
دوہزار پندرہ میں اگست کا مہینہ ایسا آیا ہے کہ ٹھہرا سا لگتا ہے ۔ میں نے سوچا تھا اس بار صرف اپنے اُن مشاہیر کی احسانمندی ہو گی جنہوں نے ہمارے سکھ کی خاطر اپنی جانیں لٹا دیں تھیں ۔ اپنی زہانت ، دولت اور وقت کو اس سرفروشی سے نثار کر دیا کہ 14 اگست کو 1947 میں ایک آزاد ملک پاکستان کو ہم سب کے لیئے حاصل کر لیا تھا ۔ قائد اعظم سمیت اپنے اپنے شعبے کے ان جانبازوں نے پاکستان کے قیام کی تحریک میں اپنا اپنا حصہ کسی مفاد کے بغیر آنے والی نسلوں کے لیئے ڈالا تھا اور چومکھی جنگ اس لیئے لڑی تھی کہ اپنے آج کو ہمارے کل پر قربان کر دیا تھا
ان مں سے بڑی عمر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ بھی علم تھا کہ جوشجروہ لگا رہے ہیں اسکا پھل وہ نہیں کھا سکیں گے لیکن تسلی کا باعث یہ خیال تھا کہ انکی اگلی نسلیں آزاد ہونگی کسی کی غلام نہیں۔ انکے وہم وگمان میںں بھی نہیں ہو گا جن نسلوں کے کل کے لیئے وہ اپنا آج قربان کر رہے ہیں ان بڑی اکثریت احسان فراموش ہو گی۔ انہیں اپنے محسنوں کے نام بھی معلوم نہیں ہونگے اور وہ ان آزادی دلوانے والوںں کی عزت و تکریم سے بھی عاری ہونگے
اب تو نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ پاکستان بنانے والوں کی نسلیں پش منظر میں جا چکی ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی اور جن کے بڑوں نے قائد اعظم کو کافر اعظم اور پاکستان کو کافرستان کہا انکی نسلیں سامنے آ گئی ہیں اور یہ منوانے پہ مُصر ہیں کہ پاکستان کے قیام انکے بزرگوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے
یوں لگتا ہے جیسے خیر و شر کی لڑائی روز الست سے ہے اسی طرح سے مملکت پاکستان کے حامیوں اور مخالفوں کا ٹکراؤ اول روز سے ہے ۔ سو اس بار بھی یہی ہوا ۔۔ مجھے خود پاکستان کی طرفداری اور احسانمندی کی گفتگو کر کے ایک گروہ سے گالیوں کی شکل میں عزت کروانی پڑی ، پر میں یہی سوچتی رہی کہ ان جان فروش ہستیوں کی قربانی کے سامنے ان گالیوں اور بد زبانیوں کی حثیت ہی کیا ہے ۔۔۔میں محسن کش قوموں کے انجام سے لرز جاتی ہوں ۔۔ پھر ہمت جمع کرتی ہوں اور نئی لگن سے اپنا کام شروع کر دیتی ہوں ۔۔۔
مجھے اس وقت ممتاز کالم نگار ڈاکٹر ممتاز مغل کا پچھلے برس کا لکھا ہوا لکھا کالم یاد آ رہا ہے ۔۔ آپ لکھتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“
دنیا بھر میں ایک سو نوے کے لگ بھگ ممالک ہیں اور ان میں بسنے والوںکی تعداد تقریباًسات ارب ہے۔ کوئی ایسا ملک نہیں جہاں قومی ایام پر ہم آہنگی کی بجائے فکری انتشار پیدا کیا جاتا ہو۔کوئی ملک اس فضول بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا جس میں اس کے قیام کی وجوہات کو ناجائز قرار دیا جائے ۔کوئی قوم اتنی احسان فراموش نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے محسنوں کے کردار پر کیچڑ اچھالے۔ کسی ریاست کا قانون اپنے ذرائع ابلاغ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ملکی وجود کے خلاف پروپیگنڈا کرنے‘ مسلمہ حقیقتوں کو متنازعہ بنانے اور قومی تخلیق کے اسباب کو غیر حقیقی قرار دےنے پر مذاکرے کرائے۔
پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے کہ جس میں محض اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے‘ اپنے کالم میں زور پیدا کرنے اور اپنے اخبار کی دھار تیز کرنے کے لئے چودہ اگست ‘ 23مارچ‘6ستمبر۔قائداعظم ، علامہ اقبال ؒ، سرسید احمد خان اورلیاقت علی خان ؒ سمیت قومی شخصیات اور ایام کے بارے میں جو منہ میں آئے وہ اچھال دے‘صفحے پر بکھیر دے! ٹی وی سکرین کی آڑ میں ذہنی تشدد کی یہ اذیت گاہیں صرف اسی ملک میں وجود پاتی ہیں “ پھر بہت دردمندی سے لکھتے ہیں “ پیمرا‘وزارت اطلاعات اور ٹی وی چینلز کی مفاداتی تنظیمیں خدا جانے اس ملک کو ذہنی خلفشار کا شکار کرکے کس دشمن گروہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔یہ سیکولر کس جنس کا نام ہے کوئی نہیں جانتا۔یہ نسل لنڈا بازار کے دانشوروں کے ہاں پیدا ہوئے جارہی ہے۔صحافتی بددیانتی دیکھئے کہ 23مارچ کو ایک دو ٹی وی چینلز چھوڑ کر ہر کسی نے ”قرارداد پاکستان“ کو متنازعہ بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگایا۔ ”ہمیں اس قرار داد نے کیا دیا؟“۔”کیا ہم نے پاکستان اس لئے بنایا تھا“۔”قائداعظم کا فلسفہ ریاست یہ تو نہیں تھا“۔” یہ تو قرارداد لاہورتھی۔ اسے سازش کے تحت قرارداد پاکستان کا نام دے دیا گیا“۔ اگر ان جعلی دانشوروں کی پیدائش ایک سازش ہے تو پھر اس ملک کے وجود میں آنے کا سبب 23مارچ کا دن بھی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بھی ڈاکٹر ممتاز مغل کی طرح افسردہ ہوں ۔۔ خوفزدہ ہوں ۔۔سوچ رہی ہوں کہ ان شکوک شبہات پھیلانے والوں کو اس پاک سر زمین پر ترس کیوں نہیں آتا ؟ ۔۔۔ سوچیئے تو اس ارض پاک کا وجود کتنا کمزور ہے کہ اس پر حکومت کرنے والے نااہل ۔۔ ایک ایک ادارے پر سب سے بڑا جاہل اور نا اہل تعینات ہے ۔۔ ادب ، ریڈیو ، ٹی وی ، اخبار ۔۔ غرض ہر ابلاغ کا زریعہ وہ بات ابلاغ کر رہاہے جس سے اس پاک وطن کی جڑیں کمزور سے کمزور تر ہوں ۔۔۔
اس وقت بجا طور پر یہ دیکھا جا سکتا ہے پاک وطن پر وہ لوگ حکومت کر رہے ہیں جنہیں نظریہ پاکستان سے ہی اختلاف ہے ۔ جنہیں پاکستان دنیا کے نقشے پر فالتو ملک لگتا ہے ۔ سو ان لوگوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ آہستہ آہستہ وہ تمام ہستیاں جنہوں نے اپنی جانیں گنوا کر ، اپنی دولتیں لٹا کر ، اپنا وقت دے کر اس پاک وطن کو ہمارے لیئے حاصل کیا انکا نام و نشان تک مٹا ڈالا جائے ۔۔
قائد اعظم اب صرف توپوں کی سلامی اور مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی کے لیئے رہ گیا ۔ یہی حال علامہ اقبال کا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ نام نہاد دانشور ملکی ٹی وی پر بیٹھ کر اقبال کو باقاعدہ گالیاں تک دیتے ہیں اور انکو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیاقت علی خان کون تھے ۔۔ مجید نظامی نے کیا کیا ۔۔ راجہ صاحب محمود آباد کس مجاہد کا نام تھا؟ مولانا ظفر علی خان کا کیا کردار تھا۔ لاہور کے سیکرٹریٹ پر پرچم لہرانے والی خاتون کون تھیں۔ ٹرینوں میں زندہ جلائے جانے والے خاموش شہدا کے نام کیا تھے ۔۔ آزادی کی پہلی نوید سنانے والے مصطفی علی ہمدانی کس ادارے کی پہچان تھے ۔۔ ؟ یہ کام تو غیور قوموں کے ہواکرتے ہیں جو اپنی مشاہیر کو اپنا سرمایہ حیات سمجھتے ہیں ۔ ہم جیسوں کے نہیں جنہوں نے غلامی کی زندگی میں ایک سانس بھی نہیں لیا اور آزاد ملک میں آنکھ کھولی لیکن آج احسان فراموشی کی معراج پر ہیں۔ احسان کرنے والوں کو یاد کرنا تو کجا ہماری ایک جماعت ایک گروہ ان جانبازوں اور سرفروشوں کی عزت کرنے کو بھی تیار نہیں ہے
جاری ہے