14.10.2026, 10:14am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

 آباد گھروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا  ۔از۔ شاھین اشرف علی
29.08.2016, 12:20am , سوموار (GMT+1)

شاھین اشرف علی
ابھرتے  سورج کی خوبصورت سحر انگیز سر زمین جاپان
طلوع آفتاب کی سرزمین جاپان
سحر انگیزیوں کی زندہ کہانی جاپان

جاپان کو ایسا جاپان بننے کے لیئے تاریخ کے طویل ابواب اور امتحانات میں سے گزرنا پڑا ہے۔ اور آج یہی خوبصورتی و سحر جاپانی لوگوں میں نظر آتا ھے وہ ا پنی غیر معمعولی ترقی  اور حسن کردار سے ساری دنیا کے لیے مثال بنے

 
میں جاپانی قوم کو جناتی قوم کہتی ھوں

قدرت سے بے پناہ پیار اس قوم کی سرشت میں شامل ھے انکا ھر انداز انسانی سلوک سے محبت کرنے کا اسعتارہ ھے  لیکن یہ سب کچھ پانے کے لیئے جاپان اور جاپانی کس کس آزمائش سے نہیں گزرے

ظاہر شاہ آفریدی جاپان کے قومی نشریاتی ادارے میں ملازم رہے ہیں انہوں نے ایک مضمون میں جاپان کی تاریخ کے حوالے سے نہایت آسان زبان میں یوں لکھا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔جاپانیوں کے ہاں اپنے آغاز کے بارے میں دیگر قومیتوں کی طرح کئى داستانیں موجود ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جنت کے آقا نے اُن کی سرزمین پر دو جوان دیوتاؤں ایزاناگے اور اُن کی بیگم ایزانامے کو بھیجا جنہوں نے سمندر میں سے اُن کیلئے ایک خوبصورت ملک بنا ڈالا۔ ایک ماہرِ اثارِ قدیمہ اور اُس کے معاونین نے پتھر دور کی کچھ نشانیوں کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا تاہم بعد میں تحقیق سے بات ثابت نہ ہوسکی ۔
ابتدائى دور
تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ ہزارسال قبل از مسیح سے 300 بی سی تک یہاں جومون دور گزرا ہے اور اُس دور کی تہذیب کے دریافت کیے گئے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ پتھر، سمندری شِلز، لکڑی اور چمڑے کی بنی اشیاء استعمال کرتے تھے اور اُن کی زیادہ تر گزر بسر جنگلی یا سمندری حیات کی شکار پر ہوتی تھی ۔ اس دور کے بارے میں زیادہ تر شواہد 1992 کی اُس کھدائى کے دوران ملے جو ہانشو کے شمال میں واقع آموری علاقے میں بیس بال سٹیڈیم کی تعمیر کیلئے کی جارہی تھی ۔ کچھ ماہرین بشریات کا دعویٰ ہے کہ ہوکائیدو اور ہونشو جزائر کے باسی آئنو قبائل یہاں کے اصل قدیم لوگ ہیں ۔ اِن لوگوں کی آنکھیں بڑی ہیں اور جِسم پر بال زیادہ ہیں جبکہ موجودہ جاپان میں اکثریت آبادی والے جاپانیوں کے جِسم پر بال کم ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آئنو ، موجودہ روس کے مشرقی سائبریا کا ایک نسلی گروپ ہے ۔ اب آئنو قبائل صرف ہوکائدو ہی تک محدود ہوچکے ہیں اور موجودہ تعداد تقریباً بیس ہزار بتائى جاتی ہے ۔ اُن کی زیادہ تر آبادی، اردگرد کے جاپانیوں کے ساتھ مدغم ہوچکی ہے ۔ چونکہ جاپان کے اردگرد چین اور کوریا کی سرزمین بھی ہے اِسلئے کہا جاتاہے کہ اِن دو اقوام کا جاپانیوں پر گہرا اثر رہا ہے ۔ مثال کے طور پر300 بی سی سے 250 عیسوی تک کے یایوئے دور کے بارے میں اثار قدیمہ کی کھدائیوں سے ملنے والی نشانیوں ، جیسے کپڑا بُننے، دھان کی کاشت ، شامان عقائدِ عبادات ، لوہے اور کانسی کے اوزار سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فن چینیوں اور کوریائى لوگوں سے ہی یہاں پہنچا ہے بلکہ اِس بات کے شواہد ہیں کہ چین کے مشہور دریا یانگسی کے اردگرد علاقوں میں چاول کی کاشت آٹھ ہزار قبل از مسیح میں شروع ہوئى تھی اور ایک ہزار بی سی میں یہ جاپانی سرزمین پر پہنچی ۔ یایوئے نسل نے بڑی تعداد میں کوریا کی جانب سے چڑھائى کی ۔ اُنہوں نے آئنو قبائل کے خلاف کئى جنگیں لڑیں ۔ اُن کا دورِ معیشت ، جاگیردارانہ نظام کا ابتدائى دور سمجھا جاتا ہے ۔ اُمراء زمینوں پر قابض تھے اور کسان اور غلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ علاقوں پر قبضہ جمانے کیلئے قبائل کی آپس میں جھڑپیں روز کا معمول تھا ۔ جاپان کے اِس دور کے اُمراء کو معاشرے میں تعظیم اور سیاسی اثر و رسوخ اِسلئے حاصل تھا کہ اُنہوں نے مسلح جنگجو پال رکھے تھے لیکن اُس دور میں چین میں صورت حال مختلف تھی اور وہاں دانشوروں کو بالادستی حاصل تھی ۔ سنہ 238 عیسوی کے لگ بھگ ، چینی تاجروں نے یایوئے لوگوں سے تجارت شروع کی ۔ چینی تاجر کیوشو کے علاقے میں آتے تھے ۔ اُس وقت چین میں ہان شاہی سلطنت قائم تھی ۔ اُس دور کے سفرناموں اور دیگر ریکارڈ کے مطابق اُس وقت کی جاپانی سرزمین 30 ریاستوں میں بٹی ہوئى تھی اور اِس میں سب سے مضبوط ریاست پر ہیمیکو کی حکمرانی تھی ۔ اُس وقت کے چینیوں نے اِسے سرزمینِ وا یعنی بونے یا پست قامت لوگوں کی سرزمین کے نام سے پکارا ہے جہاں پسماندگی ہے اور لوگ ان پڑھ ہیں اور بانس کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں ۔ تاہم اُس دور کے جاپانیوں کو اپنی ثقافت پر بڑا فخر تھا اور اِس میں سب سے زیادہ اہمیت مالک سے وفاداری کو دی جاتی تھی ۔ چاول سے تیار کی ہوئى شراب ساکے بھی اُسی دور کی روایت ہے ۔ تاریخ کے طالب علموں کیلئے اُن چینی تاریخی کُتب کی بہت اہمیت ہےجنہیں ٹونٹی فور ہسٹریزکہا جاتا ہے جس میں 3000 بی سی سے 17 ویں صدی کی مِنگ دورِ حکومت تک کا تذکرہ ہے ۔ اتنے پرانے دور کے انسان کے پاس ایسی مہارت نہیں تھی کہ وہ آنے والی نسلوں کیلئے تاریخ کا قیمتی اثاثہ سائنسی بینادوں پر مرتب کرتا اِسلئے اُس تاریخ میں داستانیں رقم کی گئى ہیں اور اُس میں جاپان کا ذکر بھی ہے ۔ ہمیں جاپان کی تحریری تاریخ کا ریکارڈ 57 عیسوی سے ملتا ہے جس کا ذکر چینی تاریخ کے سرکاری دستاویزات میں ہے ۔ یہ ریکارڈ فان یان نے پانچویں صدی عیسوی میں مرتب کیا تھا جس میں چین کے مشرقی ہان شاہی دور کے واقعات کو ریکارڈ کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظاہر ہے تاریخ جاپان نہایت طویل ہے اور یہاں تاریخ لکھنا مقصد نہیں بلکہ یہ صرف تعارف کے لیئے لکھا ہے تاہم ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کو شاید کبھی فراموش نہ کیا جا سکے

