اپنی ثنا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود فرمائی ہے اور جو قر آنی عربی میں ہے، اس جیسا کہن اتو کیا سوچنابھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ نیز میں اسکا بھی قائل ہوں کہ اگر قر آن سے پورا استفادہ حا صل کر نا ہے تو صرف اسی کی زبان میں ہی سمجھنے سے حا صل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی کسی دوسری زبان میں اتنے جا مع الفاظ ہیں ہی نہیں جیسے کہ اس قادر الکلام نے قرآن میں استعمال فرمائے ہیں، جو ہر دور میں کافی ہوں اور صحیح مفہوم ادا کر سکیں ۔
گوکہ عربی میں حمد گوئی قدیم اور خوب ترین ہے، مگر ہم میں کتنے ہیں جو اسکے معنی اور مضمرات سمجھ کر ثنا فہم یاثنا گو بن سکیں ؟ جب کہ مادری زبان میں کہی ہوئی بات صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ دل سے نکلتی ہے اور دلوں پر جلداثر کرتی ہے اس لیئے اردو میں حمد گوئی کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور اس سلسلے میں ہمارے سامنے حضور (ص) کا عمل موجود ہے کہ وہ ہمیشہ قر آنی آیات تلاوت فرماکر جب مزیدتکلم فرماتے تو اسی قبیلہ کی ہی عربی میں بات چیت فر ماتے تھے ، کیونکہ سائل کی زبان میں بات کر نے سے ایک اپنا ئیت پیدا ہو تی ہے ۔دوسرے عربی میں حمد گوئی میں کتنا ہی جہاں زور مارلے وہ بات پیدا کرنا ناممکن ہے۔ کیو نکہ قر آن میں اسکی اپنی ثنا کی ہو ئی خود جو موجود ہے ۔ آپ کواس مثال سے اندازہ ہو جا ئے گا کہ ہمارے نبی ِ کریم جن کو فصا حت اور بلاغت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اکملیت عطا فر مائی تھی، وہ اسکے باوجود فر ما تے ہیں “ لَا اُحصِی ثنآئً علَیکَ انتَ کَمَا اَثنیتُ علیٰ نفُسِکَ۔ ترجمہ ( جیسے کہ آپ نے اپنی خود تعریف فر مائی ہے میں ویسی بیان نہیں کر سکتا ) تو پھر ُامتیّوں کے لیئے یہ ہی آسان ہے کہ وہ اپنی زبان میں حمد بیان کریں ۔ در اصل یہ اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فر مایا ہے کہ “ اگر تمام سمندروں کا پانی سیاہی بن جا ئے اور تمام دنیا کے جنگلات قلم بن جا ئیں تو بھی تیرے پرور دگار کی با تیں قلم بند نہیں کر سکتے “میرا اس تمام بحث سے مطلب یہ تھا کہ جہاں عربی جیسی فصیح زبان اور االلہ کے رسول (ص) حمد کا حق ادا کرنے سے قاصر ہوں ،تو قیاس فرمائیے کہ اس میدان میں جو کودتے ہیں ان کو کتنے کٹھن مر حلوں سے گزرنا پڑتاہوگا۔ یہ وہی جانتے ہیں کیونکہ حمد میں الفاظ کوچننے اوردرست استمال کرنے ہی پر جنت یا جہنم بنتی ہے ۔جس زبان پر عبور نہ ہو ، اس میں حمدِ باری تعالیٰ کہنا انتہا ئی کٹھن کام ہے۔ اور نعت کہنا تواس سے بھی کٹھن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور ولیوں (رض) کے بارے میں غلطی کوتاہی برداشت نہیں فرماتا ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ بخدا دیوانہ باشد با محمد ہوشیار!
