اس سلسلہ میں تما م مور خین متفق ہیں کہ حضور (ص)کی را ئے شرو ع سے ہی با ہر نکل کر مقابلہ کرنے کی تھی۔ جو کہ اس ارشا د گرا می سے ظا ہر ہے جیسا کہ ابنِ اسحاق (رح) نے تحریر کیا ہے کہ ”اگر تمہا ری را ئے یہ ہوکہ ہم لو گ مدینے میں ٹھہریں اور قریش نے جہا ں پڑا ؤ ڈا لا ہے ( انہیں )وہیں رہنے دیا جا ئے تو یہ با ت ٹھیک نہ ہو گی، کیو نکہ انہو ں نے غلط جگہ پڑا ؤ ڈا لا ہے“ لیکن ایک تواس معا ملہ میں وہ لو گ بہت زیا دہ پر جو ش تھے جو کہ بدر کے غزوہ میں شریک نہیں ہو ئے تھے۔دوسرے شہر کے اندر لڑنے میں یہ قبا حت بھی تھی کہ منا فقین کہیں ان کے سا تھ مل نہ جا ئیں ۔ اور یہ چیز حضو ر (ص) کے اس خد شہ سے بھی ظا ہر تھی کہ انہوں نے فر ما یا کہ جہا ں پڑا ؤ قریش نے ڈا لا ہے، وہ مد افعاتی جنگ کے لیے منا سب نہیں ہے ۔اس کو سب نے تحر یر تو کیا ہے مگر یہ کسی نے نہیں بتا یا کہ جو خطرہ حضو ر (ص) کی بصیرت محسو س کر رہی تھی ، آخر وہ خطرہ کیا تھا ؟اس پر سا رے مو رخین خا مو ش ہیں حتیٰ کہ امام بخاری (رح) نے اس غزوے کے با رے میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے ۔مگر اس پر انہو ں نے بھی رو شنی نہیں ڈا لی ۔ بہر حا ل جب کثرت را ئے سے یہ فیصلہ ہو گیا کہ مدینہ سے با ہر نکل کر جنگ کی جا ئے توحضور (ص) زنا نخا نے میں تشریف لے گئے اور زرہ زیب تن کر کے واپس تشریف لے آئے۔ اتفا ق سے اسی رو ز بنی نجا ر میں سے ایک انصا ر حضرت مالک (رض) بن عمرو کا انتقال ہو گیا تھا ۔ان کی پہلے نما ز جنا زہ پڑ ھا ئی اس کے بعد مجا ہدین کو احد کی طر ف روانگی کا حکم دیا۔ اس مر حلے پر ابن ِ اسحا ق (رح) کے حوا لے سے تحریر ہے کہ، لو گو ں کو احسا س ہو ا حضو ر (ص)کو انہو ں نے خو امخوا ہ زحمت دی لہذا صحا بہ کرا م نے عرض کیا کہ یا رسول (ص) اللہ ہم آپکو زحمت نہیں دینا چا ہتے آپ یہیں تشریف رکھیں ۔ہم دشمن کے مقا بلے پر جاتے ہیں۔ تو حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ یہ رسو ل (ص) کو زیب نہیں دیتا کہ وہ زرہ پہننے کے بعد لڑے بغیر اتاردے ۔(یہا ں یہ وا ضح نہیں ہے کہ اگر دشمن صلح پر آما دہ ہو جا ئے یا فرا ر ہو جائے تو ؟) واللہ عا لم ۔ البتہ اس پر سب متفق ہیں کہ رئیس المنا فقین عبد اللہ بن اُبی سلول کی را ئے شرو ع سے ہی باہر جا کر لڑنے کے خلاف تھی۔ اوراس با ت پر وہ زور دیتا رہا کہ مدینے میں رہ کر مقا بلہ کیا جا ئے۔ اس کے پس ِ پر دہ کیا راز تھا یہ اللہ اور رسول (ص) بہتر جا نتے ہیں ۔اس کی وجہ یا تو اس کا وہ وہم تھا کہ جیسا کہ حضور (ص) سے بھی ا س نےاظہار کیا کہ آج تک جب بھی جنگ ہو ئی اور مدینے میں رہ کر دفا ع کیا گیا تو ہمیشہ فتح ہو ئی اور جب بھی با ہر نکل کر لڑے تو شکست ہو ئی ۔ ظا ہر ہے کہ یہ تو ہم پرستی تھی جو کہ اسلام اور دا عی ِ اسلام (ص) کے مزا ج کے با لکل خلا ف تھی۔ جس کے ما ننے کی حضو ر (ص) سے تو قع ہی نہیں کی جا سکتی تھی۔البتہ یہا ں منا فق اور غیر منا فق کی اللہ تعالیٰ کو پہچا ن کروا نی مقصود تھی وہ آگے چل کر ہو گئی۔ دو سرے اللہ تعا لیٰ کو یہ دکھا نا بھی مقصود تھاکہ اگر نبی (ص) کی کبھی بھی نا فر ما نی کی جائے جبکہ نبی (ص) تم میں مو جود ہوں یا نہ ہو ں، توبھی قو م سزا سے نہیں بچ سکتی اور یہ پہلا مو قع نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا ہو تا رہا اگر آپ بنی اسرا ئیل کی تا ریخ میں جا ئیں تو دیکھیں گے ۔کہ حضرت مو سٰی ان میں مو جو د تھے، انہو ں نے انکی نا فر ما نی کی اور سزا بھگتی۔ پھر انکے بعد بھی کئی مر تبہ اللہ کی نا فر ما نیو ں کی وجہ سے انکی قوم عذا ب سے گزرتی رہی۔ اس سے ثابت ہواکہ سزامیں نبی (ع) کی مو جود گی میں بھی فرق نہیں پڑتا،اگر نبی (ع) کی نا فر ما نی کی جا ئے اسکی مثا ل غزوہ احد میں حضو ر (ص) کی مو جو دگی سے اور صحرائے سینا ئی میں مو سیٰ (ع) کی مو جو د گی سے ثا بت ہے۔ جب کہ اللہ تعا لیٰ نے چا لیس سال کےلئے فتح کو موخر کر دیا تو بھی وہ ان میں کچھ عرصہ تک مو جود تھے۔یہ فتح اُ ن کی وفات کے بعد حا صل ہوئی جب کہ قو م تا ئب ہو گئی۔ بہر حال حضور (ص) ایک ہزار صحا بہ کرا م کی جمعیت کے سا تھ مدینے شریف سے با ہر نکلے اور اپنی (ص)جگہ ابن ِ (رض) ام ِ مکتو م کو نا ئب مقرر فر ما یا اور پرچم حضرت مصعب (رض) بن عمیر کوعطا فر مایا۔ آگے چل کر ابن ِ اسحاق (رح) فر ما تے ہیں کہ جب اسلا می لشکر مقام ِ شو ط تک پہو نچا اور عبد اللہ بن ابی سلول نے قریش کی تعداد دیکھی تو بغیر حضور (ص) سے اجا زت لیئے یا معذرت کئے اپنے سا تھ ایک تہا ئی لشکر لیکر وا پس لو ٹ گیا۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ عبداللہ بن ابی سلو ل اور اس کے سا تھیو ں کواس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مخا طب فر ما یا ہے ً ولیعلم الذین نا فقو اوقیل لھم تعالوا قاتلو فی سبیل اللہ ۔۔۔۔۔الخ ۔ راوی آگے لکھتے ہیں کہ اس مو قع پر حضرت عبد اللہ (ص) بن عمرو نے اسے اور اس کے سا تھیو ں کو رو کنا چا ہا تو اس کا جوا ب یہ تھا کہ حضور (ص) نے میری با ت نہیں ما نی ،اور دوسرو ں کی با ت ما ن لی ۔لہذا میں جا نتے ہو ئے خو د کو اور اپنے سا تھیو ں کو ہلا کت میں نہیں ڈا لنا چا ہتا۔پس جب ان کی با ت منا فقین نے نہیں سنی تو انہو ں نے کہا اے دشمنا ن ِ خدا !اللہ تمہیں اپنی رحمت سے محرو م رکھے۔ خدا ئے بزرگ اور بر تر جلد ہی اپنے نبی (ص) کو تم سے بے نیا ز کر دیگا۔ انہیں (ص) تمہا ری مد د کی ضرو رت ہی نہیں رہے گی ۔ اس کے علا وہ ابن ِ ہشا م (رح) اور ابن ِ ا سحا ق (رح) دو نو ں نے لکھا ہے کہ جب انصار نے حضو ر (ص) کی تو جہ اس طر ف دلا ئی کہ کیا ہم اپنے حلیف یہو دیو ں کو بھی مدد کے لیے بلا لیں ۔تو حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ ”اس کی ضرو رت نہیں ہے “۔ زیا د کہتے ہیں کہ ابنِ اسحاق (رح) نے بیا ن کیا ہے کہ حضو ر (ص) آگے بڑ ھتے گئے ،اور جب بنی حارثہ کی بستی میں پہنچے تو فر ما یا کہ ان سے معلو م کرو کہ ان میں سے کو ن ہما رے سا تھ جا نا چا ہتا ہے ؟ یہ کلما ت سن کر حضرت ابو خثیمہ (ص) نے عر ض کیا سب سے پہلے میں ۔ان کی زبا ن سے یہ سن کر حضور (ص)نے تبسم فرما یا اور انہیں کے مکا ن پر چل کر کچھ دیر قیا م کیا اور پھر روانہ ہو گئے حتیٰ کہ مقا م ِ حرہ پر پہو نچ گئے ۔و ہا ں پہنچ کر فر ما یا کہ ”کو ن ہے جو ہمیں دشمن کے قریب ایسے راستے سے لے چلے، جو دشمن کے سا منے سے نہ گزرتا ہو “ تو حضرت ابو خثیمہ (رض) نے پھر عر ض کیا یا رسو ل (ص)اللہ میں ۔اور یہ کہہ کر اسلا می لشکر کو حرہ بنی حار ثہ کی طرف سے لے چلے ،پھر حضو ر (ص) سے راستے میں جو لو گو ں کے با غات و غیر ہ پڑے ان کا ذکر کرتے گئے، حتی ٰ کہ یہ مربع بن قیظی کے پا س گزرے وہ ایک نا بینہ اور کا فر تھا ۔ اس نے آہٹ سن کر پوچھا کہ کو ن ہے تو اہل لشکر میں سے کسی نے جوا بد یا ”رسو ل (ص) اللہ“ اس پر وہ زبا ن درازی پر اتر آیا اور مٹی، پتھر پھیں کنے لگا۔ اہلِ لشکر اس کو ما رنے کو بڑ ھے مگر حضور (ص) نے منع فر ماد یا کہ اس کو چھوڑدو یہ آنکھو ں کا اندھا ہی نہیں بلکہ دل کا بھی اندھا ہے۔ جب بنی حارثہ کی بستی سے بھی گزرکر یہ لشکر احد کے پہا ڑی علا قے کے قریب پہنچا تو حضور (ص) نے بنی قیلہ کی زرعی زمین سے کسی قدر دور دا من ِ کو ہ میں پڑاؤ کر نے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایاکہ آپکی اجازت کے بغیر دشمن سے جنگ نہ کی جا ئے۔ جب کسی نے آپ سے پوچھا کہ کیا یہ جگہ پڑا ؤ کے لیے منا سب ہے ؟جبکہ پو را اسلا می لشکر دشمن کی زد میں ہے۔ تو آپ نے فرمایا:کیا کفا ر کی طر ح ہم بھی بنی قیلہ کی زرعی زمین رو ند کر اس سے بہتر جگہ لشکر کے پڑاؤ کے لیے تلاش کر یں ۔البتہ حضور (ص) نے اس شرط کے سا تھ بہتر جگہ پہا ڑ پر تلا ش کرنے کی اجا زت دیدی۔ کہ چا ہے اس کے لیے کتنا ہی طو یل راستہ اختیار کر نا پڑے زرعی زمین سے دور رہیں۔جب حضو ر (ص) جبل ِ احد پر پہنچ گئے تو اسلا می لشکر کو تر تیب دیا۔ اس وقت حضور (ص) کے ہمرا ہ سا ت سو صحا بہ کرا م تھے۔گوکہ بعض مور خین ِ نے ان کی تعداد چار سو بتا ئی ہے مگر زیا دہ تر لو گ اس پر متفق ہیں کہ تعداد سات سو ہی تھی ۔ جبکہ مخالفین کی تعداد تین ہزار تھی لیکن حضور (ص) سے اللہ تعا لیٰ نے نصرت کا وعدہ فر ما یا ہوا تھا اس سے اسقدر لشکر اسلا م میں تما نیت تھی جس کی تعر یف اللہ سبحا نہ تعا لی نے خو د قرآن میں فر ما ئی ہے جس کے راوی عروہ بن مو سیٰ ہیں انکا کہنا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سلول کے واپس جانے کے بعد نا زل ہو ئی :
” ًاز ھمت طا ئفتا ن منکم ان تفشلا واللہ ۔۔۔۔ الخ“
باقی آئندہ