|
اللہ پاک کاہلوں کی دعائیں نہیں سنتا۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
27.07.2016, 01:02am , بدھ (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم
دوستو! میں نے جب سے یہ پڑھا ہے کہ اللہ پاک کاہلوں کی دعائیں قبول کرنا تو دور کی بات سنتا تک نہیں تو اپنی زات میں شرمندہ سی بیٹھی ہوں اور سوچ رہی ہوں کہ اللہ پاک کے نزدیک کاہلی کیا ہے جس کو اختیار کرنے سے وہ ہماری طرف دیکھتا تک نہیں ۔ اسی تلاش میں بہت کچھ پڑھ ڈالا ۔۔ ۔۔ لیکن وہ نہ ملا جو مجھے چاہیئے تھا ۔ آجکل میں اپنی جان عزیز دوست شاہین اشرف علی جسے پیار سے میں دلاری کہتی ہوں ،اس کی بھیجی ہوئی کتاب دوقران " پڑھ رہی ہوں، سو وہی کتاب ٹھا لی اورمیری خوشی کی انتہا نہ رہی جب مجھے اپنی تلاش کا سرا مل گیا ۔۔۔۔ صاحب کتاب " جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق" لکھتے ہیں ۔۔۔ " دنیا کی تمام بد اخلاقیوں اور زلتوں کی وجہ جہالت ہے اور جہالت کی وجہ سستی اور کاہلی ہے ، اسی لئے خدا کی تعزیرات میں سب سے بڑا جرم کاہلی ہے ۔ آج جہاں جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے ، جہاں قلم ، پنسل ، کاغذ دستیاب ہیں وہاں " علم " حاصل کرنے کا کیا تصور ہے ۔ یہی نا کہ ہر جمعہ کو بھانت بھانت کی تقریریں سن لیں اور رنگ برنگے فقہی مسائل پر مختلف آراء سنیں اور اپنی راہ لی ۔۔ کیا یہ علم ہے ؟
نہیں میرے عزیز دوستو ۔۔ یہ علم نہیں ہے ۔۔۔ خانقاہوں سے اللہ ہو کے نعرے بلند کرنا انتہائے علم نہیں ہے ۔ فقہ کی چند کتابیں پڑھ لینا انتہائے علم نہیں ہے ۔۔۔۔ معراج علم تو یہ ہے کہ ہم لوگ پہاڑوں ، دریاؤں ، دھاتوں ، پلوں ، ریلوں ، توپوں ، جہازوں ، طیاروں ، اور ٹینکوں کا علم حاصل کریں ۔۔۔ یہ مادہ پرستی نہیں ہے اور نہ ہی دنیا طلبی ۔ یہ اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتیں ہیں اور ہمیں ان کے بارے علم حاصل کرنا ہے۔ ہمیں اس تصور سے باہر آنا ہے کہ دنیا کا علم حاصل کرنا غیر اسلامی ، غیر فطری ، غیر قرانی اور غیر خدائی ہے ۔ قران پاک کی سیکنڑوں آیات ہیں جو ہمیں ان علوم کے بارے متوجہ کر رہی ہیں ۔ چونکہ ہم نے قران پاک ترجمے اور تفسیر سے نہیں پڑھا بلکہ سنی سنائی باتوں سے جانا ہے یا پھر جو ہمیں ہمارے بڑوں نے ہمیں بتایا یا ملاں مولوی نے جو کہا اس پر یقین کر لیا ۔ دوستو ! دین و دنیا کے علوم کی اسی غلط تعریف نے مسلمانوں کو " غلام " بنا رکھا ہے ۔ اس غلامی سے نجات کے لیئے نہ تو صدر امریکہ کو برا کہنے سے مل سکتی ہے اور نہ ہی اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ سے مسلہ حل ہو سکتا ہے اور نہ ہی لمبی لمبی دعائیں مانگنے سے کچھ حاصل ہو سکتا ہے ۔۔ کیونکہ " اللہ کاہلوں کی دعائیں نہیں سنتا " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا راہ ۔۔ آنکھیں کھولیئے دل و دماغ ، آنکھوں اور کانوں کو استعمال کیجئے اور دیکھئے کاہلوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا اور باعمل اقوام کیسی کامیاب ہوئیں ۔
کاہلی سے نجات ، علم حاصل کرنے کی جستجو اور عمل میں دیانتداری ہی ہمیں غلامی سے نجات دلوا سکتی ہے ۔ کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم وہ بد حواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم (انتخاب ) ڈاکٹر نگہت نسیم
|