15.10.2026, 05:28pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

وطن عزیز پاکستان صحیح سمت میں۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
08.08.2015, 02:05am , ہفتہ (GMT+1)

از ۔۔۔شمس جیلانی
 عجب ظلم ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں بار بار فرماچکا ہے کہ طالب دنیا اور طالب عقبیٰ برابر نہیں ہوسکتے۔ لوگوں کا عالم ہے کہ جب وہ دوسروں پر ظلم کرتے ہیں تو خدا بالکل یاد نہیں آتا، لیکن جب ان کے ظالم ساتھیوں سے بازپرس ہوتی ہے تو انہیں اللہ یاد آ جاتا ہے اور اسی کی دہائی دیتے ہیں۔ جبکہ انہیں اللہ پر یقین ہوتا تو وہ جانتے ہوتے کہ اس بصیر اور خبیر کے سامنے نہ فیلسوفی چلتی ہے نہ جھوٹ اور فراڈ چلتا ہے۔ یہ دہرا معیار ہے جوکہ مسلمانوں کی اکثریت نے اختیار کیا ہوا ہے۔ سورہِ محمد (ص) کی آیت نمبر14 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ“ جو لوگ واضح طور پر راہِ راست پر ہوں اور وہ جن کے اعمال انکو اچھے  کر کے دکھائے جائیں برابر نہیں ہوسکتے؟ اس سے آگے کی آیتوں میں وہیں فرما دیا ہے کہ پہلی قسم جنتی ہے اس کے لیئے انعامات ہی انعامات ہیں ، جبکہ دوسری قسم کے لیے جہنم جہاں عذابات دائمی ہیں۔ نہ ان کے انعامات میں کبھی کمی ہوگی اور نہ ان کے عذابات کم ہونگے۔پھر پہچان بھی بتادی کے اللہ والا وہ ہے جس کو دیکھ کر اللہ یاد آجائے اور اس کا مخالف یہ ہے کہ جس کے اعمال دیکھ شیطان یاد آجائے۔ کیونکہ پہلی قسم کا ولی اللہ اور دوسری قسم کا ولی شیطان ہے جبکہ اللہ اندھیروں سے روشنی کی طرف بلا تا ہے اور شیطان جہنم کی طرف کھینچتا ہے۔ لیکن انسان ہے کہ پھر بھی دھوکا کھا جاتا ہے۔ جب اللہ اسے نوا ز تا ہے تو بجا ئے شکر دا کرنےکہ وہ اسے بھول جاتا ہے، حتیٰ کہ ظلم کرتے ہوئے وہ اسے یاد بھی نہیں آتا۔ جب کرسی ہلنے لگتی ہے تو شکوے کرتا ہے کہ میں جب اقتدار تک پہونچا نے کا ذریعہ تھا تو لوگ وزارتوں کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اب مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور پھر مگر مچھ کی طرح آنسو بہاتا ہے۔ آجکل ایک تو ہیں اس صف میں نمایاں ،باقی  بھی خدا بھولے شاکی نظر آتے ہیں کہ “ یہ فلاں محکمہ  کوکیا ہوگیا جو سندھ میں اچانک سر گرم ہو گیا ہے؟  بھولے بادشاہوانہیں کچھ نہیں ہوا ہے۔ صرف  قوم کاایک ایک  جوان جاگ گیا ہے۔ اس لیے تمام مھکے جاگ گئے ہیں، اسی پر قیاس کر لیجئے کہ اگر سب جاگتے ہوتے تو کیا ہوتا؟ 

