اکیس اپریل انیس سو چھبیس کو دنیا میں آنے والی ملکہ برطانیہ کوئین ایلزبتھ دوم نے زندگی کے ا89 سال مکمل کرلئیے
برطانوی ملکہ الزبتھ ثانی نے نو ستمبر کے روز برطانیہ پر طویل ترین عرصے تک حکمرانی کرنے کا ملکہ وکٹوریہ کا ریکارڈ توڑ دیا۔
برطانیہ پر طویل ترین عرصے تک حکمرانی کا ریکارڈ ملکہ وکٹوریہ کا تھا، لیکن بدھ نو ستمبر لندن کے مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے الزبتھ ثانی برطانیہ پر طویل ترین عرصے تک حکمرانی کرنے والی شخصیت بن گئیں ۔ برطانوی شاہی خاندان کی سربراہ کے طور پر ملکہ الزبتھ ثانی کے اقتدار کی خاص بات یہ ہے کہ اب تک ان کی حکمرانی میں برطانیہ میں بارہ وزرائے اعظم حکومتی سربراہان کی ذمے داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ان میں سے پہلے سر ونسٹن چرچل تھے، جو اس وقت لندن حکومت کے سربراہ تھے، جب 25 برس کی عمر میں 1952ء میں شہزادی الزبتھ نے ملکہ کی ذمے داریاں سنبھالی تھیں۔
مملکت متحدۂ برطانیہ کبیر و شمالی آئر لینڈ جسے عام طور پر مملکت متحدہ یا برطانیہ کے طور پر جانا جاتا ہے، شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔
برطانیہ کے چاروں طرف بحر اوقیانوس اور اس کے ذیلی بحیرے ہیں جن میں بحیرہ شمال، رودباد انگلستان، بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش شامل ہیں۔
برطانیہ چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے منسلک ہے جو رودباد انگلستان کے نیچے سے گذرتی ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ ملتا ہے۔
برطانیہ ایک سیاسی اتحاد ہے جو 4 ممالک انگلستان، اسکاچستان، ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے مل کر بنا ہے۔ ان کے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کے دیگر کئی مقبوضات بھی ہیں جن میں برمودا، جبل الطارق یا جبرالٹر، مونٹسیرٹ اور سینٹ ہلینا بھی شامل ہیں۔
برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے جو دولت مشترکہ کے 16 ممالک کی طرح ملکہ ایلزبتھ دوم کو اپنا حکمران تصور کرتی ہے۔
برطانیہ جی 8 کا رکن اور انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا کی پانچویں اور یورپ کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جس کا اندازہ 2.2 کھرب امریکی ڈالرز ہے۔ برطانیہ آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 60.2 ملین ہے۔ برطانیہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ (نیٹو) اور اقوام متحدہ کا بانی رکن اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ برطانیہ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے۔
سلطنت برطانیہ کے خاتمے کے باوجود انگریزی زبان کے عالمی استعمال اور دولت مشترکہ کے باعث برطانیہ کے اثرات ابھی بھی دنیا پر باقی ہیں۔
