|
آہ ہماری بیچاری مسلم خواتین۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
25.07.2015, 12:40am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔۔ شمس جیلانی
ایک حدیث ہے کہ ایک شخص حضور (ص) کے دربار میں حاضر ہوا اور اس نے ایک عجیب درخواست کی مجھے زنا کی اجازت دی جائے ؟ صحابہ کرام (رض) اس کی یہ جراءت دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئے۔ لیکن رحمت عالم (ص) کے چہرے پر شکن بھی نہیں آئی ،انہوں نے اسے اپنے اور قریب بلا ئے کے بعد کہ کہیں کوئی مشتعل ہو کر اسکی گردن نہ اڑادے ۔ پھر اس سے پوچھا کہ یہ ہی فعل کوئی اور تمہاری ماں کے ساتھ کرے تو تمہیں اچھا لگے گا۔ تو اس نے کہا کہ میں اس کا سر اڑادونگا، پھر ایک کر کے تمام رشتے گنا ڈالے اور جب اس نے اس کے جواب نفی میں دیئے تو اس سے فرما یاکہ جب تم اپنی کسی رشتہ دار کے ساتھ بھی کسی کی یہ حرکت برداشت نہیں کرسکتے تو تم جس کے ساتھ بھی یہ حرکت کروگے وہ بھی تو کسی ماں کسی بہن کسی کی پھوپھی وغیرہ ہوگی وہ لاجواب ہو گیا اور تائب ہو کر چلا گیا؟ اس میں بڑا سبق ہے ان لوگوں کے لیے جو خود مسلمان کہتے ہیں اور صبر دامن بات بات پر ہاتھ سے چھوڑدیتے ہیں ، جبکہ ان کو حضو ر (ص) کی اتباع میں اسی کردار کا مطاہرہ کرنا چاہیئے ،ان کے ارشادات کے مطابق مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ “ وہ جو اپنے چاہے وہی اپنے بھائی کے لیے چاہے، کیا کوئی مسلمان پسند کریگا کہ اسکی پگڑی اچھالی جائے ہر ایک کا جواب نفی میں ہوگا؟ اسی طرح حضور(ص) نےحج الودا کے موقعہ پر فرمایا کہ جس طرح آج کا دن یہ مقام حرام ہے اسی طرح ہر مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کا خون جان و مال عزت اور آبرو حرام ہے۔ اور کسی پر تہمت لگانے کے لیے یہ شرط مقرر کردی کہ چار چشم دید گواہ ہوں اسی صورت میں الزام لگانے والا سچا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اگر ملزمہ یا ملزمہ شادی شدہ ہوں تو اس کی سزا سنگساری ہے۔ بصورت دیگر اگر وہ چار چشم دید گواہ فراہم نہ کر سکا تو پھر اس کے اسی کوڑے لگائے جائیں اور اسکو کاذب قرار دیدیا جائے پھر تا قیامت اس کی کوئی شہادت نہ مانی جا ئے؟ جبکہ لوگ سبکی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کون کہاں خصوصا“ خواتین کدھر جارہی ہیں ۔
ہمارا معاشرہ یہ ہے کہ کبھی تفریحا ً کبھی انتقاما ً ہر خاتون کو جو گھر سے کسی ضرورت سے باہر نکلے توانکے ساتھ انکا بھائی یا باپ بھی ہو تو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس میں بوڑھوں کو بھی نہیں بخشتے؟ اکثریت کسی بھی خاتون سے صرف ایک ہی رشتہ جانتی ہے ، وہ ہے جنسی رشتہ اس کے علاوہ وہ کوئی دوسرا رشتہ جانتے ہی نہیں ۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ اپنے بھائی یا بہن کے بارے میں خوش گمانی اختیار کرو بد گمانی سے بچو! لیکن ہم بد گمان پہلے ہو جاتے ہیں اور خوش گمانی ہمیں چھوکر بھی نہیں گزرتی ، ہمیں قرآن میں حکم دیا گیا کہ خواتین اپنی نگا ہیں اور مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ہمارے سامنے سے کوئی بہن گزر جائے تو اسطرح گھور تے ہیں جیسے کوئی ندیدی لومڑی انگور کو تاکے؟ اکثریت کے عقیدے مطابق یہ احکامات صرف اور صرف صنف نازک کے لیے ہیں صنف قوی کے لیے نہیں ۔ جب کہ ہماری یہ خوبیاں آج دوسری قوموں نے اپنا کر گھورنا اپنے معاشرے میں انتہائی برا فعل قراردیا ہوا، کسی کی ٹوہ میں رہنا بھی انتہائی معیوب بات ہے،یہاں خواتین کی تقریباً نصف آبادی زندگی کے ہر شعبے میں کرتی نظر آئے گی نہ کوئی اسکنڈل بنے گا ، نہ افسانہ اور کہانی بنے گی؟ مگر اسی معاشرے کی کوئی خاتون کسی کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر شادی کرلے اور وہ شخص اسکو میں اولاد کے چھوڑ کر بھاگ جائے تو بجائے اسکے کہ معاشرہ اسکی مدد کرے اسکا اسکینڈل بناتے لگےگا اگر ہم میں سے ہے تو ؟ جبکہ خاتون غیرت مند ہو تو ویلفیر پر گزارا کرنے بجائے خود کما کر اپنا ور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا چاہتی ہو۔معاشرے میں کوئی مقام بنانا چاہتی ہے۔ اور اسکی معاونت کوئی باپ کی عمر کا شخص بھی جس کا کردار ایسا ہو جس کی عام مسلمانوں میں مثال نہیں ملتی، وہ اس پر بھی کیچڑ اچھالے بغیر بعض نہیں آتے، ایسے لوگوں پر کیچڑ اچھالنے سے گو کہ ان کا کچھ نہیں بگڑتا اسلیے کہ ان کی پاکیزگی کامحافظ خدا ہے۔ مگر ایک کہاوت مشہور ہے کہ جو آسمان پر تھوکتا وہ پلٹ کر اسی کے منہ پر آتا ہے؟ اس برائی کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسلام سے پلٹ کر واپس باپ دادا کے مذہب پر چلے گئے ہیں۔ اور یہ سب اسی کے کرشمے ہیں ۔ خصوصاً خواتین کو جو حقوق اسلام نے دیئے تھے وہ سارے ہی غصب کرلیے اور اوپر سے ایسی مخلوق بنا دیا جوکہ معاشرے کے لیے اپاہج ہو کر بار تو بن سکے مگر اپنے پیروں پر کھڑے ہوکراپنے حقوق نہ مانگ سکے، اس میں اسلامی ملکوں اور خصوصی طور پر پاکستان کی حالت سب سے خراب ہے، جسے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔ اگر بیٹی پر الزام لگتا ہے تو اس کو زندہ دفن کر دیتے ہیں اورساتھ میں اسکی مان کوبھی ، جب کہ باپ بری الذمہ رہتا ہے۔ اگر ماں بیٹی کی بد چلنی میں قابل ِ سزا ہے تو باپ کیوں نہیں جس نے اپنی تربیت میں کوتاہی برتی اور اس کی حفاظت نہیں کر سکا۔ اسکی ایک پرانی خبر کی شکل میں مثال دیکر میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔
پاکستان جو کہ اسلامی جمہو ریہ پاکستان کہلاتا یہ کلچر ہم وہیں سے لیکر آئے ہیں جہاں کہیں رہیں رسم ورواج وہی رہتے ہیں ۔ جہاں اس پر ابھی اختلاف ہے کہ آیا وہ اسلامی ہے بھی یا نہیں ہے؟ کیونکہ اسلام کے مختلف ایڈیشنوں کے بارے میں کچھ طبقوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہاں قائدِ اعظم والا اسلام آنا تھا جو وہ لانا چا ہتے تھے، یا ہادی بر حق صلی اللہ تعالیٰ و آلہ وسلم والا اسلام جو کہ مسلمانوں کے لئے لے کر وہ (ص) تشریف لائے تھے؟اس پر آپ نے روزانہ ٹی وی پر بحث بھی سنی ہو گی جو آئے دن ہو تی رہتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا اور اسی کا قانون یہاں نا فذ ہو نا چا ہیئے ، کچھ کہتے ہیں کہ قائد اعظم والا اسلام نا فذ ہو نا چا ہیئے اور اب ایک تیسرا فریق بھی میدان میں آگیا ہے جس کی طرف سے یہ کہاجا رہا ہے کہ صرف ہمارا والا اسلام اصل ہے با قی سب غلط ؟ لہذا وہ لڑکیوں کے اسکول اورسی ڈی کی وہ دکانیں جن میں قر آن کی سی ڈی بھی بکتی ہیں بلا تفریق ڈھا کر یاجلا کر جہالت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ اسلام علم کا داعی ہے۔ویسے توایک چوتھے فریق بھی تھے ، جناب مشرف جو اسلام کو ماڈرن بنا نا چاہتے تھے اور امریکہ کی طرف سے مبعوث کیئے گئے تھے ۔ان کا ذکر تو اب یوں بیکار ہے کہ مسلمان جانے والوں کو برا نہیں کہتے حتٰی کہ اگر یزید کو بھی کوئی برا کہے تو بھی برامانتے ہیں؟
اور دوسرے طرف ملکی صورت ِ حال یہ ہے کہ یہاں بہ یک وقت برٹش کا بھی قانون چل رہا ہے ، حکمرانوں کا لولا ، لنگڑا اپا ہج بنایا ہوا دستور بھی چل رہا اور ضیا الحق کا اسلامی قانون بھی ۔اور پھر سرداروں کا قانون بھی ہے جو مذہب پر نہیں رسم و رواج پر یقین رکھتا ہے جیسے کہ کفار مکہ کہتے تھے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کے مذہب پر ہیں ۔ جہاں سے چندسالوں پہلے یہ خبر آئی تھی کہ بلو چستان میں کارو کاری یا غیرت کے نام پر پانچ عورتوں کو جن میں دو مائیں بھی تھیں زندہ دفن کر دیا گیا، جبکہ مائیں صرف ماں ہو نے کی وجہ سے دفن ہو ئیں ۔ وہاں کے کئی ذمہ داروں کے بیان پڑھے ایک اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر بلو چستان اسمبلی کا بیا ن نظر سے گزرا ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ عورتیں زندہ دفن کردی گئیں تو آخر کونسی قیامت ٹو ٹ پڑی؟ ایک اور ذمہ دار کا بیان پڑھا وہ فر ما رہے تھے کہ آخر اب یہ کو نسی نئی بات ہے ۔ہم تو پچھلے سات سو سال سے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرتے چلے آرہے ہیں، یہ ہماری اپنی روایات ہیں ہمارے قانون ہیں اور یہ کہ ہم بھی مسلمان ہیں کافر تھوڑی ہیں۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ اپنے مردوں کو بھی اپنی پسند کی شادی اور تاکہ جھانکی کی بنا پر قتل کرتے ہیں ؟ کیونکہ اسلام میں تو برابری ہے۔ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ سبھانہ تعالیٰ ہمیں حضور (ص) لائے ہوئےدین پر چلنے کی تو فئیق عطا فرما ئے۔ (آمین)
|