15.10.2026, 11:28pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

فرخندہ رضوی سادگی اور سچائی کی علمبردار ۔ از۔ شاہین اشرف علی
04.08.2015, 07:05am , منگل (GMT+1)

شاہین اشرف علی

چاند بن کر کبھی آغوش میں خندہ کی اتر
چاندنی بانہوں میں اپنی ہی مچلتی دیکھوں

ایسے پیارے شعر کی خالق برطانیہ  کے شہر ریڈنگ میں مقیم ادبی افق پر بڑی  محنت سے اپنی علیحدہ شناخت و پہچان بنانے والی ، قلم و کتاب سے اپنا گہرا رشتہ استوار کرنے والی پروقار شخصیت اور دھیمے مزاج کی فرخندہ رضوی نے  قلمی سفر بڑی لگن  سے طے کیا ھے  

شہر اقبال سیالکوٹ کے منفرد شہر میں پیدا ھونے والی چار خوبصورت کتابوں کی خالق  اپنے خیالات و افکار کو کاغذ پر  منتقل کرتے  ھوۓ بارھا امتحان سے گذرتی ھے اب اسکی پانچویں کتاب بہت ہی جلد منظر عام پر آ رہی ہے جسجکا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ قلم خندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اسمیں تنقیدی مضامین، تجزیے، تبصرے اور مختصر سفرنام شامل ہیں

میں نے فرخندہ رضوی کی کتب قرات کی ھیں اور انھی کتب کی روشنی میں مجھے اسکے ادبی خدوخال بہت نمایاں اور دیرپا نظر آتے ھیں اسکو قلم سے عشق ھے اسی محبت و مودت نے اس کو زمین سخن میں جا بجا پھول کھلانے کا ھنر بھی بخشا ھے فرخندہ رضوی کے اشعار میں  خوشبو ۓ وفا کی دلنواز مہک بھی اھل دل کو متاثر کرتی ھے اسکی شاعری میں حزن  کی سوغات بھی شامل ھے

 درد  سے بڑا معلم کوئ نیہں ھے
 دکھہ کا انپا خمار ھوتا ھے
 
یہی گداز و سوز فطرت وقدرت سے پیار کرنے والوں کو اقلیم سخن میں راہداری کا پروانہ عطا کرتا ھے  ۔ سیالکوٹ کی مٹی  سے جنم لینے والی فرخندہ رضوی کا دامن درد کی دولت سے مالا مال ھے
حزن و الم کی ھمراھی میں وہ  کٹھن راستوں پر بہت دیر ننگے پاوں چلی ھے   اسی آبلہ پائی نے اسے درد سے مانوس کیا ھے   شدید اداس جاں گسل  موسموں  کی تلخیاں  سختیاں قلم ھاتھ میں آتے ھی سوز غم  میں ڈھل جاتی ہیں۔  مہربان لفظوں سے اسکی شنا سائی ھوگئی اور  یہی  لفظ اپنے تخلیق کار کے تعارف کا بہترین وسیلہ ھوتے ھیں  

انسان اپنی تحریر کے آیئنے میں جانا پہچانا جاتا ھے ۔ مجھے اس ششیے میں احترام و محبت کی قندیل تھامے ایک ایسی قلم کار  کی شبہہ نظر آتی ھے جو اپنی حساس طبعیت  کے با‏عث بیرونی دینا کی طرف کھلنے والی کھڑکی کو دبیز پردے ڈال کر رکھتی ھے اسکی دینا میں محبت کی چاندنی بھی ھے اور احترام انسانیت بھی ھے

غم کا شعلہ سا اُٹھا تیرے بعد

    دل چراغوں سا اُٹھا تیرے بعد


    نا گہاں آنکھ سے ٹپکے آنسو

    راز دنیا پہ کُھلا تیرے بعد


    یک بیک رونقِ  بازار گئی

    شہر ویران ہوا تیرے بعد


    جس سے کی تھی کبھی دل نے توبہ

    ہم نے کی پھر وہ خطا تیرے بعد


     مٹ گیا سب سے تعلق پَل میں

     زیست میں کچھ نہ رہا تیرے بعد


    شمع پگھلا نہ سکی دل اُس کا

     سنگ پتھر ہی رہا تیرے بعد


    سج گئےیادوں کے سب خندہ مزار

     پھر کہیں دیپ جلا تیرے بعد
 
 

ادب و سلیقہ فرخندہ رضوی کی اولین شناخت ھے اسکے دھیان میں اپنی مٹی و وطن سے وابستہ ھر یاد روشن و تاباں ھے  اکثر وہ اپنے پرسکون شہر ریڈنگ میں اضطراب و داخلی کرب  کی کیفیت میں مبتلا ھوجاتی ھے ۔ اور یہی صورتحال اسکو لکھنے پر مائل کرتی ھے