برطانیہ یورپ کے ان ممالک میں سے ہے جن کی تاریخ بہت زرخیز ہے برٹن قبائل کی وجہ سے ان جزائیر کا نام برطانیہ پر گیا جو کہ یورپ اور دیگر خطوں سے ہجرت کرکے برطانیہ میں آباد ہوئے ان برٹنوں کی اکثریت آج بھی ویلز کے علاقے میں مقیم ہے ان برٹنوں کے مذہبی رہنماؤں کو ڈروئدا کہا جاتا تھااس وقت یہاں کے دیوی دیوتاؤں میں سے ایک متھرا دیوی بھی تھی قبل مسیح رومی حکمران آگسٹس کے زمانے میں جزائر برطانیہ پر رومی حکومت کا قبضہ تھا اگر چے کہ برطانیہ میں اس دور میں رہنے والے تمدن کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے مگر پھر بھی وہ رومہ تہذیب کا حصہ تصور کئے جاتے ہیں 117ء میں ھیڈرین کو روم کی سینٹ نے روم کا بادشاہ بنوایا اس دور میں ھیڈرین نے خصوصی طور پر برطانیہ پر توجے دی برطانیہ کی قدیم سڑکوں کی تعمیر ھیڈرین کے دور ہی میں ہوئی تھی اور قلعہ بندی کا آغاز بھی ھیڈرین کے دور ہی میں شروع ہوا جس کے بعد طویل مدت تک برطانیہ رومی سلطنت کا صوبہ بنا رہا اسی دور میں وسطی ایشیائی ممالک اور روس اور دیگر خطوں سے یورپ کی جانب خونخوار قبیلوں کی ہجرت کا آغاز ہواجن میں اہم ترین قبیلے جرمن ،ھن ، مشرقی گاتھ، ایلارک، ونڈال، مغربی گاتھ، فرینک اور لمبارڈ شامل ہیں ان خونخوار اور لڑاکا قبائل نے جن کی اکثریت وسطی ایشیا اور روس سے ہجرت کرکے یورپ میں داخل ہوئی تھی یورپ میں جنگ و جدل کی فضا قائم کردی یہ لڑاکا قبائل جو کہ وحشیانہ زندگی کے خوگر تھے جلد ہی یورپ کی فضاؤں میں داخل ہو کر یورپ کی زندگی میں رچ بس گئے اور انہوں نے اپنے آبائی مذاہب کو چھوڑ کر یورپی مذہب عیسائیت کو اپنا لیا ان جنگجو قبائل میں سے گاتھ جو کے مشرقی اور مغربی گاتھوں میں تقسیم تھے انتہائی لڑاکا اور جنگجو تھے گاتھوں کی لڑائیوں کی وجہ سے یورپ کی سب سے مضبوط سلطنت زوال سے دوچار ہوئی جب کے یورپ کے بیشتر علاقے پر گاتھوں نے بذور شمشیرقبضہ کرلیا گاتھوں کے حملے کی وجہ سے روم جس کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب تھا تباہ وبرباد ہو گیا گاتھوں کے حملے ہی کی وجہ سے قسطنطین نے اپنا دارلحکومت روم کی جگہ قسطنطنیہ کوبنایا مگر جلد ہی گاتھ عیسائی مذہب سے متاثر ہو گئے اس کے ساتھ وہ یورپ کے بیشتر حصوں پر قابض ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے نوبت یہ ہوچکی تھی کہ اگر چے گاتھ عیسائی ہو چکے تھے مگر اس کے باوجود یورپ کے تمدن یافتہ اور سابق حکمراں گاتھوں کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتے تھے گاتھوں کے اقتدار کے دور میں اگر چے کے یورپ میں کسی حد تک استحکام رہا مگر اس طرح نہیں جس طرح رومی حکومت کے دور میں رہا۔
ونڈسر خاندان کے بادشاہ اور ملکا ئیں کی تفصیلات
ونڈسر خاندان یہ نام تبدیل کیاگیا تھا
جارج پنجم 1910 تا 1936
ایڈورڈ ہفتم 1936 تا 1936 انہوں نے غیر شاہی خاندان کی لڑکی کے ساتھ شادی کرکے تاج و تخت کو چھوڑ دیا تھا اور سوئزر لینڈ چلے گئے تھے
جارج ششم 1936 تا 1952
ملکہ ایلزبتھ دوم 1952 تا تاحال
جزائر برطانیہ بھی ان حملہ آووروں کے حملوں سے بری طرح سے متاثر ہوا ایک جانب رومی حکومت کی گرفت کمزور ہوئی تو دوسری جانب علاقائی حکومتیں قائم ہوتی چلی گئیں جو کہ چھوٹے چھوٹے علاقوں پر مشتمل تھیں ان حکومتوں کو تاریخ میں حکومت ہفت گانہ کہا جاتا ہے اسی زمانے میں برطانیہ میں عیسائیت کی تبلیغ ہوئی اور برطانیہ کے مختلف علاقے بت پرستی سے عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے اسی دوران آٹھویں صدی میں برطانیہ پر ڈنمارک کے رہنے والے ڈین قبائل نے حملے کرنا شروع کردیئے حملوں کا مقصد برطانیہ پر قبضہ کرنا تھا ٹھیک اسی زمانے میں ناروے میں بسنے والے جنگجو وائی کنگ نے بھی برطانیہ پر قبضہ کرنے کے لئے حملے کرنا شروع کردیئے وائی کنگ یورپ کی تاریخ کی انتہائی جنگجو قوم ہے جنہوں نے تمام یورپ میں اپنی وحشیانہ اور جنگجوانہ سرگرمیوں سے دہشت قائم کررکھی تھی اس زمانے میں برطانیہ کے بادشاہ ایلفرڈ بہت بہادر بادشاہ تھا جسے ایلف ڈ آعظم کہا جاتا ہے نے ان وائی کنگ حملہ آووروں کے خلاف طویل ترین جنگیں لڑیں اور بڑی بہادری کے ساتھ وائی کنگ کا مقابلہ کیا جسکے نتیجے میں وائی کنگ پسپائی اختیارکرنے پر مجبور ہوئے مگر اس کے باوجود ایلفرڈآعظم نے جو صلح کا معاہدہ وائی کنگ کے ساتھ کیا اس معاہدے میں حکمتِ عملی کے تحت دریائے ٹیمز سے اوپرکے علاقے جس میں شمالی ومشرقی انگلستان کا ایک وسیع علاقہ ان وائی کنگ کے حوالے کیا باقی حصہ ایلفرڈآعظم کے قبضے میں بدستور رہا۔ ایلفرڈ آعظم کے بعد اس کی اولاد حکمران رہی دسویں صدی کے آخر میں ڈنمارک کے بادشاہ نے حملہ کیا اس خاندان کا ایک فرد باقائدہ انگلستان کا بادشاہ بن کر بیٹھ گیا مگر اس کی حکومت کا خاتمہ اس کی موت کے بعد جلد ہی ہو گیا کیونکہ اسکی اولادمیں سے کوئی بھی حکمرانی کے قابل نہیں نکلا لہٰذا1042 میں اس حکومت کا خاتمہ ہوگیا اورایلفرڈ آعظم کی اولاد میں ایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنایاگیا مگر ایڈورڈ لاولد انتقال کرگیا جس کی موت کے بعد انگلستان میں تخت کے دو دعویداروں ھیرلڈ اور ولیم کے درمیان جنگ ہوئی جسمیںھیرلڈ مارا گیا اورولیم انگلستان کا بادشاہ بنا واضح رہے کہ اگرچے کے ولیم ایڈورڈ کا رشتے دارتھا مگر چونکہ اس کا تعلق نارمنڈی سے تھا اسلئے اس کی حکومت کے نارمنوں کی حکومت تصور کی جاتی ہے۔
برطانہ کہ شاہی خاندانوں کی تفصیلات
خاندان بیلوس اسے نارمن خاندان بھی کہا جاتاہے اور یہ صرف ایک بادشاہت تک محدود رہا 1135 تا1154 لنیٹیجنٹ خاندان 1154تا1400 لنکاسٹر خاندان 1400تا1471 یارک خاندان 1471 تا1485 ٹیوڈور خاندان 1485 تا1603 گریٹ برٹین یا متحدہ برطانیہ کی ابتدا ہوئی اسٹیورٹ خاندان 1603تا1649 کرام ویل اور اس کا بیٹا رچرڈ کرام ویل ڈکٹیٹر بنے 1649تا1712 اسٹیورٹ خاندان کی حکومت دوبارہ بحال ہو گئی 1660تا1714 ہونور خاندان 1714 تا1901 ہاؤس آ ف گوتھا نو سال تک خاندان کا نام یہ ہی رکھا گیا 1901 تا1910 ونڈسر خاندان بنیادی طور پر یہ ہونورو خاندان ہی ہے مگر اب اس کا نام تبدیل کردیا گیا ہے 1910تاحال ۔۔
ماخز۔۔۔۔ آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے