گذشتہ ہفتے ہم یہا ں تک پہونچے تھے کہ حضو ر (ص) مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور دو سرے دن قیدی بھی پہنچ گئے ۔ا ن ہی قید یو ں میں ایک شخص وہب بھی تھا جو کہ عمیر بن وہب کا بیٹا تھا اس کا با پ عمیر انتہائی خبیث قسم کا انسا ن تھااور جب تک حضو ر (ص) مکہ میں رہے کو ئی دن ایسا نہ گیا کہ اس نے نہ ستا یا ہو۔ اسے حضور(ص) کو طر ح طر ح سے ستانے میں ایک لطف آ تا تھا۔ جب غزوہ بدر میں اس کا بیٹا اسیر ہو کر مدینہ آیا جس کو بنی زریق کے رفا عہ (رض) بن را فع نے اسیر کیا تھااور وہ انہیں کی تحو یل میں تھا ۔اوراسے اپنے بیٹے کے قید ہو نے کی خبر پہنچی تو وہ بے چین ہو گیا ۔اس کو اپنی کر تو تو ں کی بنا پر حضور (ص) سے کسی بھلا ئی کی تو قع نہ تھی ۔لیکن قدرت اس کے لیے کچھ اور ہی سو چ رہی تھی۔ اب آگے حضرت محمدجعفر (رض) سے روایت ہے جو کہ انہو ں نے عروہ (رض) بن زبیر سے سنی تھی ابنِ ہشا م کی زبا نی سنئے ۔وہ تحریر فر ما تے ہیں کہ عمیر اس واقعہ کے چند دن بعد حرم شریف کی طرف گیا تو وہاں صفوا ن بن امیہ کو مقا م ِ حجر پر بیٹھے ہو ئے پا یا۔ تو وہ اس سے مخا طب ہو کر کہنے لگا کہ اے صفوان، گڑھے والو ںکی مصیبت کے بعد اب جینے کا کو ئی فا ئدہ نہیں ہے ۔صفوان کہا واللہ ! تو نے سچ کہا ہے ۔ ان لو گو ں کے بعد زندگی میں کو ئی بھلا ئی نہیں ہے۔ عمیر کہنے لگا کہ سن اگر میرے او پر قر ضہ نہ ہو تااور میں عیا ل دار نہ ہو تا اور میرے بعد انکے تبا ہ ہو جا نے کا خد شہ نہ ہو تا تو میں مدینہ جا کر محمد (ص)کو قتل کر دیتا کیو نکہ اس وقت میرے پاس مدینے جا نے کا جوا ز بھی تھا کہ میرا بیٹا ان کے پا س قید ہے۔
اس پر اس نے اس کو بڑھا وا دیا اورکہنے لگا تو فکر نہ کر تیرا قرضہ بھی آ ج سے میری ذمہ داری ہے۔ اور تیرے بچے بھی جو میں کھا ؤ نگا وہ ان کو کھلا ؤ نگا تو بے فکر ہو کر جا اور اپنا کا م کر کے آ۔ اس نے کہا کہ بس یہ اب میرے اور تیرے در میا ن ہے کسی کو ظا ہر مت کر نا اس نے وعد ہ کیا کہ وہ ایسا ہی کریگا او رعمیر نے مدینہ جا نے کی تیا ری شرو ع کردی سب سے پہلے تو اس نے تلوا رکو دھار کے لیے دیا اس کے بعد اسے زہر میں بجھا بھی لیا۔ اورپھر اس نے مدینے کے راہ لی۔ روانہ ہو کرجب وہ مسجد نبوی (ص) کے سا منے او نٹ کو بٹھا کر اتر رہا تھا تو سب سے پہلے اس پر حضر ت عمر (رض)کی نظر پڑی ۔اتفا ق سے اسو قت وہ کچھ لو گو ں کے در میا ن بیٹھے ہو ئے غز وہ بدر کی ہی با تیں کر رہے تھے کہ اللہ تعا لیٰ نے کس طرح اپنے حبیب (ص) کو فتح سے نوازا اور کفار کو ذلت سے کہ دشمن کی نا مرادی دنیا پر آشکارا کردی۔ اتنے میں یکا یک ان کی نظر عمیر بن وہب پر پڑی ۔جب اس نے اپنا اونٹ مسجد کے دروا زے پر بٹھا یا تو اس کے گلے میں تلوار حما ئل تھی۔حضرت عمر (رض) نے کہا واللہ ! یہ کتا ! اللہ کا دشمن کسی نیک ارا دے سے نہیں آیا ہے۔یہ وہی شخص ہے جس نے ہمارے در میا ن جنگ کی آگ بھڑ کا ئی، یہ ہی وہ شخص ہے جس نے بدر کہ دن دشمنو ں کو ہماری تعدا د کا تخمینہ بتا یا۔پھر حضرت عمر (رض) رسو ل (ص) اللہ کے پاس تشریف لے گئے اور عرض کی: یا رسول (ص) اللہ ! اللہ کا دشمن عمیر بن وہب تلوار حما ئل کیئے ہو ئے آیا ہے۔ فر ما یا : فد خلہ علیٰ (میرے پاس آنے دو ) حضرت عمر (رض) نے اس کی تلوار گر دن اور گریبا ن سے ملا کر پکڑلی اور ساتھ جو انصار تھے ان سے کہا کہ اس بد بخت کا کو ئی اعتبار نہیں ہے۔اسے اندر رسو ل (ص) اللہ کے پاس لے چلو مگر اس بات کا خیال رکھنا کہ یہ خبیث بھروسے کے قابل نہیں ہے۔ پھر اسے رسو ل (ص) اللہ کے پاس اندر لے گئے ۔ اسے جب اس حالت میں آتے دیکھا تو حضو ر (ص) نے فرما یا : ارسلہ یا عمر (اس کو آنے دو)اور پھر اس سے مخاطب ہو کر فر ما یا : ادن یا عمیر (اے عمیر میرے نزدیک آؤ ) وہ نزدیک آگیا اور کہا (انعمو صباحاً) تمہارا دن اچھا گذرے ۔یہ عہد جا ہلیت کا سلام تھا۔ اسکے جواب میں حضو ر (ص) نے فر ما یا ”اے عمیر! ہمیں اللہ نے اس سے بہتر دعا عطا فر ما ئی ہے جو تمہا ری دعا سے بہتر ہے اور وہ ہے سلام جو جنت والو ں کی دعا ہے“۔ اس نے کہا سنئے اے محمد (ص) ،واللہ میں اس سے واقف نہیں ہو ں۔ اس کے بعد رسول (ص) اللہ نے سوال کیا : ”اے عمیر تمہیں کو نسی چیز یہا ں لا ئی ہے ۔اس نے کہا کہ میں اس قیدی کے لیے آیا ہو ں جو آپ لو گو ں نے گرفتار کر رکھا ہے۔اس کے مطا بق احسان کیجئے“۔: آپ (ص) نے پو چھا کہ پھر یہ تلوار گلے میں کیو ں ہے؟ اس نے کہا اللہ ان تلواروں کا ستیا ناس کرے،یہ ہمارے کچھ کا م نہ آئیں۔آپ(ص) نے دو بارہ فر ما یا کہ تم مجھ سے سچ سچ کہدو کہ یہا ں کیو ں آئے ہو؟اس نے کہا میں بجز اس کے اور کسی کا م سے نہیں آیا۔ تب حضور (ص) نے فر ما یا ”بل قعدت انت و صفوا ن بن امیہ فی الحجر نذکر تما اصحاب القلیب من قریش ثم قلت لو لا دین علیٰ و عیا ل عندی لخرجت حتیٰ اقتل محمد فتحمل لک صفوان بد ینک وعیالک علی ا ن تقتلنی لہ واللہ حا ئل بیٰنک و بین ذالک۔“
ترجمہ: حضور نے فر ما یا ”کیو ں نہیں۔ تم صفوان بن امیہ کے سا تھ حجرے میں بیٹھے تھے اور تم نے قریش کے گڑھے میں پڑے لو گو ں کا ذکر کیا ۔اس کے بعد تم نے کہا کہ اگر مجھ پر قرض نہ ہو تا اور میرے با ل بچے نہ ہو تے تو میں نکلتا تا کہ محمد (ص)کو قتل کر دو ں اورصفوان بن امیہ نے تمہا رے قرض اور تمہا رے بچو ں کا با ر اپنے سر لیا ،اس شرط پر کے تم مجھے (ص) اس کے لیے قتل کرو ،حا لا نکہ اللہ میرے (ص) اور تمہارے اس ارادے کی تکمیل میں اللہ حا ئل ہے۔