    
تُو کبھی مجھ سے خفا ایسا نہ تھا
 دل کو اپنے سے گلہ ایسا نہ تھا

 پیٹر سب غمگین ہیں مایوس ہیں
 گزرا موسم غمزدہ ایسا نہ تھا

 تیرے ہیں خواب جاگی آنکھ میں
 سِیل کوئی دوسرا ایسا نہ تھا

 ناؤ ہچکولے ہے کھاتی یاد کی
رُخ کسی طوفان کا ایسا نہ تھا

 ذات کا ساگر تو گہرا ہے مگر
 پست تیرا حوصلہ ایسا نہ تھا
 
دل کو خندہ ہے شکایت بس یہی
 اے صنم تو بے وفا ایسا نہ تھا


 فرخندہ رضوی نے اپنی انتھک محنت سے اپنا  خاص مقام بنایا ھے  کتاب و قلم سے دوستی انسان کو کھبی تنہا نیہں ھونے دیتی ھے مگر یہ رفاقت انسان کو عجب منزلوں کا مسافر بنادیتی ھیں جب تک فرخندہ رضوی دعاؤں کے دست حصار میں تھی مطمئن و شاداں تھی ۔اس نے ماں سے محبت و انکی خدمت فرض نیہں عبادت سمجھ کر کی ہے اور ماں  سے پیار کےمعصوم رنگ اسکی تحریروں میں بھی نمایآں نظر آتے ھیں

پرورش میں اُن کی ہستی تک مٹا دیتی ہے ماں
اپنے بچوں کی مگر قسمت بنا دیتی ہے ماں
سوچ کر بچوں کے پاؤں میں نہ چبھ جائیں کہیں
سنگریزے جھک کے رستے سے ہٹا دیتی ہے ماں
             وہی میری ماں اب مجھ سے جدا ہے
نیند کی پریاں نہ جب بچوں کولیں آغوش میں
لوریاں بچوں کو گا گا کر سلا دیتی ہے ماں
پھول جیسے بچے گرمی میں نہ مرجھائیں کہیں
لیکے پنکھا ہاتھ میں ان کو ہوا دیتی ہے ماں
            وہی تو میری ماں اب مجھ سے جداہے
گھر بڑاہو یا کہ چھوٹا فرق کچھ پڑتا نہیں
ُٓاپنے دل میں اپنے بچوں کو جگہ دیتی ہے ماں
رات میں تکلیف سے ہوں جب کہ بچے بے قرار
رات ساری آنکھوں آنکھوں میں بتا دیتی ہے ماں
         وہی تو میری ماں اب مجھ سے جدا ہے
ماں کی ممتا ایسا چشمہ ہے کہ جس سے سینچ کر
تپتے صحراؤں کو بھی گلشن بنا دیتی ہے ماں
دورہو جاتی ہیں سب ان کی مشکلیں
ہاتھ اٹھا کر جب بھی بچوں کو دعا دیتی ہے ماں
                       وہی تو میری ماں اب مجھ سے جدا ہے
                وہ ساتھ نہیں اب میرے ،وہی ماں مجھ سے جدا ہے
           میں کس حال میں ہوں ،ماں میری مجھ سے خفاہے
          مجھ کو آرام ملا اُس کی باہوں کے گھیرے میں
           میں جنت ڈھونڈ لیتی تھی اُس کے سائے میں


               وہی میری ماں اب مجھ سے جدا ہے
        ہوئے ہیں دُھند میں گُم خوشنما منظر وہ سارے
        میری پلکوں کی شبنم میں ہیں رقصاں چاند ستارے
        میرے رُخساروں پہ اشکوں کا دریا بہہ رہا ہے
        جس کے بدن کی خوشبو ہاتھوں میںبسی ہے
             وہی میری ماںخندہ اب مجھ سے جدا ہے

       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
       
            میری ماں
          (سانحہ)
   یک بیک رُت بدل گئی کیسے
   آسمان کیسا ہو گیا ہے سیاہ
   ماں تیری موت کی خبر سُن کر
   میری ہر سانس بن گئی ہے آہ
       تُو ہی دنیا میں لائی تھی مجھ کو
        تیری ممتا ہی میری دولت تھی
        تیرا آنچل تھا سایہء رحمت
        تیرے قدموں میں میری جنت تھی
 میری ہمدم تھی،میری دوست تھی تُو
 تیرے دم سے تھا زندگی میں سکوں
 اَب نہیں تُو ، تو ماں بتا مجھ کو
 اپنے دُکھ درد اب میں کس سے کہوں
        ماں میں غمگین ہوں ،فسردہ ہوں
        میرے غم کا سویرا کوئی نہیں
        ایسا لگتا ہے مجھ کو تیرے بعد
        جیسے دنیا میں میرا کوئی نہیں
 زندگی بوجھ بن گئی مجھ پر
 تیرا دامن جو مجھ سے چھوٹ گیا
 جی نہ بہلے گااب کبھی میرا
 ماں میرا دل ہی اب تو ٹوٹ گیا
        ہے دعا اب تو میری ہر لمحہ
        میرا اللہ تجھ کو جنت دے
        آخرت میں تجھے سکون ملے
        تجھ کو رب ِ کریم رحمت دے