ظاہر شاہ آفریدی نے ایک ہی پیراگراف میں اس طویل انسانی المیے کو محفوظ کر دیا ہے

۔ہیرو شیما پر ایٹمی حملہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ کے اوراق کچھ یوں گواہی دیتے ہیں کہ 30 اپریل 1945 کو ہٹلر نے اپنی محبوبہ ایوا براون کے ساتھ شادی کرنے کے چند گھنٹوں بعد مشترکہ طور پر ایک بنکر میں خودکشی کرلی ۔ مرنے سے پہلے ہٹلر نے کارل ڈونٹز کو جرمنی کا صدر اور جوزف گویبلزکو جرمنی کا چانسلر مقرر کیا ۔ لیکن گویبلزنے یکم مئى کو خودکشی کرلی تھی ۔ دو مئى کو جنگِ برلن ختم ہوئى اور اگلے چند روز میں اٹلی ، ڈنمارک اور ہالینڈ میں موجود جرمن فوجوں نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ اب مختلف محاذوں پر جرمن فوج کے ہتھیار ڈالنے کی خبریں تواتر کے ساتھ آنے لگیں تھیں اور بالاخرآٹھ مئى کو اتحادیوں نے فتح حاصل کرنے کا اعلان کیا ۔ جرمنی اور اٹلی کی شکست کے بعد اب سہ فریقی اتحاد میں صرف جاپان رھ گیا تھا۔ چھبیس جولائى 1945 کو امریکی صدر ٹرومین اور دوسرے اتحادی ممالک کے رہنماؤں نے پوسٹ ڈیم اعلامیہ جاری کیا ، جس میں جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے بعد پیش کیے جانے والے شرائط کا خاکہ دیا گیا تھا ۔ یہ دراصل جاپان کیلئے ایک الٹیمیٹم تھا ، بصورت دیگر جاپان پر ایک بڑا حملہ کردیا جائے گا ۔ دو دِن بعد جاپانی اخبارات میں یہ خبریں نمایاں تھیں کہ جاپان ایسے مطالبات کو مسترد کرتا ہے ۔ جاپانی وزیراعظم کانتارو سوزوکی نے سہ پہر کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ہم پوسٹ ڈیم کانفرنس کے اعلامیے کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ شہنشاہ ہیروہیتو ، نے بھی اپنے موقِف میں کوئى تبدیلی نہیں کی اور اکتیس جولائى کو اپنے مشیر کوایچی کیدو کے ذریعے واضح کیا کہ ہر قیمت پر جاپان کا دفاع کیا جائے گا ۔ امریکہ دو ماہ قبل ایٹمی حملے کیلئے کیوتو، ہیروشیما، یوکو ہاما اور کوکورا پر ممکنہ ہدف کے طور پر غور کرچکا تھا ۔ فیصلہ یہ تھا کہ ہدف تین میل سے زیادہ قطر کا ہو ، موثر طور پر تباہی مچا سکے اور فوجی مقاصد کا یہ حملہ، اگست سے پہلے نہ کیا جائے ۔ دراصل اِن شہروں پر امریکی فضائیہ کی جانب سے رات کی بمباری ابھی تک نہیں کی گئى تھی کیونکہ اتحادی کمانڈ ، اِن شہروں کا پورا اندازہ لگا کر اس کیلئے مطلوبہ مقدار کے اسلحے کی تیاری کر رہا تھا ، کیونکہ ہیروشیما کے بارے میں باورکیا گیا تھا کہ یہاں جاپانی فوج کا بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود موجود ہے اور یہ بندرگاہی شہر ایک بڑا صنعتی علاقہ بھی ہے ۔ ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے ہیروشیما کا ریڈار میں آنا آسان تھا، لہذا یہاں بڑے پیمانے پر بربادی و تباہی مچانے کا امکان موجود تھا۔ یہاں اتنے وسیع پیمانے پر حملے کا منصوبہ تھا کہ اُس کے بعد جاپان پوسٹ ڈیم اعلامیے کے مطابق غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے ۔ اِس حملے کا مقصد یہ بھی تھا کہ جاپان پر نفسیاتی غلبہ پایا جائے اور یہاں پر حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی اہمیت کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کروایا جائے ۔ گو کہ ٹوکیو کا شاہی محل بھی ہدف بنایا جاسکتا تھا لیکن درد بھرے مناظر یہاں نہیں بلکہ ہیروشیما میں زیادہ بہتر طور پیدا کیے جاسکتے تھے ۔ جنگ عظیم دوئم کے اؤائل میں ہیروشیما میں آبادی 3 لاکھ 81 ہزار تھی لیکن چونکہ یہ فوجی سازوسامان کی پیداوار کا ایک اہم شہر تھا اسلئے جاپانی فوجی نے بڑے پیمانے پر عام شہریوں کا انخلاء کیا اور حملے کے وقت یہاں پر کُل آبادی کا تخمینہ 2 لاکھ 55 ہزار لگایا گیا ہے ۔ امریکہ نے مین ہٹن منصوبے کے تحت جس ایٹم بم پر تحقیق کی تھی اُس میں برطانیہ اور کنیڈا کا اشتراک بھی تھا ۔ اِس منصوبے کے تحت امریکہ، ایٹمی اسلحہ کا تجربہ سولہ جولائى 1945 کو نیو میکسیکو میں ٹرینٹی پرچکا تھا اور اب اِس کے عملی استعمال کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا تھا ۔ یہ 6 اگست کی صبح تھی ، اور ہیروشیما کے عوام چند لمحوں بعد آنے والے دردناک قیامت سے بے خبر اُٹھنے کی تیاری کر رہے تھے ۔ اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ اینکولہ گیے نامی وہ بی ۔ 29 طیارہ جو اُن کیلئے موت کا پیغام لیکر آرہا ہے وہ تینیان جزیرے کے ہوائى اڈے سے اپنی اُڑان بھر چکا ہے ۔ اِس طیارے کی حفاظت کیلئے دو مزید طیارے ہمراہ تھے جنہوں نے جاپانی فضائیہ کے کسی حملے سے بچاؤ کیلئے اقدامات کرنے تھے ۔ طیارہ اپنی مطلوبہ بلندی حاصل کرچکا تھا کیونکہ پائلٹ کرنل پاول تیبتس کیلئے حُکم تھا کہ شکار کے قریب پہنچنے سے پہلے کی بلندی اکتیس ہزار فٹ ہونی چاہیے ۔ سفر کے دوران نیوی کیپٹن ولیم پارسنز اور اُن کے معاون سیکنڈ لیفٹینٹ مورس جیپسن نے ایٹم بم میں مطلوبہ تبدیلیاں کیں اور آخر میں سیفٹی پِن نکال کر اُسے حملے کیلئے مکمل طورپر تیار کرلیا تھا ۔ ہیروشیما تک پہنچتے پہنچتے صبح ہوگئى تھی ۔ یہ پیر کی صبح تھی اور سورج نکل چکا تھا ۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ہیروشیما کے ریڈار آپریٹر نے اطلاع دی کہ تین طیاروں پر مشتمل ایک چھوٹا قافلہ شہر کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ چونکہ امریکی فضائى بمباری میں طیاروں کے بڑے بڑے غول اُڑ کر حملہ آور ہوتے تھے اِسلئے چند جہازوں پر کوئى خاص توجہ نہیں دی گئى اور ایمرجنسی ختم کرنے کا سائرن بجایا گیا اور ویسے بھی بمباری رات کو ہوتی تھی اور اب رات کا اندھیرا چھٹ چکا تھا اِسلئے لوگوں نے بے خطر ہوکر معمول کے کام کاج شروع کردینے تھے ۔ لیکن طیارہ اینکولہ گیے اُن کیلئے موت کا فرشتہ بن کر چند لمحوں میں اُنہیں نیست و نابود کر دینے کیلئے تقریباً پہنچ چکا تھا ۔ طیارے پر لدا ہوا نو ہزار سات سو پونڈ وزنی یورینیم سے تیار کردہ لٹل بوائے نامی ایٹمی بم ہیروشیما کیا پوری دُنیا میں تہلکہ مچا دینے کیلئے تیار تھا اور پائلٹ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے پُر عزم تھا ۔ صبح کے 8 بجکر15 منٹ تھے کہ طیارے سے ایٹم بم ، زمین کے رُخ پر چھوڑ دیا گیا اور 43 سیکنڈ بعد انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا ۔ یہ اتنا بڑا دھماکہ تھا کہ فضا میں ساڑھے گیارہ میل بلندی پر اینکولہ گیے بھی ہچکولے کھانے لگا ۔ شہر پر دھواں چھا گیا، کسی کو نہ تو کچھ دکھائى دے رہا تھا اور نہ ہی کچھ سمجھ آرہا تھا ۔ سب کچھ سخت تپیش سے پگھل چکا تھا ۔ نہ تو فضا میں پرندے بچ گئے اور نہ ہی زمین پر انسان و حیوان ۔ جہاں بم گرا وہاں ارد گرد ایک میل کے دائرے میں کوئى عمارت موجود نہ رہی ۔ آگ کے شعلوں کا ایک ایسا جھکڑ چلنے لگا جس نے شاید کسی کو زندہ نہ چھوڑنے کا تہیہ کیا ہوا تھا ۔ آگ نے شہر کا ساڑھے 4 میل تک کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ چونکہ سب کچھ ملیامیٹ ہوچکا تھا لہذا ریڈیو اور ٹیلی گرافک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے خود جاپان کے دوسرے علاقوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے ہم وطن کس حال میں ہیں ۔ نہ باپ رہا نہ بیٹا ، نہ ماں رہی نہ بیٹی ۔ اتنی تباہی مچی کہ کوئى آہ و بکا کرنے والا بھی نہیں تھا ۔ دھماکے اور آگ سے اُڑتی گرد و دھول کو ابھی بیٹھنے میں وقت لگے گا ، کیونکہ دھماکے سے اُٹھنے والے آگ اور دھوئیں کا مرغولہ 45000 فٹ بلندی تک پہنچا تھا اور اِس آگ کے گولے کا قطر 1200 میٹر تھا ۔ آرمی کنٹرول سٹیشن نے ہیروشیما کے بیس سے رابطے کی جدوجہد کی لیکن کوئى کامیابی حاصل نہ ہوئى ۔ فوجی قیادت کی سمجھ سے سب کچھ بالاتر تھا کہ نہ تو کوئى بڑا فضائى حملہ ہوا ہے اور نہ ہی ہیروشیما میں گولہ بارود کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا جس سے بڑی تباہی کا امکان ہو ۔ جاپانی فضائیہ کے ایک سٹاف آفیسر کو حُکم دیا گیا کہ وہ طیارہ لیکر سروے کرے اور حقائق معلوم کرکے اطلاع دے ۔ ہیروشیما پر کیا گزری ہے یہ جاننے کیلئے طیارہ تقریباً 100 میل دور فاصلے سے اڑا تھا اور 3 گھنٹوں تک مسلسل پرواز کرتا رہا ، لیکن مخمصے کا شکار یہ طیارہ بغیر کچھ دیکھے واپس لوٹ گیا اور اپنے آقاؤں کو صرف یہ خبر دے سکا کہ وہاں سوائے بادلوں اور دھوئیں کے کچھ نظر نہ آتا ۔ ٹوکیو میں جاپان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ ہیروشیما کا ریڈیو سٹیشن خاموش ہوچکا ہے ۔ اُنہوں نے ایک اور ٹیلیفون لائن استعمال کرتے ہوئے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی مگر بے سود ۔ اگرچہ ہیروشیما سے 10 میل دور کے ریلوئے سٹیشنوں سے یہاں تک کی رپورٹیں موصول ہوئیں کہ وہاں ایک بڑے دھماکے کی آواز سُنی گئى ہے تاہم تفصیلات معلوم نہیں تھیں ۔ اِسی طرح ریلوئے کے محمکے نے ریل روڈ ٹیلی گراف کے بند ہونے کی اطلاع دی ۔ وہاں کیا ہوا تھا اِس کا علم اُس وقت ہوا جب امریکی صدر ٹرومین کا تیار شُدہ پیغام ، واشنگٹن ڈی سی کے مقامی وقت کے مطابق 6 اگست دِن گیارہ بجے ریڈیو پر سنائى دینے لگا ۔ دُنیا کو 16 گھنٹے بعد علم ہوا کہ امریکہ ہیروشیما پر حملہ کرچکا ہے ۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے جاپانی شہر ہیروشیما پر قطعی طور پر ایک نئے بم ”ایٹم بم“ سے حملہ کیا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق، پہلے دھماکے ، تپیش اور تابکاری سے 70,000 افراد موت کے منہ میں جاچکے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئى اور اگر کینسر اور لمبے عرصے تک بیماری کے بعد مرنے والوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد دو لاکھ تک پہنچی ۔ ایٹمی حملے کے آرکائیوز ریکارڈ کے مطابق، 60 فیصد افراد آگ کے شعلوں سے جھلس کر ہلاک ہوئے جبکہ 30 فیصد ملبہ گرنے اور 10 فیصد دیگر وجوہات سے موت کے منہ میں چلے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ آگ کے شعلوں نے 16 مربع میل تک کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ بحرالکاہل کی جنگیں ، فلپائن کی جنگ ، اوکیناوا جنگ ، اتحادیوں کے بے رحمانہ فضائى بمباری اور ہیروشیما پر ایٹمی حملے سے جاپان کے جسم پر کئى گہرے زخم آچکے تھے ۔ جاپان لڑکھڑاتے دیکھ کر روس نے بھی اس پر حملہ کردیا ۔ یہ 9 اگست تھا ۔ وہی تاریخ جب جاپان پر دوسرا ایٹمی حملہ کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس اس انسانیت سوزی پر مزید لکھنا روح کو زخمی کرنا ہے

اس المیے نے جاپانیوں کو یقین کی دولت دی اور اس یقین نے جاپانیوں کو فطرت کی قربت دے دی اور اب جاپانی حسن فطرت سے پیار کرنے والی قوم ھے ۔ پھولوں سے جاپانی قوم کا عشق کہاوت ھے  کہتے ھیں جاپانی گلدستہ نبانے میں بہت وقت لگاتا ھے مگر دلھن کے انتخاب میں جلد بازي کرتا ھے

جاپان میں سب سے خوبصورت مقامات میں تمام ممکنہ رنگوں اور شاندار باغات، پارکوں اور ساحل کے رنگوں میں چمک.اوکی ناوا کے ایک حربے کے جزائر - "جاپانی ہوائی" سمجھا جاپانی درمیان سب سے زیادہ مقبول سیاحوں کی منزلوں میں سے ایک.تھوڑی دیر دور روزمرہ کی زندگی سے دور توڑ نعمت کے شاندار دنیا میں تکی اور ڈوبکی ہیں کے لئے اس کی لامتناہی ساحل، اشنکٹبندیی پودوں اور فونا سفید ریت کی اجازت دیتا ہے.اور اوکی ناوا کے پانی کے اندر اندر دنیا کی خوبصورتی آسٹریلیا کے ساحل پر صرف گریٹ بیریر ریف مقابلہ کر سکتے ہیں. جزیرے کے دارالحکومت - ناہا عظیم تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی حامل ہے.بدقسمتی سے، دوسری عالمی جنگ کے دوران شہر تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو گیا. اب نیشنل پارک کے علاقے پر واقع ہے اور جاپان کے قومی خزانہ سمجھا جاتا ہے جس شوری کے کیسل، - انہوں نے شہر کے پرل کے طور پر سامنا کرنا پڑا.
2
ٹوکیو - مستقبل کے مناظر کی پرستار کوئی شک جاپان کے دارالحکومت سے لطف اندوز. یہ مکمل طور پر مستقبل میں ایک تیز رفتار کی تلاش میں مقامی لوگوں کی جدید دنیا کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے.جدید عمارتوں اور ایسے روشن رنگ کا یہ کمال کا فن تعمیر آپ کو دنیا کے کسی بھی کونے میں نہیں ملے گا. آسمان بوس عمارتیں  اور شاپنگ مالز، شاہراہیں کی ویب، بہت بڑا ہوٹل اور سوچ کے پاگل سائنس فکشن کی طرف سے پیدا کے طور پر اگر، اندردخش کے تمام رنگوں میں روشن نیین کے ساتھ چھوٹی دکانوں.شاندار باغات، قدیم پگوڈا، پارکوں اور راستے کے ساتھ امپیریل محل - رنگا رنگ پھولوں کی اس لامتناہی فاؤنٹین شہر کے تاریخی مرکز ڈوب.یہاں، دور دنیا کی ہلچل شہروں سے، آپ کو آپ کے دماغ کو آرام کر سکتے ہیں، گانا پرندوں اور پتیوں کی ہوا کی سرگوشی، سرسراہٹ کی بات سننے اور جاپانی شاعروں کی طرف سے گایا اپنی آنکھوں لذت باغات، کے ساتھ دیکھ کر.
3
کیوٹو - جاپان، پرانی روایات کے قدیم دارالحکومت، صنعتی ٹوکیو کی ایک مکمل برعکس کہا جا سکتا ہے.جاپان کے ثقافتی مرکز قدیم بدھ خانقاہوں اور شنتو مزاروں سے بھرا ہوا ہے.مسلسل ہجوم پلائی جس باغات اور پارکوں سے گھرا ہوا ایک منفرد جاپانی انداز میں بنایا محلات اور مندروں میں درجنوں،،،.خوبصورتی اور ورسائی کی شان، جاپانی الفاظ میں ڈال نہیں کیا جا سکتا. امپیریل محل فوشومی کیسل، نیجو کیسل، مندر کے احاطے کیومی زو ڈیرہ اور سی کوکو جی، مندر شیون ان: ہیں سب سے زیادہ اہم ہے جس کی خوبصورت ارکیٹیکچرل یادگاروں، کے درجنوں ہیں.


جاپان ایک مہذب ملک ھےوقت کی پابندی صحت و صفائی ، بغیر اسلام قبول کیے ایمان داری  ، جاپانی قوم سادگی حسن نفاست حسن اخلاق و اعلی کردار سے اراستہ صبر و تحمل کا پیکر  ھیں
جاپانی ھنر مند و فنکار کام کی عظمت پر عقین رکھنے والی عظیم قوم ھے
70 سال قبل  امریکہ نے صبح سویرے ایک روشن دن کو تاریکی میں بدلنے کے لیے  جاپان  پر لٹل بواۓ اور فیٹ مین نامی  اٹیم بم گرا کر اسکے لاکھوں افراد کو صحفہ ھستی سے مٹا دیا گیا تھا
وہ تاریک دن تو کتابوں میں قصوں میں داستانوں میں ایوانوں میں تاریخ کے بدنما صفحات میں محفوظ رھے گا
کس طرح ایک زندہ و خوبصورت شہر بدنما اور مردہ بنا دیا گیا
 آباد گھروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا
کتنی انسانی جانوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا
جاپان کے میوزیم میں 70 سال قبل ایٹم بم اور  اسکی تباہ کاریوں کی کہانی محفوظ ھے


کیا کھبی جاپانی قوم امریکہ کو اس ناقابل معافی جرم پر معاف کریگی ؟تاریخ میں امریکہ سے بڑا کوئ دھشت گرد نیہں ھے ۔ آج بھی کیہں ھونے والی خون ریزی و  دھشت گردی کی پشت پناھی میں امریکہ کا ھی ھاتھ ھوتا ھے
مجھے لگتا ھے  جاپانی قوم نے اپنے کھبی نہ بھرنے والے زخموں پر سکورا کے سفید اور خوبصورت پھولوں کی راکھہ مل لی ھے ۔ھر خوش فطرت جاپانی نے غم کو اپنی شکت نیہں بلکہ اسکو اپنی طاقت بنا لیا ھے

جاپانی بہت باادب و شائستہ قوم ھیں

۔گذشتہ دنوں ایک خوبصورت تقریب میں میری ملاقات کویت مین جاپان کے سیفر کی بیگم سے ھوئی وہ اپنے ھمراہ جاپان سے آۓ ھوۓ بہت خوبصورت پھولوں کے تحائف لايئں تھیں انھوں نےسکورا کے پھولوں والے ھیںڈ پرنٹ کا  ریشمی گرے و سفید رنگ کا  قومی لباس  زیب تن کیا ھوا تھا ،مقصد پاکستانی خواتین کو ایکے بانا سے معتارف و روشناس کرانا تھا
یہ صرف پھولوں کی مختلف و منفرد آرائش ھی نیہں بلکہ فلسفہ حیات ھے،انھوں نے  بڑی مہارت سے پھولوں کو دلکش اشکال میں ڈھالا
 
ایکے بانا اورچاۓ کے بعد جب ھم بے تکلفی سے بات کررھے تھے تو انھوں نے کہا  پھولوں سے پیار کرنے والوں پر قدرت ھمیشہ مہربان رھتی ھے

پھولوں خوشیوں کے پیامبر ھوتے ھیں

انکا استقبال کریں

پھولوں سے گھر سجايئے طویل و خوش گوار زندگی پايئے


مجھے آج بھی ھیروشمیا پر بم گرانے کا واقعہ انسانی تاریخ کا سب سے مکروہ قصہ لگتا ھے

:دیگر مضامین
(26.08.2016) پچیس اگست ۔ مقبول اور معروف شاعر احمد فراز کی 8ویں برسی پر
(24.08.2016) جرمنی میں ہر سال جل جانے والے پندرہ سال سے کم عمر کے تیس ہزار بچوں کا علاج
(23.08.2016) اردو غزل کی معروف شاعرہ ادا جعفری کا 22 اگست یومِ پیدائش ھے
(21.08.2016) چینی بادشاہ کا 2100 سال پرانا مقبرہ دریافت، خزانہ اور نوادرات برآمد
(18.08.2016) کویت میں یوم آزادی کے سلسلے کی اہم کامیاب تقریبات
(16.08.2016) دنیا ئے موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی 19 ویں برسی
(15.08.2016) تیرہ اور چودہ ۔اگست 1947 کی رات قیام پاکستان کی نوید سنانے والی آواز، مصطفیٰ علی ھمٰدانی
(12.08.2016) ایک اور آخری دن ۔۔۔۔۔۔۔۔  شہناز پروین سحر  کی کتاب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.08.2016) چودھری رحمت علی !کوئے یار کو ترستا مسافر باعث افتخار
(11.08.2016) کویت میں آسیان کے  قیام کی 49 ویں سالگرہ کی تقریب
(08.08.2016) کویت میں پاکستان ایر فورس کے سربراہ  سہیل امان کی آمد پر اہم تقریبات
(07.08.2016) میں تو زندانی ہوں زنداں میں دریچہ کیسا ۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(05.08.2016) چھ اگست 1945 کو امريکا نے جاپان کے شہر ہيروشيما پر ايٹم بم گرايا تھا
(05.08.2016) امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور علمی ترقی اور پیشرفت کا دورتھا
(03.08.2016) دو اگست انیس سو نوے کو کویت پر عراق کا حملہ آج بھی میرے زہن میں تازہ ہے۔
(03.08.2016) برطانیہ کے شہر ریڈنگ کی اُردو سوسائٹی کے تحت پاک و ہند مشاعرہ
(01.08.2016) واٹس ایپ،میسنجراوراسکائپ ایک ساتھ استعمال کرنا اب ہوا آسان
(30.07.2016) زیادہ دیر ٹی وی دیکھنا زندگی کے دنوں کو کم کرسکتا ہے: تحقیق
(28.07.2016) برطانوی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ نوجوانوں نے خطوط نویسی کا فن کھو دیا ہے
(25.07.2016) چین: ایک ہی تنے پر بنے فن پارے نے ریکارڈ توڑ دیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں