چونکہ ہمارا لکھنے کا دن ہفتہ ہے لہذا ہم اپنے قار ئین کو عید کی مبارکباد نہ دے سکے۔ جبکہ ہمارے خیال میں یہ دینا ضروری تھا اچھا ہوا کہ نہیں دی کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جو کرتا ہے وہ اس کے بندے کے لیے بہتر ہوا کرتا ہے ہمیں کیا پتہ تھا کہ عید یوں آ ہوں میں بدل جا ئے گی اور اتنے بہت سےلوگ اس عید پر کام آجائیں گے جو کسی نہ کسی کے پیارے بھی ہونگے اورسب اللہ سبھانہ تعالیٰ کے مہمان بھی ! ان میں ہمارے ملنے والےایک صاحب کے دوپیارے بھی ہونگے وہ بھی دو نوں خواتین۔ سعودی شاہ نے فرمایا کہ اللہ کے مہمانوں کو سہولت فراہم کرنا ہمارا فرض ہے؟ ہم اس میں کوتاہی نہیں کریں گے اور انہوں نے اس سلسلہ میں تحقیات کے لیے کمیشن بھی بنا دیا ہے؟ اس سے پہلے امام کعبہ نے یوم عرفہ پر خطبہ دیتے ہو ئے بہت در مندانہ انداز میں امت کو للکارا اور کہا کہ فرقہ پرستوں نے تمام دنیا میں بد امنی پیدا کر رکھی ہے کاش وہ اسکابھی انکشاف کرتے کہ اسکی دوبارہ تجدید کا منبہ کہاں ہے؟ عید سے چند دن پہلے پاکستان کے وزیر ِ داخلہ چودھری نثار علی خانصاحب نے فرمایا کہ ہم فرقہ پرستی کو اس کے منطقی انجام تک پہونچا کر رہیں گے؟ یہ ساری باتیں سننے میں بہت ہی خوشگوار ہیں اور طمانیتِ قلب کا باعث بھی ؟ اب لوگ پوچھیں گے کہ پھر یہ عید کے پیچھےٹر کیوں ؟ اس کے کئی جواب ہیں پہلا تو یہ ہے کہ ابھی تک ہم وقت کے اندر ہیں کہ یہ عید تین دن چلتی ہے اور اس دفعہ دنیا کی مسلم اکثریت نے عید جمعرات کو منائی، پاکستان میں انہوں نے بھی اتفاق کیا جو بقیہ قوم سے کبھی اتفاق نہیں کرتے تھے ،لہذا لازمی تھا کہ پاکستانی قوم بھی اس مرتبہ ان کے ساتھ اتفاق نہ کرے؟ اس نے واقعی نہیں کیا اور انہوں نے دوسرے دن عید منائی لیکن ایک بات سب کے یہاں یکساں تھی کہ سب نے درس اتحاد کا ہی اور باتیں فرقہ پرستوں کے خلاف کیں ؟ مگر مشکل یہ ہے کہ انہیں سب کو مجبوریا ں لاحق ہیں کہ وہ ایکسی لیٹر اور بریک دونوں پر بہ اک وقت پاؤں رکھے رہیں ایسے میں گاڑی آگے بڑھے تو کیسے؟
اس سلسلہ میں باب علم (رض) کامجھے یہ قول یاد آگیا کہ مومن وہ ہے جو اچھی بات کہے اور اس پرعمل بھی کرے ورنہ اچھی باتیں تو برے لوگ بھی کر لیتے ہیں ۔ اس لیے ہم بھی اس محاورے کے طنزیہ اثر کو اس کان سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں لہذا اس کا اطلاق ہم پر نہیں ہوتا۔ بلکہ من حیثیت قوم اس کا ہم پر مثبت پہلو لاگو ہوتا ہے کہ ہم لوگ اللہ کا ذکر تو ہیں چند لمحہ ہی سہی ،البتہ ٹر جو ہے پارٹیوں اور میلوں کی شکل میں تین دن تو کیا پورا مہینہ مناتے ہیں ۔ اور اس دوران اتنا کھانے پینے پر زور رہتا ہے کہ اس میں جو پیغام پنہا ں ہے وہ ہی بھول جاتے ہیں۔ کیوں کہ قوم کا مزاج ہی ایسا بن گیا ہے۔ آپ ہماری بات نہ مانیں اور اپنے یہاں کے لوگوں کو بھی چھوڑدیں اورصرف ٹی وی پروگرام ہی دیکھ لیں، ادھر غلاف کعبہ بدلتا ہوادکھارہے ہوتے ہیں اور “ اللہھم لبیک“ کی صدا گونج رہی ہوتی ہیں کہ یکایک گانا شروع ہو جاتا ہے جو کسی اشتہارکا حصہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ ٹی وی چلتے ہی اس پر ہیں ؟ اگر یہ نہ کریں تو مالکان کی تجوریاں کیسے بھریں اور وہ اپنے اینکرز کو بڑی بڑی تنخواہیں کہاں سے دیں جو لاکھوں میں ہوتی ہیں لہذا یہ ان کی مجبوری ہے۔ پھر بھی اینکرز کا یہ عالم ہے کہ صورت ِ سیماب رہتے ہیں ۔ آج اس ٹی وی پر ہیں اور کل دوسرے سے ابھر تے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں ۔ مگر یہ بھی محاورہ ہے کہ اللہ شکر خورے کو شکر دیتا ہے ہم پھر بھی کہیں نہ کہیں سے اپنے پڑھنے والوں کے لیے کچھ ڈھونڈ ہی لاتے ہیں اور جو ہم نے ان تین دنوں میں تعطیل نہ کرکے حاصل کیا ہے وہ پیش خدمت ہے کیونکہ مسلمان ہونے کے رشتے سے تعطیل تو ہم پورے سال ہی کر تے ہیں اور کام کرنے کی طرف دل کبھی مائل ہو تو پہلا ہی قدم غلط اٹھ جاتا ہے کہ ہم جو اجرت لیتے ہیں ان اوقات میں جنتنا کام ہو چاہیئے وہ پورا کرتے ہی نہیں ہیں اس میں ہمارے پارسا اور غیر پارسا دونوں شامل ہیں،اسی طرح جو ملازم نہیں ہیں وہ ہر وقت کم تولنے ، کم ناپننے ، ذخیرہ اندوزی ، منافع خوری کرنے سے بعض نہیں رہتے؟چونکہ ہمارا جو مصنوئی درجہ اشرافیہ بن گیا ہے یہ اس کے ساتھ کولہے سے کولہا ملاکر چلنا بغیر اس کے مشکل ہے، لہذا یہ ان کی مجبوری ہے؟ لیکن قربانی کے سلسلہ میں اس کے علاوہ بقیہ ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا ہوتے ہیں ؟ جب کہ رزق ِ حلال اور اخلاص کو نکالدیا جائے تو اس کے علاو جو اس کے حضور پیش ِ کرنے جارہے ہیں اس میں سب کچھ ہے اور اس اعتبار سے سب سے افضل قوم ہم ہیں۔ مثلا ً حکم ہے قربانی کا جانور خود پالیں تاکہ اس سے بہت زیادہ محبت ہو جائے اور یہ شرط پوری ہو سکے کہ اللہ کی راہ میں وہ چیز قربان کرو جس سے تمہیں سب سے زیادہ محبت ہو اس کو اچھا کھلاتے بھی ہیں پلا تے بھی ہیں اور زیورات پہنا کے سجاتے بھی ہیں لیکن یہ کام ہم خود کم کرتے اور اجرت پر زیادہ کراتے ہیں پھر تصویر ساتھ اعلان کراتے ہیں کہ اتنے لاکھ میں خریدا! جیسے کہ مرنے والے کےورثہ اگر نیک ہوں اور اس پر یقین بھی رکھنے والے ہو ئں تو کچھ رقم حصہ بانٹ کے دوران اسکے لیے بھی مخصوص کر دیتے ہیں کہ مولوی صاحب چالیس دن قبر پر قرآن خوانی کریں گے یہ ان کو دینا ہے؟ بلکہ یہاں تک بھی ہو تا ہے جو ہم نے اپنے قیام ِ بنگال میں لوگوں سے سنا جو کہ ثقہ قسم کے لوگ تھے کہ ایک آدمی ریلوے اسٹیشن پر مر گیا جو کہ بے گھر تھااور رات کو آکر وہاں سوجاتا تھا، اسکی تہجیز اور تکفین کے لیے چندہ ہوا ۔ تو مولوی صاحب کے لیے نمازِ جنازہ پڑھانے کی فیس پندرہ ٹکے (روپیہ) رکھی گئی کیونکہ مولوی صاحب بغیر اجرت کے نماز نہیں پڑھاتے تھے۔ جو کہ اس دور میں بہت بڑی رقم تھی بس یوں سمجھ لیں کہ ہمارے پاس ایک میٹرک پاس ملازم تھا اس کی پورے مہینے کی تنخواہ، یہ پندرہ (روپیہ) اور کھانا تھی۔ پھر قربانی کے سلسلہ دوسرا مرحلہ آتا ہے سفید پوشوں کا آتا ہے وہ نمائش جسکو مذہبی اصطلاح میں ریاکاری کہا جاتا ہے اس کے مرتکب ہوتے ہیں؟ وہ ہے جانوروں کی نمائش اور محلہ میں اس کا گشت اور دروازے پر باندھنا ۔ ہمارے ایک دوست جو کہ حلال کی کمائی کھاتے ہیں اور پورے بازار میں واحد تاجر ہیں؟ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے حالات پچھلے کئی سالوں سے کراچی کی آئے دن کی ہڑتالوں کی وجہ سےا تنے خراب ہو گئے ہیں کہ ہم اس سال قربانی کاجانور نہیں خرید سکے ؟ لہذا جو بھی ہمارے دروازے کے سامنے سے نکلتا ہے وہ عجیب نظروں سے دیکھتا ہوا گزرتا ہے جیسے کہ گویا ہم مسلمان ہی نہیں ہیں؟ اس سے یہ بات ثابت ہے کہ اس معاشرے رہنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ قر بانی ضرور کرے رقم چاہیں کیسی بھی ہو اور کچھ دنوں دروازے پر باندھے بھی تاکہ معاشرتی رکھ رکھاؤ پو را ہو سکے ورنہ اس کے عقیدے کہ بارے میں لوگ مشکوک ہو جا ئیں گے؟ اس طرح قربانی ہر آدمی کی مجبوری بن چکی ہے چاہےرقم حلال ہو یا نہ ہو؟ کل کسی سوال کے جواب ہم نے اپنے کانوں سے ایک مولوی صاحب کو کہتے سنا کہ جو صاحب ِ نصاب ہیں ان کی تعریف یہ ہے کے جن کے پاس اکیاون تولے چاندی ،یا ساڑھے سات تولے سونا یا اس کے مساوی اثاثے ہوں تو وہ صاحب ِ نصاب ہیں ان پر زکات اور قربانی فرض ہے؟ انہوں نے شاید حج کانام اس لیے نہیں لیا کہ اس میں زادِ راہ، بیوی بچوں کا نان و نفقہ بھی شامل ہوتا ہے۔ البتہ مساوی ا ثاثوں کے بارے مں جب سوال ہوا تو انہوں نے سہی یاد نہیں رقم چھتیس ہزار یااڑتیس ہزارروپیہ بتا ئی؟ یہ غالباً چاندی کی قیمت ہوگی جوانہوں نے مد ِ نظر رکھی ، ورنہ سونا لیتے تو ساڑھے سات تولے سونا تو تقریبا ً چار لاکھ روپیہ کابنتا ہے؟ جبکہ اڑتیس ہزار میں میں تو اچھا بکرا ہی بمشکل آتا ہے جوکہ اس قابل ہو کہ دروازے پر باندھا جا سکے لہذا یہاں بھی مال حرام کمانا اور اس سے قربانی ان کی مجبوری ہے؟ اب آگے بڑھتے ہیں یہ سب بندوبست ہو بھی جائے تو پوری قوم رات بھر جاگنے اور دیر تک سونے کی عادی ہوچکی ہے جبکہ عیدین کا وقت وہی چلا آرہا ہے کہ علی الصبح اور عید الاضحی کی نماز تواور بھی جلدی ہوتی ہے ؟ رہاخود جاکر خطبہ حج سننا تو وہ کچھ فرقوں کے نزدیک واجب ہےاور کچھ کے نزدیک فر ض ہے، وہ قوم کے دیر سے اٹھنے کی مجبوری کی بنا پر مشکل بن چکا ہے۔ لہذا لوگ بمشکل اٹھ پاتے ہیں یہ ہیں ہماری مجبوریاں جبکہ اللہ صرف رزق حلال سے ہی وہ بھی خلوص کے یعنی ہر نیک صرف اللہ کی رضا کے ہو اس میں کوئی اور خواہش نہ ہو اور وہ کام وقت پر بھی ہو تب ہی قبول کرتا ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے سارےنیک اعمال ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہونچاتے ؟ اور اسکا حل یہ ہے کہ اجتماعی توبہ کی جائے جو ہم تو سالوں سے کہہ رہے تھے؟ مگر اب تو حالات دیکھ کر بہت سے کہنے لگے ہیں، کاش کہ ہم سب کو احاس اور اللہ سبھانہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کام کرسکیں اور عیدیں مناسکیں؟