بہت سے لوگ شاید رمضانیوں کو نہ جانتے ہوں یہ ان میں سے ایک کردار تھا جو پاکستان کے پہلے مزاح نگار مجید لاہوری مرحوم نے اپنے مجلے “ نمکدان “ میں روشناس کرا ئے تھے؟ رمضانی سے مراد تھی! “ عوام الناس “جبکہ دوسرے کئی کرداروں کے القابات بھی انہوں نے ابھرتی ہو ئی اشرافیہ کے لیے وقتاً فوقتاً استعمال کرنا شروع کیے جو اب بھی ہر نظرِ بینا کو اپنے چاروں طرف گھومتے نظر آتے ہیں؟ ہم اس وضاحت کے بعد آگے بڑھتے ہیں۔
تمام رمضانیوں کی یہ بری عادت ہے کہ اس انگریزی مقولے کے باوجود کہ سارے انڈے ایک باسکٹ (ٹوکری) میں مت رکھو ! وہ پھر بھی نہیں مانتے اور اپنے سارے اساسے انڈے اور بچے سب پاکستان میں رکھتے ہیں، بلکہ باہر سے بھی جو کچھ کماتے ہیں وہ بھی وہیں بھیج دیتے ہیں اس کے باوجود کہ ان کی وفاداریاں مشکوک ہیں جو اس سے ثابت ہے کہ انہیں رائے دہی کا حق آج تک نہیں مل سکا اور نئے بجٹ میں ان کے آنے جانے پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے۔؟ اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن آج ہم صرف ایک ہی پر بات کریں گے وہ یہ ہے کہ انگریزی اسکولوں کی فیسیں ہی نہیں برداشت کر سکتے تھے، اس لیے وہ اس مقولے سے نابلد رہے، جبکہ انگلش میڈیم میں پڑھنے والے سارے بچے اور ان کے والدین پاکستان بننے کے ساتھ ہی اس سے واقف ہوگئے تھے۔ لیکن پہلے ان کا تناسب ہزاروں میں ایک ہوا کرتا تھا لہذا کسی نے محسوس نہیں کیا؟ جبکہ زیادہ تر بچے ان ہی اسکولوں میں پڑھتے تھے جہاں اردو میڈیم تھی۔ یعنی صورت حال یہ تھی حضرت میر کی روح سے معذرت کے ساتھ “ ہم ہو ئے تم ہوئے کہ میر ہو ئے سب اسی اسکول کے اسیر ہوئے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستانی قوم جو پاکستان بنتے وقت ایمانداری میں بے مثال تھی وہ بھی بدلنا شروع ہوئی ا ورآہستہ آہستہ عوام نے اپنے امراءکوجو کرتے دیکھا چونکہ وہ بھی انسان تھے تیز رفتاری سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ اس لیے کہ اب ان کی سوچ بھی بدل گئی تھی کہ جب ہم جب اوروں کے لیے بے ایمانی کرتے ہیں، تو اپنے لیئے بھی کیوں نہ کریں! جیسے کہ ہمارے ایک سیاسی مرید کی سوچ !اس وقت صرف جماعت اسلامی قربانی کی کھالیں جمع کیا کرتی تھی ،اس کا ایک کارکن اس کے پاس کھال مانگنے آیا تو اس نے کہا کہ“ تم کھال کا کروگے کیا؟ بیچ کر جلسہ ہی تو کروگے لہذا میں اپنی کھال بیچ کر خود ہی جلسہ کیوں نہ کرلوں “ یہ ابتدائی دور تھا اسے کیا پتہ تھا کہ کھال ہی نہیں آگے چل کر فطرانہ بھی پستول کے زور پر سیاسی جماعتیں وصول کیا کریں گی؟
نتیجہ یہ ہوا کہ جیسے جیسے نو دولتیئے بڑھتے گئے تو جو ان میں سے اپنی نئی نسل کے لیے ذرا بہتر تعلیم چاہتے تھے انہوں نے ان اسکولوں کی طرف توجہ کی جو نجی تھے ؟ یہ صورت ِ حال بھٹو صاحب کے آنے تک قائم رہی ،انہوں نے آکر جب اسلامی سوشیل ازم نافذ کیا تو وہ سب اسکول بلا امتیاز قومیا لیے گئے؟ پھرجو حشر دوسرے تمام شعبہ ہائے زندگی کا ہوا وہی سارے اسکولوں کا بھی ہوا۔ جبکہ اور شعبوں کی حالت بد سے بد تر ہو گئی ۔ تو وہ واپس کر دیئے گئے؟ مگر تعلیم سے ویسے ہی کسی کو کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ لہذا وہ واپس نہیں کیئے گئے، جبکہ اس کے برعکس جو ان کے منظور نظر تھے ان کو بڑے بڑے اسکول کالج اور یونیورسٹیز کھولنے کی اجازت ملتی گئی ۔اور جو پہلے کبھی اسکول ہوا کرتے تھے وہ وڈیروں رئیسوں اور خانوں کے اوطاق یا حجرے بن گئے۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے؟ اس میں جو نجی اسکولوں کی فیسیں دینے کے قابل نہیں تھے وہ اور نیچے چلے گئے۔ اور اسکولوں سے دور ہوتے گئے، وہی آگے چل کر شر پسندوں کے آلہ کار بن گئے۔ یہ تو تھا تعلیم والا پہلو ؟اب ہم آتے ہیں اصل بات کی طرف ؟ اس کے برعکس جنہوں نے خود یا ان کے بچوں نے انگریزی اسکولوں میں پڑھا تھا انہوں نے“ مندرجہ بالاانگریزی مقولہ “ اپنے پلے باندھ لیا جو نسل در نسل ان کی گدیوں کے ساتھ منتقل ہو تا گیا؟ اس لیے انہوں نے اس ملک میں جو سرمایہ کاری کی وہیں کے بنکوں سے ادھار لے کر کی، اورجو کماتے رہے نہ صرف منافع بلکہ اصل کا بھی زیادہ تر حصہ باہر مختلف ملکو ں میں جمع کرا تے رہے اور اس طرح جو قرضے ان کے ذمہ بڑھے وہ بھی نقصان دکھاکر معاف کرا ئے اور باہر بھیجد یے ۔ اب رہے رمضانی انہوں نے چونکہ یہ مقولہ پڑھا ہی نہیں تھا لہذا تمام سرمایہ وہیں رکھا لہذاوہ پستے ہی رہے ،لٹتے بھی رہے اور پستی سے پستی کی طرف جاتے رہے۔اور زیادہ تر اِنہیں سرمایہ داروں کے شکار ہوتے رہے جو کہ قیمتی قومی لباس میں ملبوس ہونے کی وجہ سے محب ِ وطن پاکستانی نظر آتے تھے۔
بھٹو صاحب کے تین نعرے تھے روٹی ، کپڑا اور مکان ؟ کپڑے کی طرف تو انہوں نے یہ اچھی پیش رفت کی کہ خود سادگی اپنا لی، شلوار قمیص زیب تن کرلی اور قوم کی کوٹ، پینٹ سے جان چھوٹ گئی۔ جبکہ روٹی کے سلسلہ میں کو ئی خاص پیش رفت اس لیے نہیں ہو سکی کہ کوئی اپنی روٹی میں سے رمضانیوں کو دینے کو تیار نہ تھا، اس سلسلہ میں وہی فارمولہ چلتا رہا جو مسلم لیگی کا رکنوں کے لیے ابتدا میں ایجاد ہوا تھا؟ کہ انہیں راشن کے ڈپو دیدیے جا ئیں، یارن (دھاگے ) وغیرہ کے امپورٹ پر مٹ دیدیے جا ئیں اور وہ انہیں بیچ کر سیٹھ یا سیٹھوں کے شریک ِ کاربن جائیں؟ ان میں ایک اضافہ جو ایک پنتھ دو کاج کے مترادف تھا وہ اور اپنا لیا گیا۔ اسکیم نمبر 33 بنادئی گئی اور اس سلسلہ میں جو پلاٹ کاٹے گئے وہ وزیروں کو کوٹے کی شکل میں بانٹ دیے گئے؟ممبران اسمبلی کا کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ روزانہ کارکنان کی فوج کو ساتھ لیکر چلیں اور وزیروں سے پلاٹ کی درخواست پر دستخط کراکر ان ضرورت مندوں کو دیدیں جن کے گھر نہیں ہیں تاکہ وہ اس پر جھونپڑی بنالیں ۔ پھر کیا تھا اسٹیٹ ایجنٹوں کی چاندی ہو گئی۔ کہ جو پلاٹ صبح کو وہ الاٹ کراکر لاتا، شام کو چند سو روپیوں کے عیوض ایجنٹ کی تجوری میں چلا جاتا۔ اس کھیل میں بھی رمضانیوں کے ہاتھ سوائے چند ٹکوں کے کچھ نہیں آیا۔ آخر وہ پلاٹ بھی کہاں تک ساتھ دیتے ختم ہوگئے دہرائے جانے لگے کئی دفعہ فروخت ہو ئے حتیٰ کے وزیراعلیٰ سندھ جام صادق علی کو (جو اپنے نام کی ضد تھے) ان کو بھٹو صاحب کو یہ کہنا پڑا کہ 'کہیں مزار ِ قائد اعظم نہ بیچ ڈالنا '
ضرورت ایجاد کی ماں ہے لہذا ان کے آخری دور میں اسکیم نمبر 24شروع ہوئی اور ہاؤ سنگ سو سائیٹیوں کا دور شروع ہوا؟ پھرجنرل،ضیا ٰ الحق صاحب کے دور میں قبضہ گروپ حرکت میں آگئے۔ جو کہ تھے تو پہلے ہی سے مگر اتنے بڑے پیمانے پر نہیں تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان بنتے کے ساتھ ہی جو پاکستان آنے والے ملازمین کے لیے پی ای سی ایچ سوسائیٹی بنا ئی گئی تھی۔ اس کا بلاک نمبر 1 جوکہ ا علیٰ آفیسروں نے اپنے لیے مختص کیا تھاجس کی دو خوبیاں تھیں ایک تو وہ پلاٹ ایک ہزار گز کے تھے ، دوسرے امپریس مارکیٹ (کراچی) کے ساتھ میں تھے۔ وہ علاقہ مسلم لیگی کارکنوں نے قبضہ کر کے اور چھوٹے، چھوٹے پلاٹ بناکر بیچ کھائے ۔ لہذا وہ واحد سوسائٹی ہے جو بلاک بی سے شروع ہوتی ہے جبکہ بلکہ اے خدا داد کالونی بن گیا؟ ان کی دیکھا دیکھی باقی باقی لوگوں نے بھی سر چھپانے کی جگہ جس کو جہاں ملی وہاں اس نے اس پر قبضہ کرلیا؟ اسکے برابر میں ایک پہاڑی پڑی ہوئی تھی اس کی آبادی دیکھتے دیکھتے لاکھوں تک پہونچ گئی، لوگ آرام سے رہ رہے تھے کہ جذبات میں بہہ گئے ،ان سے ایک غلطی ہوگئی کہ انہوں نے مزید استحکام کے لیے،قائد اعظم کے انتقال پر ان کا مزار وہاں بنوانے کا مطالبہ کردیا؟ مگر نتیجہ الٹا نکلا کہ وہاں جب سربراہاں مملکت آتے تو ادھر قناعتیں کھڑی کر کے اس منظر کو چھپا نا پڑتا تھا، جو جھونپڑیوں کی شکل میں وہاں موجود تھا ؟اس سے حکمرانوں کی سبکی ہوتی تھی لہذا جیسے ہی ایوب خان کا مارشلا ءآیااس نے ان جھونپڑیوں کو ڈھاکر کورنگی شہر راتوں رات بسا دیا مگر نام اعظم خان کا ہوا؟ یہ نظیر سامنے تھی، سرکاری اسکیموں والے پلاٹ ختم ہوچکے تھے۔ کراچی کی آبادی ایک کڑور سے تجاوز کر چکی تھی۔جوکہ روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کے توڑ کے لیے اسکیم نمبر24 پہلے جو شروع کی گئی تھی ۔ اس میں سوسائیٹیوں کو بورڈ آف ریونیوں نے زمین الاٹ کردی ۔ ان کے ساتھ میں جو نجی زمینیں تھیں ان پر یہ ۔۔۔اور وہ ۔۔۔ ٹاؤن بننے لگے۔ ایک صاحب نے اپنے پیر صاحب کو تیار کیا جن کی ملکیت میں کراچی یونیورسٹی کے پاس صرف سولہ ایکڑ زمین تھی؟ انہوں نے اسے فیز نمبر ون بنایا پیر صاحب کے نام پر منصوبہ کا نام رکھا وہ پلاٹ ہاتھوں ہاتھ بک گئے، اس کے بعد فیز نمبر 2کا انہوں نے اشتہار نکال دیا جوحیدر آباد کی طرف میلوں تک اور دوسرا ملیر کی طرف میلوں تک پھیلا ہوا تھا، وہاں انہوںنے لاکھوں پلاٹ فروخت کر دیئے سب یہ سمجھتے رہے کہ فیز نمبر 2 اسکے برابر ہونگا ۔ اسکے ڈلپمنٹ کی پوری رقم بھی وصول کر لی ارادہ ضروریات زندگی فراہم کرنے کا تھا ،مگر انہیں سیمنٹ فیکٹری کا پلانٹ کہیں سستا مل گیا اور انہوں نے وہ خرید کر سندھ انڈسٹریل اسٹیٹ میں لگا لیا۔ بیچاروں کاہاتھ تنگ ہوگیا مجبور ہوگئے اور ترقیاتی کام دو نسلوں سے التوا میں پڑا ہوا ہے۔ مجبوری جو ہوئی جب کہ کئی اسی امید میں کہ آج ترقیاتی کام مکمل ہو کل ہو؟ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ مگر ترقی یاتی کام کچھ نہیں ہوا، اب کچھ کے توپوتے انتظا کررہے ہیں؟ ۔ جب پہاڑیاں اور دور دراز زمینیں بھی ختم ہو گئیں تو ندی نالوں کی نوبت آئی، ان کے الاٹمنٹ کا سلسلہ ابھی چل ہی رہا تھا جو کہ اشتہاروں کی بھر مار سے ظاہر ہے۔ کہ آج ہم نے خبر پڑھی کہ بیس ہزار ایکڑ زمین جو کہ منظور ِ نظرلوگوں کو ملیر ندی کے کنارے عطا کی گئی تھی وہ انہیں لوگوں نے اپنی کھال بچانے کے لیے منسوخ کردی ہے جنہوں نے عطا فرمائی تھی۔ جو کہ وہ لوگ ضرورت مند رمضانیوں کے ہاتھ بیچ کر اور سنا ہے کہ اس کے پیسے بھی باہر بھیج چکے ہیں ۔ یعنی ایک دفعہ پھر رمضانی لٹ گئے ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ ان تمام معاملات سے نپٹنے اور کنٹرول کرنے کے لیے کوئی نگراں اتھاریٹی بنا ئی جا ئے تاکہ آئندہ رمضانی پھر نہ مارے جا ئیں ۔ کیونکہ وہ بیچارے تو غربت سے مجبور ہیں کہ کرا یہ ادا کرنا ان کی بساط سے باہر ہے اور وہ اپنے سروں پر ایک چھت چاہتے ہیں اورا سی لیے ہر بار لٹ جاتے ہیں، آسان شکار جو ہوئے ۔ اور خریدنے والوں کو بھی یہ چاہیے کہ جو لوگ زمین بیچ رہے ہیں وہ ان سے پوچھیں تو صحیح کہ وہ زمین ہے کہاں ؟ کیونکہ اسلام بغیر دیکھے کسی سودے کی اجازت نہیں دیتا مگر ہم اس کی بات سنتے کب ہیں؟ لالچ جو غالب آجاتا ہے؟