15.10.2026, 11:18pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(68)  از۔۔۔ شمس جیلانی
05.09.2015, 12:01am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی

 
ہم غزوہ بدر کے تما م وا قعات تقریباً ختم کر چکے ہیں اب اس سلسلہ کا آخری وا قعہ پیش کر رہے ہیں ۔بیہقی (رح)  بیا ن کرتے ہیں کہ ان سے ابو القا سم عبد الر حمٰن بن عبید اللہ الحر نی نے بیا ن کیا اور یہ ہی بات ان کے علا وہ انہو ں نے احمد بن سلما ن مجاد، عبد اللہ بن ابی دنیا، حمزہ بن عباس ، عبد اللہ بن عباس اور عبداللہ بن مبارک  (رض)سے سنی اور ان لو گو ں کے سوا یہ ہی بات انہو ں نے عبد الر حمٰن بن یزیدسے جا بر اور صنا ءکے ایک شخص عبد الر حمٰن (رض) کے حوالے سے سنی کہ ایک رو ز نجا شی نے حضرت جعفر (رض) بن ابی طا لب کو اور انکے سا تھیو ں کو جو ابھی تک و ہا ں حالتِ مہا جرت میں مقیم تھے، بلا بھیجا ۔آگے حضرت جعفر (رض) کی ہی کی زبانی سنئے وہ بیا ن فرماتےہیں کہ”میں جب اپنے سا تھیو ں کے ہمرا ہ اس کے محل پہونچا تو میں نے دیکھا کہ وہ دو عدد بو سیدہ سے کپڑے پہنے اور خا ک آلو دہ زمین پر بیٹھا ہے۔اس نے ہمیں دیکھتے ہی ایک دو سرے شخص کی طرف اشارہ کر کے جو کہ پہلے سے وہا ں مو جو دتھا کہا کہ یہ شخص تمہا رے ملک عرب سے آیا ہے۔اور بتا رہا ہے کہ تمہارے نبی  (ص) کو بہ مقا م بدر اللہ نے فتح سے نوا زا اور فلا ں فلا ںسرداران ِ قریش مارے گئے اور فلا ں فلا ں قید ہو ئے اور یہ اس وا قعہ کا چشم دید گوا ہ ہے ۔کیو نکہ یہ و ہا ں جھا ڑیو ں میں اپنے ما لک کا اونٹ چر َارہا تھا ۔حضرت جعفر (رض) بن ابی طا لب آگے فر ما تے ہیں کہ جب وہ یہ خو ش خبری سنا کر خا مو ش ہو اتو میں نے پہلے تو اس کا شکریہ ادا کیا پھر اس سے پو چھا کہ آپ نے یہ اپنا حا ل کیو ں بنا رکھا ہے۔ تو اس نے ان کا یہ سوال سن کر کہا کہ”میں نے اس کلا م میں جو کہ خدا نے اپنے نبی عیسیٰ  (ع) پر اتا را پڑھا ہے کہ جب اللہ تعا لیٰ اپنے مو من بندو ں کو نعمت بخشے تو بندو ں کا فرض ہے کہ بطو ر شکر گزاری اس کا شکر بجا لا ئیں اور چو نکہ جو خبر میں نے آپ کو سنا ئی ہے اسے مو جودہ نبی (ص) اور اپنے بندو ں پر بہت بڑی نعمت سمجھتا ہو ں لہذا میں اس کلا م خدا وندی کے مطا بق او ر تعمیل ِحکم میں فرش پر بیٹھ کر اس کا شکر ادا کر رہا ہو ں۔ کیو نکہ میں تم مسلما نو ں کی طر ح اپنے آپ کو بھی اللہ تعا لیٰ کی نعمت میں شریک سمجھتا ہو ں اور اس پر دلی مسرت کے سا تھ تم مسلما نو ں کو مبارکباد دیتا ہو ں ۔                                 
حضرت علی کا حضرت فا طمہ بنتِ رسو ل (ص) سے عقداور رخصتی:بخاری  (رح)نے زہری کے حوالے سے اور انہو ں نے علی بن حسین اور انہوں نے اپنے والد حسین سے اور انہو ںنے اپنے والد علی بن (رض) ابی طا لب کے حوالے سے بیا ن فرما یا کہ یہ وا قعہ سن دو ہجری کا ہے مگربیہقی ابی عبد اللہ المندہ کی کتا ب ”کتا ب المعرفت “میں حضرت علی  (رض)کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہو ئے تحریر فر ما تے ہیں کی حضو ر (ص) نے حضرت فا طمہ (س)  کا عقد حضرت علی (رض) سے پہلی ہجری میں ہی پڑھا دیا تھا۔ لیکن رخصتی تیسرے سا ل میں عمل میں آئی۔ بیہقی (رح) کی اس روایت سے تو یہ ثا بت ہو تا ہے کہ حضرت فا طمہ (س) کی صرف ر خصتی سن تین ہجری میں عمل میں آئی ۔واللہ عا لم ۔ آگے چل کر وہ حضرت علی (رض) کے حوا لے ہی سے فر ما تے ہیں کہ جو کہ کئی حوالو ں کے بعد حضرت علی (رض) کی زبا نی ہے کہ فر ما یا حضرت علی (رض) نے کہ ”جب میں نے حضو ر (ص) کو حضرت فا طمہ کے لیے پیغا م دیا تو حضو ر (ص) نے پو چھا کے تمہارے پاس کچھ ہے ؟ تو میں نے کہا کہ میرے پاس سوا ئے اس زرہ کے کچھ نہیں ہے۔ آپ (ص) نے فر ما یا ”چلو یہ ہی کا فی ہے “۔  پھر حضرت علی (رض) فر ما تے ہیں کہ” میں نے اس کو آپ (ص) کے حکم کے مطا بق فرو خت کر دیا او ر مجھے اس کی قیمت چار درہم ملی جو کہ میں نے حضو ر (ص) کو لا کر پیش کر دیئے ۔ جس کے بعد حضو ر (ص) نے بلا تامل اپنی صا حبزادی فا طمہ (س) سے میرا نکا ح پڑھا دیا“۔  بیہقی (رح) ہی تحریر فرما تے ہیں کہ حضو ر (ص) نے اپنی بیٹی  کو جہیز میں ایک چمڑے کا تکیہ ، ایک بستر اور ایک چکی عطا فرما ئی ۔ابن ِ اسحا ق (رح) اس پر مزید ا ضا فہ کرتے ہو ئے تحریر فر ما تے ہیں کے حضرت فا طمہ (س) کے بطن سے حضرت علی (رض) کے پانچ بچے ہوئے جو حسن ، حسین اور محسن تھے اور دو صا حبزا دیا ں ام ِ کلثو م او ر زینب (س) ۔مگر حضرت محسن (س)  صغیر سنی میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے ۔                      
 غزوہ ذی امر: سال سو ئم ہجری کہ واقعات میں سب سے پہلا واقعہ جو رو نما ہوا وہ ”غزوہ ذی امر ہے “ اسی کو غزوہ نجد بھی کہتے ہیں۔ ابن ِ ہشام (رح) فرما تے ہیں کہ حضو ر (ص) نے پو را ما ہِ صفر و ہا ںگزارا مگر لڑا ئی کی نو بت نہیں آئی۔ابنِ اسحا ق (رح) اس کے با رے میں تحریر فر ما تے ہیں کہ حضور (ص) غزوہ سویق سے وا پس آنے کے بعد اس پو رے عرصے میں مدینے میں قیا م پذیر رہے دریں اثنا حضو ر (ص) کو اطلا ع ملی کہ نجد ی کسی برُے ارا دے سے جمع ہو رہے ہیں لہذا حضور (ص) نے حضرت عثما ن  (رض)بن عفا ن کو مدینہ کا حا کم مقر رفرما کر نجد کے علا قے غطفا ن کی طرف مرا جعت فر ما ئی ۔واقدی  (رح )تحر یر فر ما تے ہیں کہ اطلا ع یہ ملی تھی کہ غطفا ن اور بنی ثعلبہ کا ایک بہت بڑا گروہ باارادہ ِ جنگ نجد کی طرف سے آ ر ہا ہے لہذا آپ ان کے مقا بلہ کے لیے برو ز پنج شنبہ ٠١ ربیع اول سن تین ہجری کو روانہ ہوئے۔ اس مو قعہ پر سا ڑھے چا رسو صحا بہ کرا م  آ پ (ص)  کے ہمرکاب تھے جب مدینہ منورہ سے روانہ ہو کرآپ سلسلہ کو ہ سے گذرے اور اس پا نی کے ذ خیرے کے قریب پہو نچ کر قیام فر ما یا جس کو”ذی امر “کہتے ہیں تو شدید با رش نے آلیا جس سے آ پ کا لبا س بری طر ح بھیگ گیا ۔ چو نکہ حضور (ص)بہت ہی با حیا انسا ن تھے۔ لہذا سب کے سا تھ قیا م کر نے کے بجا ئے حضور (ص) نے ایک علیحدہ در خت چن کر اس کے نیچے قیا م فر ما یا تاکہ کپڑے خشک ہو نے تک کو ئی مخل نہ ہو ۔ ادھر مشرکین کو بھی یہ اطلا ع مل گئی لہذا انہو ں نے مو قعہ سے فا ئد ہ اٹھا تے ہوئے ایک بہا در نو جوا ن کو جس کا نا م غو رث تھا بھیجا کہ وہ آ پ (ص) کو وہیں پر سوتے میں قتل کر دے ۔اور وہ آپ (ص) تک پہنچ بھی گیا اور چو نکہ آپ (ص) کے کپڑے بھیگ گئے تھے لہذا حضو ر(ص) نے اپنی تلوا ر بھی درخت کی شاخ میں ٹا نگ دی تھی ۔وہ اس نے حضور  (ص)کو غافل پا کر قبضہ میں کر لی ۔ پھرحضو ر (ص) کو للکا را کہ اے محمد (ص) ! بتا اب میرے ہا تھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ۔ حضو ر (ص) کی آنکھ کھل گئی اور جب صورت ِ حا ل وا ضح ہو ئی تو حضور (ص) نے جوا ب دیا کہ میرا خدا ۔اسی وقت جبر ئیل (ع) نے جو اللہ تعا لیٰ کی طرف سے حفا ظت پر ما مو ر تھے وہ تلوار اس کے ہا تھ سے چھین کر حضور (ص) کو پیش کردی۔ تب حضور (ص) نے وہی تلوا ر اس کو دکھاتے ہو ئے اس سے پو چھا اب بتا تجھے میرے ہا تھ سے کو ن بچا ئے گا؟ تو اس نے کہا کہ کو ئی نہیں اور دوسری ہی سا نس میں اس نے اشہد ان لا الہٰ اللہ و اشہد و ان محمد رسو اللہ پڑھتے ہو ئے کہا کہ واللہ ! قیا مت تک دشمنو ں کی کو ئی جماعت آپ کا مقا بلہ نہیں کر سکتی “ اتنے میں شو ر و غل سن کر صحا بہ  کرا م بھی دو ڑ کر پہنچ گئے اور پر سش ِ احوا ل پر حضو ر (ص) نے فر ما یا تم یہ لحیم اور طویل القا مت شخص کو دیکھ رہے ہو یہ میرے سینے پر سوار ہو کر میرا سر کا ٹنا چا ہتا تھا ۔ لیکن اب اللہ کی و حدا نیت اور میری  (ص)نبوت کا اقرار کر کے اسلام میں دا خل ہو گیا ہے۔اور کہتا ہے کہ میں اپنی قوم کو وا پس جا کر سمجھا ؤنگا کہ وہ آپکے مقا بل نہ آئے اور ان کو اسلام لا نے دعوت بھی دے گا۔ واقدی (رح) کہتے ہیں کہ اس مو قعہ پر ہی یہ آیت نا زل ہو ئی۔ جس کو ہم اس مضمو ن کے آخر میں انشا اللہ پیش کر یں گے کیو نکہ ابن ِ ا سحا ق (رح)  نے اس کی شا ن ِنزو ل کے با رے میں ایک دو سرا وا قعہ نقل کیا ہے مگر اس میں ایک تو نا م یہ ہی ہے مگر دوسرا نا م مختلف ہے اس میں شاید وا قعہ کی یکسا نیت کی وجہ سےمورخین کو اشکا ل ہو گیا ہے در اصل ذا ت الر قا ع کا واقعہ تو بعد کا وا قعہ ہے جوسن چا ر ہجری میں پیش آیا اور وہ اس طر ح ہے کہ عمرو بن حجاش نا م کا کو ئی آدمی جو کے بنی نضیر میں سے تھااس نے اپنی قوم کو یہ یقین د ہا نی کرا ئی کہ میں محمد (ص)  کو قتل کر دو نگا ۔ جب لو گو ں نے پو چھا کس طر ح تو اس نے کہا کہ میں ان کا معتقدبن کر جا ؤنگا ۔لہذا ابن ِ اسحا ق  (رح) لکھتے ہیں کے وہ حضو ر (ص)کی خد مت ِ اقدس میں پہونچا اور اس طر ح ظا ہر کیا کہ وہ کو ئی اپنی قو م کی طرف سے اہم پیغا م لا یا ہے اور وہ مسلما ن ہو نے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مگریکایک اس نے آپ کی تلوا ر قا بو کر لی اور آپ سے پو چھا کہ بتا ؤ  تمہیں میرے ہا تھ سے اب کو ن بچا ئے گا ؟ حضو ر (ص) نے حسب ِ سا بق فرما یا ”اللہ “یہ سن کر اس نے حملہ کر نا چا ہا لیکن تلوا ر اس کے ہا تھ سے چھو ٹ کر گر گئی۔اور ابنِ اسحاق (رح) کے مطا بق اس مو قعہ پر یا ایسے ہی کسی مو قعہ پر یہ آیت نا زل ہوئی۔ مگر اس وا قعہ میں اس کے انجا م کا کو ئی ذکر نہیں ہے۔لہذا یہ دو الگ واقعات اور دو الگ اشخاص ہیں جوکہ یکسا نیت کی وجہ سے مورخین نے دد جگہ بیا ن کر دئے جس سے مغا لطہ پیدا ہواورنہ معا ملہ صاف ہے وہ آیت یہ ہے:                      
  ًیا ایھا الذ ین آمنو ا ذکرو نعمت اللہ علیکم۔۔۔۔۔۔۔الخ   


 



:دیگر مضامین
(29.08.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(67)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.08.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حرا سے(66)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(15.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(65)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(08.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(64)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(01.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔ ۔روشنی حراسے(63)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(28.07.2015) سیرتِ پاک حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(62)۔ از ۔۔ شمس جیلانی
(25.07.2015) جناب طاہر حسین سلطانی فرد نہیں اک انجمن ہیں۔۔۔ ڈاکٹرشمس جیلانی
(17.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(61)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(13.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(60)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(04.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(59)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(27.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔روشنی حراسے(58) از. شمس جیلانی
(21.06.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(57)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(13.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے56... از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔روشنی حراسے(55)۔ از.شمس جیلانی
(28.05.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حراسے(54) از ۔۔۔ شمس جیلانی
(22.05.2015) ولادت ِحضرت اما م حسین علیہ السلام ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(19.05.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(53)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(17.05.2015) وہ رات نبی صلی اللہ رب کے جب مہمان ہوئے۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(09.05.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(52)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(02.05.2015) سیرتِ پاک حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (51)از ۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں