|
ہماری روز مرّہ زندگی میں پھل اورپھلوں کے رس کی اہمیت۔ از؛ سیدہ زائرہ عابدی
31.08.2015, 09:20am , سوموار (GMT+1)
آج کے دور میں مغربی معاشرے میں موٹاپا ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں بھی اب پہلے کے مقابلے میں موٹاپا چڑھنا ایک عام سی بات ہو گئ ہے ،،چلئے موٹاپا اگر چڑھ بھی جائے تو کیا مضائقہ ہے اپنا بدن ہے کسی اور کا تو نہیں ،لیکن زراٹہرئیے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے جسم نے آپ کے قد کے اعتبار سے اگروزن زیادہ بڑھا لیا ہے تو آپ کے لئے جوڑوں کی تکالیف کا سو فیصد امکان ہوچکا ہے کیونکہ جسم کا فساد کہئے یا فالتو کچرا یورک ایسڈ کی شکل میں آ پ کے جوڑوں میں گھس کر بیٹھنے کو تیّار ہو چکا ہے اور بس ایک مرتبہ اگر اس نے جسم کے جوڑوں جگہ بنا لی تو سمجھ لیجئے کہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا جوئے شیرلانے کے برابر ہوتا ہے۔اس لئے جسم کو تروتازہ اور ہلکا رکھنے کے لئے پھلوں اور سبزیوں پر بھرپور توجّہ دیجئے البتہ مرض ذیابیطس میں پھلوں کا بکثرت استعمال مفید نہیں جبکہ جامن خوب استعمال کرسکتے ہیں۔
پھل قدرت کا حسین تحفہ اور بےمثل نعمت ہیں ۔ ان میں شکر‘ فولاد اور حیاتین اور دیگر معدنی ااجزا بکثرت ہوتے ہیں۔ یہ قدرتی اجزاءجسم کی بہترین نشوونما کرتے ہیں اور صحت کو برقرار رکھتے ہیں۔ بیمار ہونے کی صورت میںجلدی شفا یابی کی طرف لاتےہیں اور شفاء کا باعث ہوتے ہیں۔پھل زودہضم ہونے کی بناء پر جلد ہضم ہوتے ہیں۔ اس طرح پھلوں کا رس بھی ہمارے بدن میں پہنچتے ہی بہت جلد ہضم ہوجاتا ہے بلکہ اکثر غذا کی نالی سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہوکر رگ و ریشہ میں پہنچتا ہے۔ پھلوں میں عام طور پر پانی کا حصہ زیادہ ہوتا ہے جب کہ چکنائی‘ کاربوہائیڈریٹ اور روغنیات بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا جسم انسانی کی نشوونما اور توانائی کیلئے بہت اہم ہیں۔ پھلوں کے رس کے ذریعے ملنے والی شکر دوسری شکر کے مقابلے میں زودہضم اور لذیذ ہوتی ہے اور نقسان کے بجائے فائدہ رساں ہوتی ہے ۔اگر کوئی شخص بدہضمی کا شکار ہو تو اسے دو تین ہفتےکیلئے پھلوں کا رس استعمال کروایا جائے تو نہ صرف بدہضمی جاتی رہے گی بلکہ نظام ہضم کی اور خرابیاں بھی جاتی رہیں گی۔ امراض جگر میں تو پھلوں کا رس اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ جگر پھلوں کی شکر کو دوسری شکر سے جلد ہضم کرلیتا ہے ۔ ۔ قبض کی صورت میں جہاں تک ہو سکے دواؤں سے بچیں اور قدرت پر انحصار کریں کیونکہ دواؤں کا استعمال عارضی فائدہ رساں ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کیلئے پھلوں کا رس بہت مفید مانا گیاہے۔ ناشپاتی‘ نارنگی اور کیلے میں قبض سے نجات حاصل کرنے کی قدرتی صلاحیت ہے ۔قدرت نے پھلوں کے رس میں خون صاف کرنے کی بڑی صلاحیت رکھی ہے۔ جو لوگ پھلوں کا رس باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں ان چہرے کی رنگت خواہ کیسی ہو بارونق نظر آتی ہے۔ نارنگی کے باقاعدہ استعمال سے خون کے فاسد مادے خارج ہوجاتے ہیں‘ جلد کا رنگ نکھرتا ہے اور خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔ داغ‘کیل اور چھائیاں وغیرہ جاتی رہتی ہیں۔دور حاضر میں اکثر لوگ خون کی کمی کا شکار ہو جاتےہیں ان کیلئے پھلوں کا رس بہترین دوا ہے کیونکہ پھلوں کے رس سے خون کی کمی قدرتی طور پر دور ہوتی ہے ۔