تم اپنا یہ ارادہ پو را نہیں کر سکتے “۔ عمیر نے کہا کہ میں گو اہی دیتا ہو ں کہ آپ (ص) اللہ کے رسو ل ہیں ۔بے شک ہم اس با ت میں آج تک جھو ٹا خیا ل کرتے تھے،جوآپ (ص) ہمارے آگے آسما ن کی خبریں پیش کیا کرتے تھے۔جو آپ (ص)کے پاس وحی کی شکل میں نازل ہوا کرتی تھیں ۔مگر یہ بات تو ایسی تھی جوسوا ئے میرے اور صفوان کہ کو ئی اور موجود ہی نہیں تھا۔اس لیے واللہ ! میں جا نتا ہو ں کہ یہ خبر سوا ئے اللہ کے کو ئی اور نہیں لایا۔ پس تعریف اس اللہ کی جس نے مجھے اسلام کی را ہ دکھا ئی اور مجھے اس طرح ہا نک لا یا۔ پھر انہو ں نے با قا عدہ کلمہ پڑھا تو حضور (ص) نے صحا بہ کرام سے فر ما یاکہ ”اپنے بھا ئی کوتعلیم دو اور انہیں قر آن پڑھا ؤ اور ان کی خا طر سے ان کا قیدی رہا کردو “۔ جو شخص زندگی سے ما یو س تھا اللہ کی اورنبی (ص) کی رحمت سے ما یو س تھا ۔اس کا دا من اللہ تعا لیٰ نے خوشیوں سے بھر دیا۔دوسری طرف صفوان ہر ایک سے کہتا پھر رہا تھا کہ میں تمہیں بہت جلد ایک خو شخبری سنا نے وا لا ہو ں لو گ پو چھتے کیا؟ تو کہتا انتظار کرو تمہیں جلد ہی معلو م ہو جا ئیگا۔لیکن قدرت اس پر ہنس رہی تھی۔کچھ عرصہ کے بعد جب انہو ں نے خودکو تعلیمات ِ اسلا م سے آرا ستہ کر لیا تو ایک روز کہنے لگے ۔کہ حضو ر (ص) پہلے میں اللہ کا نو ر بجھانے میں کو شا ں تھااور جو لو گ اللہ جل شا نہ کے دین پر کار بند تھے ان کے لیے بہت سخت تھا ۔اب میں اس کا مدا وا کر نا چا ہتا ہو ں ۔اب مجھے اجا زت مر حمت فر ما ئیں کہ مکہ وا پس جا کر انہیں اللہ اور رسو ل (ص) کی طرف بلاؤں اور دین پھیلانے کی کو شش کرو ں تاکہ اللہ انہیں بھی سید ھی را ہ پر لا ئے۔آخر حضو ر (ص) نے مکہ وا پس جا نے کی انہیں اجا زت دیدی اور وہ مکہ روا نہ ہو گئے ۔ادھر صفوان خو ش خبری کے انتظار میں مدینہ سے آنے والے راستہ پر بیٹھا رہتا ،اور جو قا فلہ اد ھر سے گذر تا اپنی مطلو بہ خبر سننے کے لیے بے تاب رہتا۔ آخر ایک دن اس کی مراد بر آئی اور ایک مسا فر مدینہ سے سید ھا آر ہا تھا اسے مل گیااور اس نے اس سے بڑے اشتیا ق سے پو چھا کہ کو ئی نئی خبر بھی ہے تیرے پاس !اس نے کہا ہا ں! ایک شخص عمیربن وہب حضور (ص) کو قتل کر نے گیا تھا اور اس کے سا تھ یہ واقعات پیش آئے اور اس نے فوراً اسلام قبو ل کر لیا۔اس نے یہ سنتے ہی قسم کھا لی کہ نہ وہ کبھی اس کو نفع پہنچا ئے گا نہ بات کریگا۔اس کے بعد عمیر مکہ پہو نچے اور اسلام کی دعوت دینے لگے ۔ جس طر ح وہ پہلے اسلا م کی مخا لفت میں شدت پسند تھے اسی طر ح اب اس کی حمایت میں شدت سے مصرو ف ہو گئے۔اور بہت سے لو گ ان کے ہا تھ پر مشرف بہ اسلام ہو ئے۔اللہ اکبر! وہ جو چا ہتا ہے کرتا ہے۔ باقی آئندہ