آفرین ہے طاہر صا حب کو کہ انہوں نے اس پر اپنی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ صرف فر مایااور لا تعداد نمبر نکالے کبھی سلام نمبر نکا لا جس میں حضور (ص) کو پیش کیئے گئے صدیوں پرانے سلام یکجا کردیئے گئے ،تو کبھی پنجابی شعرا ئے حمدو نعت کانمبر “ خوشبؤں کا سفر “ کے نام سے نکا لا جس میں زیادہ تر اولیائے (رح) پنجاب اور ان کی شاعری کاذکر ہے، “حمد میری بندگی “ کو زیور طبع سے آراستہ کر کے پیش کیا اس کے علاوہ نعت میں مجمو عہ “ مدینہ کی مہک “ ،نعت میری زندگی اور ہر سانس پکارے ہے “ صلِ علیٰ “جیسی کتابیں شائع فر مائیں۔ غرضیکہ اتنے کام انہوں نے کیئے ہیں اگر میں تفصیل میں جا ؤں تو یہ مضمون بہت طویل ہو جا ئے گا۔مجھے امید ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے اور اپنے حبیب (ص) کے عشق کے صدقہ میں انکی مغفرت فر مائے گا جو ایک مومن کی زندگی کا حاصل اور مقصدَ زندگی ہے ۔یہ تو تھیں ان کی اللہ ،رسول اور اسلام کے سلسلہ میں خد مات اب ہم آتے ہیں خدمت ِ خلق کی طرف ۔ایک شاعر کا شعر ہے کہ ع “ تمہیں چاہوں،تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں بڑا مشکل ہے یہ مجھ سے توایسا تو ہو نہیں سکتا “ مگریہاں بھی انہوں نے اس شاعر کی طرح شکست نہیں مانی ،وہ اللہ اور رسول (ص)کی چاہت کے ساتھ ساتھ ان کے چاہنے والوں کو بھی چا ہ رہے ہیں یہ ہی وہ خوبی ہے کہ کبھی وہ اکیلے تھے۔اور اب اللہ کے کرم اور فضل سے ان کے ساتھ ایک قافلہ ہے مگر انہوں نے اس نسبت کی لاج رکھی ہوئی جو نبی (ص) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے انہیں حاصل ہے اور سلطانی ہونے کا تقاضہ ہے یعنی وہ سچے صاحب ِ طریقت بھی ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ تقریبا“ نصف صدی سے اردو بازار میں کارو بار کرتے ہوئے گذاردی، مگر انہوں نے فقیری نہیں چھوڑی سواری کے لیے “ہنڈا فٹی“ ہے جس کی اصل جگہ عجائب گھر ہونا چاہیئے تھی جبکہ رہائش کے لیے لالو کھیت میں ایک معمولی مکان وہ بھی دوستوں کی معاونت سے اس سلسلہ میں دوستوں کا قرضہ ادا کرنا باقی ہے جسے وہ با قاعدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ جبکہ اسی کاروبار میں ان کے ساتھی اسی بازار سے ہی کروڑپتی اور ارب پتی بن چکے ہیں۔ آ جکل وہ حمد ونعت ریسرچ سنٹر کو اسکا اپنا گھر دینے کی کوشش میں سرگرداں ہیں جس کے لیے انہوں نے تمام در جھانک لیے ہر جگہ سے ناکامی ہوئی مگر ابھی بھی کچھ اللہ کے بندے باقی ہیں جناب انصار الحق قریشی صاحب نے اپنا چھ سو گزکا پلاٹ اس مقصد کے لیے عطا فرمادیا ہے۔ انشااللہ یہ منصوبہ بھی ان کا مکمل ہوجائے گا۔ یہ فقیر اس کے لیے رب العزت سے دعاگو ہے کہ وہ اپنی کریمی سے کوئی سبیل پیدا فرمادے ۔(آمین)
جیسا کہ ہم اوپرذکر چکے ہیں، جہاں معتدد نئے لوگوں کو انہوں نے متعارف کرایامتعدد نئی کتابیں میدان میں لانے کا باعث ہوئے۔ وہیں حضرت امام احمد رضا صاحب اور علامہ اقبال پر نمبر نکال کرا رواح ِ سابقین کو جو دونوں جہانوں میں پہلے ہی سر خروہیں ان کی یاد تازہ کی ۔ میں ان کے ایک شمارے ارمغان ِ حمد (40)سے ان ہی کے حمد و نعت پر چند تازہ اشعار پیش کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں جن میں تواز کے ساتھ توحید اور عشق دونوں جھلکتے ہیں ۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ طویل عطا فر مائے اور مزید اپنے دین کی خدمت کر نے کی توفیق بھی۔(آمین)
بھٹک سکتا نہیں ہر گز وہ انساں پیا ہے جس نے جام ِ خالق ِ کل
بڑی شامیں منا ئیں ہم نے طاہر کوئی اک شام نام ِ خالق کل
اللہ کو منا لیا رو ضہ پہ آپ کے دونوں جہاں کو پالیا روضے پہ آپ کے
قلب بے چین ہوا کر تا ہے جب بھی طاہر حمد اور نعت کا ہم ورد کیا کر تے ہیں