قدرت نے پھلوں میں وٹامنز کا بھرپور خزانہ رکھا ہے۔ ایسے پھل جن میں ترشی ہوتی ہے وہ جلدی امراض اور فساد خون جیسے امراض میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے اصحاب کو نارنگی اور لیموں کا استعمال کرنا چاہیے۔ ایک خیال یہ کیا جاتا ہے کہ بچوں کو موٹا تازہ کرنے کیلئے خوب گوشت کھلایا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پھل اور ان کا رس زیادہ بہتر تدبیر ہے۔ البتہ مرض ذیابیطس میں پھلوں کا بکثرت استعمال مفید نہیں جبکہ جامن خوب استعمال کرسکتے ہیں۔ تحقیقات جدیدہ اس بات کی مظہر ہیں کہ پھل کھانے سے ان کارس استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔
پھلوں کا رس بدن میں چستی اور طبیعت میں فرحت پیدا کرتا ہے‘ دل ودماغ کو سکون ملتا ہے۔ پھلوں کا رس اس عام صحت مند انسان اور مریضوں دونوں کیلئے یکساں مفید ہے۔ آج کے دور میں پھلوں کے رس کا حصول کوئی مشکل نہیں رہا‘ جگہ جگہ پھلوں کا رس نکالنے والی مشینیں ہیں اور گھروں میں بھی آسانی سے رس نکالا جاسکتا ہے۔ پھر اس رس کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ بالکل خالص ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوتی۔
چکوترا، ترش پھلوں میں بہت اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اس کا ذائقہ اشتہا انگیز اجزا اور فرحت بخش تاثیر اسے یہ اعلیٰ مقام دیتے ہیں۔ اس پھل کی جسامت بعض اوقات بہت بڑی ہوتی ہے ۔ چکوترا کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں۔ اس کا گودا ہلکا زرد یا گلابی رنگ کا ہوسکتا ہے، ا س کا چھلکا پون انچ تک موٹا ہوتا ہے۔ غذائی اہمیت چکوترا کا پھل غذائیت بخش، مفرح اور ان تمام اجزاءکا مالک ہوتا ہے جو سنگترے یا مالٹے اور لیموں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک قسم میں بیج نہیں پائے جاتے۔ وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ اس میں شکر، کیلشیم اور فا سفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ۔ چکوترے کے ایک سوگرام میں 92.0 فی صد رطوبت 0.7 فی صد پروٹین، 0.1 فی صد چکنائی، 0.2 فی صد معدنی اجزاءاور 7.0 فی صد کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں۔ اس کے معدنی اور حیاتینی اجزاءمیں 20 ملی گرام کیلشیم، 20 ملی گرام فاسفورس، 0.2 ملی گرام آئرن، 31 گرام وٹامن سی اور کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس، وٹامن اے اور بی پائے جاتے ہیں اس کی غذائی صلاحیت 32 کیلوریز ہے۔ شفا بخش قوت اور طبی استعمال چکوترا عمدہ قسم کا اشتہاانگیز (بھوک بڑھانے والا) پھل ہے۔ لعاب دہن اور معدے کے انزائمز کو بڑھا کر نظام ہضم کو تقویت دیتا ہے۔ تیزابیت اس کے تیز اور نیم ترش ذائقے کے با وجود ، تازہ چکوترا میں ہضم ہونے کے بعد تیزابیت دور کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ اس میں پایا جانے والا سڑک ایسڈ انسانی بدن میں عمل تکسید سے گزرتا ہے چنانچہ بدن میں کھاری رطوبتیں بڑھ جاتی ہیں اور تیزابیت کم ہوجا تی ہے۔ چکوترا کا جوس تیزابیت کی وجہ سے جنم لینے والی دیگر متعدد بیماریوں کے علاج میں کارآمد ہے۔ پیٹ کی بیماریا ں چکو ترا، قبض دور کرنے میں بہت نافع ہے۔ اس کا گودا پوری طرح استعمال ہونے پر اجابت کو یقینی بناتا ہے۔ یہ آنتوں کو صحت مند رکھتاہے۔ آنتو ں کی سوزش ہو یا پیچش ہو یا اسہال جاری ہوں یا معدے کی تیزابیت چین نا لینے دے رہی ہوا ن کیفیات میں چکوترا بہترین اور موثر غذا ہے۔
جبکہ ذیا بیطس ماہرین بھی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے چکوترے کو بہت بہترین غذا بتاتے ہیں ۔ اگر اسے وافر مقدار میں استعمال کیا جائے تو ذیابیطس کا مرض کم ہوسکتا ہے۔ شوگر کے مریض روزانہ چکوترے کے تین پھل تین وقت استعمال کریں۔ اگر آپ شوگر کے مریض نہیں لیکن موروثی طور پر یا دیگر اسباب کی بناءپر اس کا امکان رکھتے ہیں تو اس سے بچنے کے لیے روزانہ تین چکوترے ضرور کھائیں۔ پھل، سبزیا ں اور جوس زیادہ استعمال کریں۔ اگر آپ انسولین نہیں لیتے تو یہ معمول دو ہفتوں میں شوگر ختم کردے گا۔ اگر انسولین کے ہمراہ چکوترے کا استعمال بالآخر مرض کا خاتمہ کر دے گا ۔ چکوترے کا جوس، انفلوئنزا میں ایک عمدہ علاج ہے کیونکہ یہ تیزابیت کو کم کرتاہے اور اس کے تلخ اجزاءمیں پائی جانے والی وٹامن سی قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے۔ چکوترے کا جوس ہر قسم کے بخار میں بہترین دوا ہے۔
یہ پیاس کی شدت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور بخار کی وجہ سے پیدا ہونے والی حدت کا احساس دور کرتاہے۔ اس کا جوس پانی میں ملا کر استعمال کیا جا ئے تو بہت جلد افاقہ ہوتا ہے۔ اورملیریا کے مرض میں بھی اطّباء چکوترے کا ستعمال بہت مفید بتاتے ہیں کیونکہ چکوترے میں قدرتی کونین پائی جاتی ہے۔ جہ کہ ملیریا کے علاج میں سود مند ہے۔ ملیریا بخار سے بچاؤ کے لئے چکوترا کے پھل کا ایک چوتھائی حصہ لے کر اسے پانی میں ابال کر اور پھر گودے کو چھان کر پینے سے جسم میں کونین کے اثرات سرائت کر جاتے ہیں جو ملیریا سے بچاؤ کا باعث ہوتے ہیں -- روز مرّہ کے کاموں میں ہونے والی جسمانی تھکن اور اضمحلال کا علاج کرنے کے لیے چکوتر ا فوراً طاقت پہنچاتا ہے ۔ ایک گلاس چکوترے کے جوس میں کچھ مقدار لیمن جوس کی ملا کر پیئں اور طاقت کے جادوئ اثرات دیکھیں ۔ یہ پھل پیشاب کی مقدار اور اخراج میں اضافہ کرتاہے۔ جگر، گردو ں اور امراض قلب کے سبب پیشاب میں کمی کی شکایت رفع ہو جاتی ہے کیونکہ چکوترے کے پھل میں وٹامن سی اور پوٹاشیم خوب پائی جاتی ہے۔
|