 

   فرخندہ افسانہ نگار بھی ہے اور اسکی سچی کہانیاں بہت مقبول ہوئی ہیں۔ وہ کالم نگاری بھی کرتی ہے اور کتابوں پر بے لاگ تبصرہ اسکی انفرادیت ہے۔ اسکی اہم بات جو اسے متعدد دوسرے شاعروں سے منفرد کرتی ہے اسکی اصول پسندی ہے۔ وہ ادب میں دھڑے بندیوں اور ناانصافیوں سے نالاں ہیں اور ان شاعروں کے برعکس ہیں جو ایک غزل پڑھنے کے لیئے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ وہ ایک اچھی بیوی، پیاری ماں، قابل تکریم بیٹی اور بہت ہی پیاری دوست ہے

فرخندہ کو پھولوں اور باغبانی سے عشق ہے وہ گھر کے نوے فیصد کام خود کرتی ہے جسمیں دیواروں پر منقبش کاغز لگانا بھی شامل ہے جو انتہائی محنت کا کام ہے۔ برطانیہ میں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو ڈی آئی واءی کہتے ہیں اور فرخندہ اس کام میں کوئی سبکی نہیں بلکہ فخر محسوس کرتی ہے

میں ان چند لفظوں میں نہ اسکی شخصیت اور نہ ہی اسکی تخلیقی صلا حیتیں بتا سکی ہوں۔ ایک مفصل مضمون فرخندہ جی ادھار رہا۔

تمہاری بہت سی کامیابیوں کے لیئے دعائیں

:دیگر مضامین
(02.08.2015) بحریہ ٹاؤن کا ملک ریاض: کلرک سے کھرب پتی بن گیا۔ کیسے؟۔
(31.07.2015)  ڈینش اردو حلقے میں بهی ایک  "" لوکی"" ہے ۔۔۔۔ کون؟
(27.07.2015) امریکی آرٹسٹ نے مونگ پھلیوں سے وہ وہ شاہکار تخلیق کیے ہیں
(25.07.2015) جہنم کی آگ میں بھی مسکرانے والی ارواح۔ ناہید اختر چٹھہ
(21.07.2015) رمضان میں گزشتہ دس سال کی فروخت کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
(18.07.2015) دوستوں کی عید اور آپس کی مبارکبادیں ۔۔از : ڈاکٹر نگہت نسیم
(17.07.2015) ہماری عیدیں ۔۔۔مظہرِ اِتحاد یا علامتِ اِنتشار؟۔۔۔۔ از ۔۔۔ عزیز بلگامی
(16.07.2015) آج کا انتخاب۔شب قدر کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرنا
(15.07.2015) خود شناسی کے لیئے ماہ رمضان سب سے افضل ہے ۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(13.07.2015) مخدومۂ دارین سیدہ خدیجۃالکبریٰ (س) تاریخ سازخاتون
(12.07.2015) شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔۔۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(09.07.2015) انیس رمضان شب ضربت سے اکیس رمضان یوم شہادت تک
(07.07.2015) مولائے کائنات ، فاتح خیبر، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا یوم شہادت
(05.07.2015) رمضان ہی میں بدر میں کامیابی اور رمضان ہی میں فتح مکہ ہوا
(01.07.2015) اظہرالمن الشمس حقیقت کہ سیدنا اویسِ قرنی عشقِ رسالت سے معمور تھے
(29.06.2015) مہوش نور کا مقالہ ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ
(27.06.2015) اہل فلسطین کے رمضان المبارک کےمعمولات کیا تھے؟یادوں کے جھروکوں سے!
(25.06.2015) کویت میں انجمن تخلیق و تہذیب کویت کی بانی اور صدر شاہین رضوی
(23.06.2015) کویت میں رمضان کی بہار اور عبادت کی پھوہار ۔ از ۔ شاہین اشرف علی
(20.06.2015) استقبال رمضان کے متعلق رحمت للعالمین حضرت محمد(ص ) کا خطبہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں