|
اقبال نے جو دیکھا تھا سپنا بن گیا پاکستان ۔ نیاز احمد انصاری فرانس
14.08.2015, 12:07am , جمہ (GMT+1)
نیاز احمد انصاری فرانس
اقبال نے جو دیکھا تھا سپنا بن گیا پاکستان ۔۔۔ تیر ا میرا سب کا یعنی ہم ہیں پاکستان
قربان ہوں تجھ پہ واری جاؤں میرے پاکستان ۔۔۔ تیرا نہ کوئی ثانی ہو گا دیکھ لیا ہے جہا ن
ایسی دھرتی ایسے مو سم جن پر ہم کو مان ۔۔۔ اس دھرتی پہ رہنے والے عجب تیرے انسان
ملک چلے جو لیکر آگے جو بھی سیا ستدان ۔۔۔ کوتاہ بین وہ عقل کے ا ندھے ہر شئے کا فقدان
کوئی نہ منزل اُن کے آگے بس تھا خاندان ۔۔۔ تیر ہدف سے پہلے ٹوٹے ٹوٹ گئی ہے کمان
سینہ زوری رشوت خوری کہاں گیا ایمان ۔۔ ۔ جھوٹے نعرے جیسے روٹی کپڑا اور مکان
ڈاکہ چوری دہشت گردی اغوا برائے تاوان ۔۔۔ بوڑھے بچے مرد یا عورت محفوظ رہی نہ جان
مہنگائی نے مارا اتنا عوام کی نکلی جان ۔۔۔ ٹوٹ گئی الفت کی ڈوری مِٹ گئی پہچان
باری باری لوٹا سب نے جو بھی آیا حکمران ۔۔۔ گروی رکھ دیا ملک ہمارا کھپے پاکستان
بیچے لختِ جگر ماؤں نے جیسے کوئی دکان ۔۔۔ خود کشیاں ہیں لوڈشڈنگ یا ہیں سیلاب زدگان
طرزِ حکومت جو بھی آ ئی اُسی میں تھا نقصان ۔۔۔ ہم پردیسی دیکھ رہے ہیں انقلابِ پاکستان
روکھی سوکھی کھا لیں گے بس امن رہے امان ۔۔۔ آنکھوں میں اُمید خوشی کی چہروں پر مسکان
دُکھ ہجرت کا نیاز بہت ہے کروں میں کیا بیان ۔۔۔ یاد وطن کی لے ڈوبے گی اے میرے یزدان
ملک ہمارا سونے جیسا جس کی اونچی شان ۔۔۔ قائدِ اعظم پھر سے آؤ سنبھال لو پاکستان
|