یہ جو جاگ آئی ہے اس کو غنیمت سمجھیں اور عوام اس کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہو جائیں۔ کیونکہ کسی قوم کو بار بار موقع نہیں ملتا۔
 دیکھئے! کل تک پورا ملک تذبذب کا شکار تھا مگر اب ہر صبح ہم سوکر اٹھ کر دیکھتے ہیں تو کل سے بہتر نظر آتا ہے کچھ بادل چھٹ چکے ہیں کچھ عنقریب چھٹنے والے؟ چند دن پہلے ہم نے ایک خوشگوار صبح دیکھی جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ طلوع ہوتی دکھائی دی؟ جولوگ نہیں جانتے ہیں ہم انہیں بتاتے چلیں کہ ہم میں اور وطن عزیز میں بارہ گھنٹہ کا فرق ہے لہذا جب آپ کے یہاں رات ہوتی ہے تو ونکو ر میں دن ہوتا ہے اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی اہم خبر کا انتظار کرتے ہوئے سو جاتے ہیں اور دوسرے دن صبح کو ہمیں وہ خبر ملتی ہے جو آپ ایک دن پہلے پڑھ یا سن چکے ہوتے ہیں ہم کل تک بڑے بڑے اینکروں کو ٹی پر پریشان دیکھ رہے تھے کہ منطقی انجام کا مطلب کیا ہے؟ جبکہ لغت کبھی بدلا نہیں کرتی، اسکے باوجود اگر لوگ اس کے معنوں کے لیے سرگرداں تھے تو اسکی وجہ یہ تھی کہ جب بھی امید کی کوئی کرن نظر آئی یکایک اس پر اوس پڑگئی یا بادل چھا گئے ،وجہ یہ تھی کہ پہلے تو کہنے والے مخلص نہ تھے، دوسرے ادارے ایک پیج پر نہ تھے؟ لہذا کوئی نہ کوئی ادارہ مایوس کر دیتا تھا؟اس مرتبہ ایک مرد مجاہد نے جس کے خاندان نے پاکستان پر اپنے کئی ستارے قربان کیئے ہیں، اس کا ایک فرد بہت ہی اہم عہدے پرآگیا اور اس نے اعلان کردیا کہ بدعنوانی اور دہشت گردی کے خلاف میری مہم اس وقت جاری رہے گی جب تک یہ اپنے منطقی انجام کو نہ پہونچ جائے ؟وزیر اعظم جوکہ 99 والے وزیر اعظم نہیں ہیں انہوں نے اس آواز پر لبیک کہنے  کافیصلہ کرلیا؟ پھرتیسرے ادارے عدلیہ نے جس نے ایک آمر کے پہلی دفعہ نظریہ ضرورت تحت ہاتھ مضبوط کیے تھے۔ اسے ایک بہترین چیف جسٹس مل گئے۔ اور انہوں نے اس طریقہ پر کام کرنا پسند کیا جو دنیا میں عدالتیں کرتی ہیں ۔اپنی یہ صفت دکھائی کہ اس کی کہ فل بنچ نے گزشتہ دور کی طرح متفقہ فیصلہ نہیں دیااور فل بنچ بٹی رہی ۔ کیونکہ جج بھی عوام میں سے ہی آتے ہیں ؟لہذا ان کی بھی اکثریت متفق رہی کہ خامیوں کے باوجود جمہوریت کو کام کرنے دیا جائے؟یہ سب کچھ حالیہ تاریخی فیصلوں سے ظاہر ہو گیا۔ اور ہر طرف سے اچھی خبریں آنا شروع ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو الیکشن کے سلسلہ  میں جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آیا اس نے بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ، اس پر فیصلہ دیا کہ دھاندھلی تو ہوئی ہے مگروہ منظم نہ تھی؟ممکن ہے کہ ہمارے قارئیں پوچھیں کہ منظم اور غیر منظم دھاندلی میں فرق کیا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے  بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے کہ کسی ایک پارٹی کو جتانے کے لیے۔ کچھ ادارے سرگرم ِ عمل ہوجاتے تھے اور کسی من پسند پارٹی کو جتادیتے تھے؟ یہ سلسلہ صوبہ سرحد میں خان عبد القیوم خان کی اک ایسی ہی جیت سے شروع ہوا تھااور 2002 ءجاری رہا لیکن دو ہزار نومیں میں وہ پارٹیاں آگئیں جن کو اس وقت  کا آمر کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا تھا مگر اسے نتائج ماننے پڑے اور اسکے نتیجہ میں کسی کو بھی اکثریت نہیں ملی، مجبوراًمکمکاؤ کی سیاست نے جنم لیا؟ جس کی وجہ سے بد عنوانیوں کا گراف اپنی انتہا کو پہونچ گیا مگر منتخب حکومت نے پہلی دفعہ اپنی مدت پوری کی اور دوسرے دوہزار تیرہ کے انتخابات نے یہ ثابت کردیا کہ جو بھی بد عنوان تھے ان کے لیے اب سیاست میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ جبکہ سیاستدان دھاندلی کے ستر سال سے عادی تھے لہذاھاندلی تو ہر ایک نے کی جس کو جتنا موقعہ ملا، اس میں ملا اور مسٹر دونوں یکساں شامل تھے مگر فرق یہ ہے کہ ویسی دھاندلی نہیں ہو ئی کہ کوئی ایک پارٹی جیت جاتی ؟ اور باقی گھر چلے جاتے ؟ مجبوراً سب نے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوریت کو کام کر نے کی اجازت دیدی اور مرکزی حکومت  نےاس مرتبہ اپنی اعلیٰ ظرفی دکھائی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبوں میں مرکز مخالف حکومتوں کو برداشت کیا

