15.10.2026, 02:16pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

 کا روائی قانونی بھی اور غیر قانونی بھی ۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور
02.09.2015, 02:35am , بدھ (GMT+1)

ہمارے ملک میں سارے ہی مسائل چل رہے ہیں جن میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا وہ ہے کہ  کا روائی قانونی بھی اور غیر قانونی بھی ۔ہمارے ملک کے سارے عقلمند آج کل شاید عقل بند ہو گئے ہیں ۔کیونکہ معاملات اس تیزی اور سرعت سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی حل کسی کو بھی نہیں مل رہا سوائے اس کے کہ کچھ دماغ کام کر رہے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ سب کچھ قانون کے مطابق ہو رہاہے ،کچھ کہتے ہیں سب کچھ غیر قانونی ہے ۔اور ہم جیسے معصوم اور قانونی باتوں سے نابلد لوگ حیرت کے سمندر میں غوطے کھاتے رہتے ہیں کہ ہم کدہر جا رہے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا ؟اسمبلی کے اسپیکر بھی قانونی اور غیر قانونی کی ذَد پر آگئے ہیں اور یہ وہی حلقے ہیں جن کے لئے دھرنے دئے گئے آواز اُٹھائی گئی اور احتجاج کیا گیا کہ دھاندلی ہوئی ہے کہتے ہیں دھاندلی نہیں بد نظمی ہوئی ہے اب اگر بد نظمی حقدار کے بجائے بے حق کو اسمبلی میں پہنچا دے تو اسے کیا کہینگے یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔کہتے ہیں اس سے شفاف الیکشن پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوئے پاکستان بیچارہ ہر حالت میں لمبا سانس کھینچ کر رہ جاتا ہے کہ افسوس مجھے کوئی بھی اچھا چلانے والا نہ مل سکا ۔کوئی بھی ایماندار اور حق پر چلنے والا حکمران نصیب نہ ہو سکا ۔ملک کو کسی نے نہ بڑھایا اپنی اپنی دولت بڑھا کر نکل گئے جو اچھے حکمران اآئے کچھ زیادہ نہ کر سکے کہ بد عنوان لوگوں نے انہیں کام نہ کرنے دیا صرف کھانے پینے والوں کو موقع دیا گیا کیونکہ جب کسی کے کاموں پر فیصلوں پر کوئی آواز نہیں اُٹھتی تو ہم کہیں نہ کہیں اُن لوگوں کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں جو غلط کام کر کے بھی سرُ خُرو ہوتے ہیں ۔

ہم آج تک وہ پیسہ باہر سے ملک میں نہ لاسکے جو ہمارے ملک سے باہر بھیج دیا گیا بس شور مچاتے رہتے ہیں لیکن قانون کدہر ہوتا ہے پتہ نہیں ۔کسی مقدمے کا وقت ختم ہو جاتا ہے کچھ اپنی موت آپ مر جاتے ہیں کہ گواہ دستیاب نہیں ہوتے ۔شاید ہی کسی ملک میں قانون اتنا غیر قانونی ہو ۔کہ اسمبلی میں موجود لوگ بھی اس سے بری الزمہ ہیں اوراسمبلی سے باہر لوگ بھی ؟؟؟
ہر فیصلے پر اسٹے آرڈر لے کر اپنا وقت پورا کر لیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ ہمارے ملک میں ہورہا ہے ۔ایک وزیر اس حکم پر اسمبلی اور اپنی وزارت میں موجود ہیں اب اسپیکر بھی شاید اس بات سے فائدہ اُٹھائینگے ۔ہمیں دُکھ صرف اتنا ہوتا ہے کہ قانون کو اتنا بے بس نہیں ہونا چاہئے کہ جو اس سے جس طرح چاہے کھیلے اور وہ حرکت میں نہ آئے ۔پہلے سو موٹو اس قدر لئے جاتے تھے لیکن فیصلہ ایک کا بھی نہ ہوتا تھا انکا فائدہ کیا ہوا ؟ کسے ہوا کچھ پتہ نہیں ۔اب وہ پکار سننے میں نہیں آتی لیکن فائدہ وہ ہی اُٹھا رہے ہیں جو ہمیشہ فائدے میں رپہتے ہیں یعنی ہمارے ارکان اسمبلی ،ارکان حکومت ۔

ہمیں یہ جمہوریت اس معاملے میں بہت ڈھیلی لگ رہی ہے ورنہ تو اب تک کم از کم الیکشن کمیشن تو تبدیل ہو ہی جاتا اور اسکی بہتری کے کام سامنے آتے ۔ہمیں اپنے ملک کے کسی ادارے سے کوئی مخاصمت نہیں ہاں انکی کارکردگی پر ہمیں اعتراض ہے کہ وہ کیوں ملک کی خاطر اپنے اداروں میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ جس طرح ان اداروں کی پشت پناہی کی جاتی ہے وہ حیرت زدہ کر دیتی ہے ۔اگر الیکشن کمیشن میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو اُن لوگوں کو جنہوں نے یہ زمے داری اُٹھائی تھی کہ الیکشن صاف شفاف اور ایمانداری سے کرائے جائینگے انہیں سر زنش کرنے سے حکومت گریزاں کیوں ہے یہ بات شاید ہی کسی زی شعور کی سمجھ میں آتی ہو ۔

حکومت تو خود اپنے دفاع میں لگ جاتی ہے کہ نہیں یہ بد انتظامی ہے دھاندلی نہیں ۔پھر فیصلے کے ایک ایک جملے کو لے کر حکومتی ارکان صفائی پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسپیکر صاحب خود اآگے اآتے کہ دھاندلی میں نے تو نہیں کی لیکن اگر اس بے ضابطگی کی وجہ سے مجھے جیت ملی ہے تو میں دوبارہ الیکشن لڑنے کو تیار ہوں ۔کاش کوئی ایک تو ہمت دکھائے مگر ہمارے ملک میں اس قسم کا رواج ہے ہی نہیں ۔

استعفے دے کر بھی اسمبلی میں موجود رہتے ہیں ۔استعفے لے کر بھی تصدیق کرتے رہتے ہیں ۔عجب تیری قدرت عجب تیرے کھیل ،چھچوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل ۔بس ہمارے یہاں الیکشن کا بھی یہ ہی حال ہے کہ دھاندلی ہوئی کہ بدنظمی اسی پر تین سال گزرنے کو ہیں باقی دو بھی گزر جائینگے اور دھوبی بیٹا چاند سا سعودی عرب سدھار جائیگا ۔

قانون کو جب تک مضبوط نہیں کیا جئیگا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکے گا  ،ضروری ہے کہ وہ لوگ جو ہر دم خود کو قانون کا پاسدار کہتے ہیں واقعی قانون کی پاسداری کریں تاکہ کچھ بہتری نظر اآئے ۔فیصلے اگر خلاف اآجاتے ہیں تو ججوں کی شامت آجاتی ہے جیسا کہ اآج کل ہو رہا ہے ۔ایک اور حلقے میں دوباری الیکشن کا عندیہ دیا گیا ہے ۔کاش ہمارے ملک میں الیکشن جو کسی بھی ملک کا بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرتا ہے صاف اور بے ضابطگیوں کے بغیر ہوا کرے اور ہمیں فرض شناس اور کام کرنے والے امیدوار کامیاب ہوتے نظر اآئیں ۔
اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے  آمین ۔

:دیگر مضامین
(07.07.2015) اول تو کوئی پکڑا نہیں جاتا !!!از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(30.06.2015) کمال ہو گیا ،واقعہ کا نوٹس لے لیا ۔۔از:‌عالم آرا۔ وینکوور
(08.06.2015) پھول میرا وطن چاند میری زمیں ۔۔ عالم آرا ، وینکوور
(14.05.2015) ھوئے تم دوست جس کے!!!۔۔ از:‌عالم آرا۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(23.04.2015) اجنبی دنیا اجنبی لوگ!! ۔۔۔ از: عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(05.04.2015) گولی بندوق کی ہو یا حکومت کی ۔از؛ عالم آرا ۔وینکوور 
(02.02.2015) شرم ہم کو کیوں نہیں آتی ؟؟ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(26.01.2015) بِل منظور ،تحفظات نا منظور ۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(22.12.2014) کیا واقعئی ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.12.2014) ڈاکو بھی  احتجاج کرنے لگے ؟؟ از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(14.11.2014) وہ اُجالے لینے گئے ہیں ۔۔۔ از:‌ عالم آرا ، وینکور، کینیڈا
(05.11.2014) سمجھ نہیں آتا ۔کس طرح خود کش سیکیورٹی پار کر جاتا ہے۔ از۔ عالم آرا
(14.10.2014) تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔۔ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(30.09.2014)  انتظار انتظار اور انتظار۔۔۔۔ از :‌عالم آرا ۔۔ وینکوور۔ کینیڈا
(08.09.2014) پارلیمنٹ اور اس کا احترام ۔۔۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(26.08.2014) ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے۔از ۔عالم آرا
(19.08.2014) اگر عوامی مینڈیٹ ہے تو پھر ڈر کیسا؟؟از۔۔۔۔ عالم آرا
(22.07.2014) مسلمانوں پر مشکل وقت ۔۔۔۔ از: عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2014) بیک ڈور پچھلا دروازہ ۔۔۔۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.07.2014)  ٹانگ مت کھینچو حکومت کرنے دو ۔۔از:‌عالم آراء ۔ ویکوور ۔ کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں