سفر کے رنگ جگنو کی طرح روشنی بکھراتے ہوئے

سوشل میڈیا فیس بک ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں دوستوں کی ایک دنیا بسی ہوئی ہے ۔جگہ یا مقام کوئی بھی ہواگر ہم اسکا استعمال اچھی سوچ اور بہترین طریقے سے کریں تو میرا خیال ہے کبھی نقصان میں نہیں رہیں گے یہاں کئی بچھڑے اور نئے نئے دوستوں سے ملاقات ہوجاتی ہے ادبی دنیا برسات کے مینڈکوں کی طرح بکھری پڑی ہے یہاں ۔اچھا یہ کہ اپنی اپنی نگارشات کو نکھارنے اور سنوارنے کا موقع ملتا اور دوسروں کی تحریروں سے استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اِسی پلیٹ فارم پر ایک کتاب کا ٹائٹل نظر سے گزرہ (اٹلی کی جانب گامزن ) مصنفہ کا نام عشرت معین سیمی پہلی بار نظر سے گزرہ ۔دوستی کی ریکویسٹ توپہلے ہی کر چکی تھی محترمہ عشرت معین صاحبہ نے اپنے دوستوں کی لیسٹ میں شامل کر لیا ۔میں نے کتاب حاصل کرنے کا طریقہ پوچھا کیونکہ میں نئی نئی کتابوں کا مطالعہ کرنے کا حد سے زیادہ شوق رکھتی ہوں ۔سیمی جی نے لکھا کہ کتاب انگلینڈ پہنچتے ہی آپ تک پہنچا دی جائے گی ۔میں خوش ہو گی ۔کچھ ہفتے ایسے ہی گزر گے ۔اچانک جرمنی (برلن ) سے عصمت چغتائی اور رجندر سنگھ بیدی کی صد سالہ تقریب کے سلسلے اور ایک مشاعرے کا دعوت نامہ محصول ہوا ۔یہ دعوت نامہ عشرت معین سیمی صاحبہ اور انور ظہیر رہبر کی طرف سے تھا ۔یہ دونوں اردو انجمن برلن کے عہددران ہیں ۔دعوت نامے کی تحریر سے روشنائی ہوئی ۔انگلینڈ سے ایک اور شاعرہ فرزانہ فرحت صاحبہ جو بہت اچھی شاعرہ ہیں انہیں بھی مدعو کیا گیا تھا ۔ہم دونوں نے ایک ساتھ برلن ؔ کا سفر کیا ۔میری عشرت معین سیمی سے پہلی ملاقات تھی یہ ۔ائیر پورٹ پر گرمجوشی سے استقبال کیا گیا ۔ان کے ساتھ اسی تنظیم کے صدر جناب عارف نقوی صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے ۔اس خوبصورت تقریب میں عشرت سیمی صاحبہ نے اپنا یہی سفر نامہ مجھے پیش کیا ۔تین دن میں برلن ؔ کی خوبصورتی عشرت معین سیمی اور انور ظہیر بھائی کی دوستی میں سمٹ گئی ۔اپنی اس خوش قسمتی پر جتنا ناز کروں اتنا ہی کم ہے ۔یہ تقریب خوبصورت دوستی کا بہانہ بنی ۔جیسا کہ میں ہمیشہ فخر سے کہتی ہوں جب بھی کوئی لکھاری مجھے اپنی کتاب تحفے میں ارسال کرتا ہے میں چند لفظ ہدیہ تشکر میں ضرور تحریر کرتی ہوں ۔کتاب ملے تو تقربنا دو ماہ سے زیادہ کا وقت بیت گیا مگر کچھ مصروفیت اور ہاتھ کی تکلیف کی وجہ سے لکھنے لکھانے کا سلسلہ منقطع رہا ۔آج یہ سفر نامہ میرے سامنے ہے جسکا ہر صفحہ زیر نظر رہا ۔کل شام سے صبح تک پوری کتاب کا مطالعہ کر ڈالا ۔اظہار خیال میں ایمانداری اور پارسائی کا دامن ہر گز ہاتھ سے نہیں چھوڑوں گی ۔زیر نظر سفر نامہ اٹلی کی جانب گامزن عشرت معین سیمی کی پہلی کتاب ہے اسکا انتساب اس نے اپنے شریک حیات سید انور ظہیر رہبر اور اپنی دو پیاری بیٹوں سارہ اور مایا کے نام کیا ہے ۔سرورق سمبل آف روم یعنی اٹلی کی خوبصورت تصویر سے سجا ہے ۔کتاب کے ابتدائی صفحات پر عشرت صاحبہ کے شریک حیات کے لفظوں کی تائید کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں اردو ادب میں سفر نامے کی سر زمین پر یہ انکا پہلا قدم ہے مجھے یقین ہے کہ ابھی مصنفہ کو بہت لمبا سفر طے کرنا ہے ۔یقیناایسا ہی ہے عشرت نے تو ابھی ابتدا کی ہے ماشاللہ قلم سے وابستگی و شناسائی اس کی بہت پرانی ہے ۔پیشے کے اعتبار سے ایک صحافی ،بہت سی زبانوں پر اسے دسترس حاصل ہے اردو ،انگلش ،جرمن ،ہندی زبان لگتا ہے اس کے گھر کی باندی ہواور شاعرہ تو کمال کی ہیں مجھے اسی خوبصورت تقریب میں اسے سننے کا موقع ملا ۔نہایت محبت کرنے والی شفیق دوست و ہستی ہیں ۔جب ایک شخصیت میں تمام صفتیں موجود ہوں تو قلم سے نکلنے والے لفظ کیسے خوبصورت نا ہو نگے۔۔۔
سفر نامے میں ایک ایسی ہی دوسری شخصیت (ثروت عصمی ) جن کا تعلق استاد( شعبہ اردو ) اپنے خیالات کے ساتھ ساتھ لکھتی ہیں کہ سیما پاکستان سے جرمنی کی جانب ایک رہبر کا ہاتھ تھام کر یہ کہتے ہوئے چل دیں کہ
مجھے منزل نہیں بس ایک راہ ر و کی ضرورت ہے
سفر کے رنگ سارے راستوں کے ساتھ ہوتے ہیں
بعض اوقات شاعر و تخلیق کار اپنے وجود سے باہر نکل کر اپنے آپکو دیکھنا چاہتا ہے ۔وہی لکھاری زندگی کو مقصد مرکز اور مناط مان کر اپنی اِسی تخلیق سے معمور قاری کا دِل بن جاتا ہے ۔قلم کی طاقت کسی بھی خطہ سر زمین سے تعلق رکھتی ہو ،زندگی کے تجربات ،مشاہدات و و اقعات اور جستجو کے نشب و فراز کو بیان کرتی نظر آتی ہے ۔لفظوں کا کمال آسانی سے حیرت میں ڈالتا ہے ۔

جرمن میں آکر عشرت صاحبہ نے سفر کے رنگ تمام کے تمام صفحہ قرطاس پر بکھرانے کی کوشش کر ڈالی اور سو فیصد اِن رنگوں کی مدہم مدہم روشنی جگنو کی طرح اس کی نئی راہیں ہموار کرتی ہی چلی گیءں ۔اٹھارہ سال جرمن کی سر زمین پر آباد رہتے ہوئے اسکا ہر راستہ اجنبی سے اپنا بن چکا تو اِس نے ایک بار پھر اجنبی راستوں کی طرف گامزن ہونے کا سوچ لیا ۔یہ سوچ بھی اس کی تعلیم کی ایک کڑی تھی ۔اٹلی کا سفرشروع کرنے سے پہلے کئی بار اُس نے اپنے شریک حیات اور اپنی پیاری پیاری بیٹوں کے بارے میں سوچا کہ کیونکر اُن کے بغیر اور وہ ان کے بینا رہ پائیں گے ۔مگر کچھ پانے کے لیئے اپنے پیارے کرداروں سے سمجھوتا تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔اسی طرح عشرت سیمی صاحبہ نے بھی ساری فکرمندیوں کو پس پُشت ڈالا اور میلان کی طرف روانگی کے لیئے کمربستہ ہو گئیں ۔سفر کی ابتدأ سے اختتام تک کے دیکھے اَن دیکھے احساسات ،واقعات اور حالات کو ایماندرانہ طور پر ضبط تحریر کیا ہے ۔سفر نامہ سات لفظوں پر بہت بڑا کارنامہ ہے ۔اس کارنامے کو سَر کرنے کی کوشش مصنفہ نے بہت حد تک کوشش کی ہے ۔خوب صورت لہجے ،سادگی میں ڈوبی تحریر دل و نگاہ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہی چلی گئی ۔
مجھے اس کتاب کے مطالعے سے ایسا لگا کہ انہی لفظوں میں اُتر کر اٹلی کے شہر میلان کی سر زمین کا چپا چپا میں نے بھی چھان مارا ہے ۔اپنی آنکھوں میں اسی محل کو بسا لیا درودیوار حویلیوں جس کا ذکر مصنفہ نے اتنے پیارے انداز میں کیا کہ اپنی کھلی آنکھوں سے خواب دیکھ ڈالے ۔۔اس سفر نامے اٹلی کی جانب گامزن میں بہت سارے نقش ابھارے ہیں مصنفہ نے ۔جہاں فاصلوں کی تسخیر کو لطف اندوز کیا وہاں فیملی سے جدائی میں اُداسیوں کو موسموں میں سمیٹنے کی کوشش بھی کی ۔یہ فن قلم کے سنگ لفظوں کو آزاد چھوڑ کر سیاحت کے پُر ستاروں کو اپنے ساتھ ساتھ خوش نما گوشوں تک لے جانا ہے ۔گرجا گھروں کا ذکر ،اُداسی ،وینس کی سیر ،مہمان داری ،اور گھر کی یادیں ۔ہر صفحہ پلٹنے پر نیا موضوع اور نیا تجربہ میرا منتظر تھا ۔مجھے لگا عشرت سیمی صاحبہ ساتھ ساتھ میں بھی سفر میں ہوں ۔وہ مجھے کہانی سنا رہی ہو اور میں آنکھیں بند کیئے مسکراتے ہوئے محظوظ ہو رہی تھی ۔دو ہفتے کا سفر اور خوب صورت نقشہ کتاب کی خوبصورتی یہی دو چیزیں ہیں جو دلچپی کا باعث بنی ۔۔اٹلی کی طرف گامزن کا مطالعہ اردوسے دلچسپی رکھنے والے قاری اور صاحب قلم کو کرنا چاہیے اِس کے ہر لفظ میں سیاحت کا شوق و جنون چُھپا ہے پُر کشش مناظر کی عکاسی یوں کی گئی ہے کہ ہر منظر آنکھوں کے سامنے اٹھکیلیاں کر رہا ہو۔
کل رات سے آج صبح تک یہ سفر نامہ میری توجہ کا مرکز بنا رہا ۔میں آخرمیں بہت پیاری دوست عشرت سیمی صاحبہ کو اِس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔ہو سکتا ہے میری معصوم سی تحریر اِس کے معیار پر پوری اُترے ۔مستقبل میں بھی قلم یونہی چلتا رہے ،ہزاروں کامیابی و کامرانی کی دعائیں
علامہ اقبال کے خوبصورت اشعار سے لفظوں کو اختتامی شکل دینے جا رہی ہوں ۔
جگنو کی روشنی ہے کا شانہ چمن میں
یا شمع جَل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
آیا ہے آسماں سے اُڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرَن میں
نیک خواہشات کے ساتھ
فرخندہ رضوی (ریڈنگ )انگلینڈ