اور انہیں کام کر نے کا پورا پورا موقعہ دیا۔ تاکہ حکومتوں کے درمیان ایک صحت مند مقابلہ ہو ااور آئندہ عوام خود فیصلہ کر سکیں جماعتوں کی کارکردگی پرکھ کر؟
 جو بہت کامیاب گیا اب دوہزار اٹھارہ کے جو الیکشن ہونگے ان میں ووٹوں کی اکثریت انشا اللہ پارٹیوں کار کردگی اور وعدہ کی پابندی کی بنیاد ہونگے۔ کیونکہ اس سلسلہ میں قوم خاصی بیدار ہو چکی ہے۔ اگر اس مرحلہ ا پرادارے متحد نہ ہوتے اور کوئی بھی ایک اداراہ جمہوریت کی بساط لپیٹ دیتا تو پاکستان وہیں واپس چلا جاتا جہاں پہلے جاتا رہا اور کوئی فرد ِ واحد عقل کل بن کر پھر قوم  کوالف اورب پڑھانا شروع کر دیتا؟ایسے کڑے وقتوں میں جو سرپھرے بھی کام کر تے ہیں تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہاں بھی نواز شریف صاحب، راحیل شریف صاحب اور چیف جسٹس ناصر ملک صاحب کانام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا، جنہوں نے متحد ہو کر بلا اکراہ جبر وہ نمونہ پیش کیا کہ جو لوگ پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے تھے وہ بھاگے بھاگے پھر

رہے ہیں ۔ سب مل کر اکٹھے سازشیں کر رہے ہیں؟ اس کے باوجود ملک کی ترقی کا گراف آگے بڑھ رہا ہے؟
  دوسری طرف فوج کی روایات اب تک یہ تھیں کہ انہوں نے ملک توڑدیا مگر ان کے کسی ذمہ دار کو کبھی سزا نہیں ملی، جب این ایل سی کا معاملہ فوج کے سپرد کیا گیا تو سب کا یہ ہی خیال تھا کہ اب کچھ نہیں ہوگا یہ انہیں بچانے کے لیئے ڈرامہ کیا گیا ہے مگر ان کی آنکھوں جب کھلیں یہ خبر پڑھی کہ دو جنرلوں کو سزا دیدی گئی ان کی پیشن وغیرہ بھی ضبط کرلی گئی، تو سب کو “ منطقی انجام کے معنی سمجھنے میں اب کوئی مانع نہیں رہی؟ ادھر عدلیہ نے کثرت رائے سے پارلیمان کے فیصلوں کو بہال رکھتے ہوئے جمہوریت  کوکام کرنے کا موقع عطا کردیا۔جن ججوں نے اکثریت کی رائے کی مخالفت میں رائے دی انہوں نے  بھی یہ واضح کردیا کہ پارلیمانکو بھی اپنے حدود سے تجاوز نہیں کر نا چاہیئے اور ہمیشہ رعایتی نمبر نہیں ملیں گے؟ تاکہ آئندہ سند رہے اور بر وقت ضرورت کام آئے؟ اور یہ کہ پارلیمنٹ تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھے؟

رہا تحریک ِ انصاف کا معاملہ تو سب کو متفق کرنا اس سلسلہ کی ایک کوشش تھی مگر کودوپارٹیاں صرف اپنے ذاتی  نا اورمفادات کی بنا پر اس میں روڑے اٹکارہی تھیں، وقت کا تقاضہ تھا کہ جنہوں نے اس کے ساتھ وعدے کیے تھے وہ ان کے سختی سے نپٹیں انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ مسئلہ حل ہوگیا۔ کیونکہ وعدہ خلافی منافقت میں آتی ہے اور کسی کوکچھ دیکر واپس لینا ایک حدیث کے مطابق ایسا ہے جیسا کہ الٹی کر کے اسے کھا لینا ،اللہ تمام مسللمانو ں کو اس برائی سے محفوط رکھے ۔آمین

 اب دودھ پینے  والے مجنوں ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ ان کے لیڈر شاکی ہیں کہ رابتہ کمیٹی کے ممبران  نےوزارت کے مزے لوٹے اور بھاگ کر مجھی کو للکارنے لگے اور مجھے تنہا چھوڑ گئے، ادھر ایک شاہ جی کہہ رہے ہیں کہ نیب اور دوسرے اداروں کو نہ جانے کیا ہوگیا کہ وہ ایک دم جاگ پڑے؟ بات  یہ ہے کہ اگر سپہ سالارجاگ رہا ہو تو وہ صلاح الدین ایوبی کی طرح اپنے خلوص اور محنت کی بنا پرسب  پرچھا جاتا ہے،اور اگر وہ سور رہا ہو یحییٰ خان کی طرح ملک کھودیتا ہے۔
 اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کو استقامت اور قوم کو صحیح فیصلہ کرنے کی تو فیق عطا فرمائے (آمین)

:دیگر مضامین
(01.08.2015) حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیش گوئی اورآج کادور ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(25.07.2015)  آہ ہماری بیچاری  مسلم خواتین۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(11.07.2015) بدلے گا جب ہی حال جب اللہ کو چاہوگے؟۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(04.07.2015) جوبے موت مر رہے ہیں غلطی یہ انکی ہے۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(27.06.2015) بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(20.06.2015) لو وہ بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.06.2015) سچ تو یہ ہے کہ نابیناوں کا مسئلہ بہت قدیم ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.06.2015) بیٹاتو ہی ہارجا ؟ورنہ یتیم ہوجائے گا؟۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.05.2015) شاید بچا ہو وقت ابھی مان جائیے۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی
(23.05.2015) شرم  سے شرم خود شرمارہی ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.05.2015) اردوردستورسے تنگ آکرعدالت میں ؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(09.05.2015) آج کچھ باتیں اپنی بہنوں سے کرنی ہیں  ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(02.05.2015) ایک تیر سے دو شکار۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
(25.04.2015) اب کون جانے ہمارے لیےاچھا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ از۔۔۔  شمس جیلانی ۔ وینکوور
(18.04.2015) انتخابات جھرلو سے جوڈیشل کمیشن تک ۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی
(11.04.2015) عمران خان کا دورہ کراچی۔۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(04.04.2015) آخرکار بڑی رکاوٹ بھی ہٹ گئی۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.03.2015) مسلمانوں کو صرف مظلوم کی حمایت کاحکم ہے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(21.03.2015)  مارچ  23،قرار داد پاکستان سے یوم اسلامی جمہوری تک۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(14.03.2015) کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں