15.10.2026, 11:22am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

رسول اور آل رسول پر گفتگو تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
02.10.2015, 04:10am , جمہ (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم
ابھی چند روز پہلے فیس بک پر جبہ و دستار والے ایک مولانا کی وڈیو نظر سے گزری جو لندن سے زیارات کے لیئے قافلہ لے جانے والے زائرین کو ایک غیر عقلی اور انتہائی ضیف حکایت سنا کر شاید اپنی علمیت کا رعب ڈال رہے تھے ۔ لیکن وہ باب شہر علم کا یہ قول بھول گئے کہ کلام کرو تاکہ تم پہچانے جاؤ ۔ کم از کم میں نے تو ان اعلی حضرت کو مولا کے قول کی روشنی میں بخوبی پہچان لیا ہے ۔ 

مولانا نے جو حکایت بیان کی ہے وہ یہ ہے “ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک شیر پالا تھا جس کا نام حارث تھا ۔ اللہ کے رسول کے حکم کے مطابق کنیز سیدہ جناب فضہ نے شہادت حسین کے بعد لاشوں کی پامالی کو رکوانے کے لیئے اس شیر کو طلب کیا ۔ 

شیر  بقول مولانا صآحب کے رات بھر لاش حسین پر بیٹھا رہا اور روتا رہا ۔ اور گیارہ محرم کو بیمار کربلا سید سجاد نے شیر کو واپس جانے کا حکم دیا ۔“ 

میں نے بہت سوچ سمجھ کر اس وڈیو کا لنک اس لیئے نہیں لگا رہی کہ میں اس خود ساختہ اور میزان عقل پر پوری نہ اترنے والی کسی حکایت کو اور اسے بیان کرنے والے کسی مولانا کو مفت میں اہمیت اور مشہوری کیوں دی ۔ آپ میں سے جو لوگ براہ راست اسے سننا چاہے وہ فیس بک پر جناب سید حسنی کے مندرجہ زیل لنک پر ان مولانا کی وڈیو اور اس ضمن میں ہونے والی بحث کو خود بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ 



اور اب آیئے میرے استدلال کی جانب ۔۔۔۔۔۔ 

مجھے اس پر فخر ہے میں اہل سنت خاندان سے تعلق رکھتی ہوں جہاں اہل بیت خاص طور پر مولا علی ، بی بی فاطمہ ، اور امام حسن اور حسین علیہ السلام کے زکر کو قران کی تلاوت اور کلمے کے اقرار کے بعد اسلام کا سب سے اہم جزو تصور کیا جاتا ہے ۔ میں ان اہل سنت میں سے ہوں جن کا ایمان یہ ہے کہ امام حسین ع سے محبت وہ سنت رسول ہے جس کو ادا کیئے بغیر بھلا کوئی کیسے جنت کے ان سرداروں کی اجازت کے بنا جنت میں داخلے کا سوچ بھی سکتا ہے ۔ میں ان مولوی صآحب کو زاتی طور پر نہیں جانتی لیکن اتنا مجھے معلوم ہے کہ اب شائد ہی کوئی مولوی ایسا ہو جو کربلا کی زیارات ایران کے سفر اور حج و عمرہ کا کاروبار نہ کرتا ہو ۔ اس منافع بخش کاروبار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا اور ایسے قافلے لے جاتے ہوئے مولوی صاحب اور ان کی بیگم کا تکٹ مفت نکل آتا ہے ۔

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فروشی کو اپنا دھندا بنا رکھا ہے ۔ یہ اسی قسم کی جھوٹی کہانیوں سے معصوم لیکن کم علم انسان کو بے وقوف بنا کر مولا علی کے قبر میں آنے کی بشارت دیتے ہیں اور جنت کے خواب دکھلاتے ہیں ۔ جو کہانی ان مولانا صآحب نے ابھی سنائی یہ سچی ہے یا جھوٹی مجھے اس سے کوئی بحث نہیں ، میری ایک عقلی اور فکری دلیل ہے جس کا مجھے جواب چاہیئے ۔ شیرحضرت امام حسین علیہ السلام کے لاشے کے پاس رات بھر بیٹھا رہا ۔ کہانی لکھنے والے نے یہ نہیں سوچا کہ شہادت امام کے بعد رات پڑنے پر خیموں کو آگ لگائی گئی ، سید زادیوں کے سروں سے چادریں چھینی گئیں ، سید سجاد بیمار کو خمے سے باہر نکالا گیا ، حسین کے لاڈلی سکینہ کے منہ پر طامنچے مارے گئے اور سادات کے تبرکات کو لوٹا گیا ۔ مجھے کون جواب دے گا کہ امام حسین کا پالا ہوا یہ شیر کیا کھلی آنکھوں سے یہ سب تماشا دیکھتا رہا ۔ دوسری اہم بات یہ  کہ جتنا میرا مطالعہ ہے شہدا کے لاشوں کی پامالی شہادت امام حسین کے بعد ہوئی تھی ۔ اور اسی پامالی کو رکوانے کے لیئے شیر صآحب کو بلوایا گیا تھا ۔اور آخری بات بقول مولانا صاحب کے 11 محرم کو امام سجاد نے شیر کو واپس جانے کا حکم دیا آخر اس کی وجہ ؟ ۔۔ 

باب شہر علم سیدہ فاطمہ کے شوہر اور حسن حسین کے بابا امام علی نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہی کہ ہمارے حوالے سے جو بات تمہیں کہی جائے اور اسے تمہاری عقل تسلیم نہ کرے تو اسے دیوار پر مار دو ۔۔۔ آپ میرے بارے میں جو بھی رائے قائم کریں میری عقل اس کہانی کو تسلیم نہیں کرتی ۔ ہاں فی الحال میں اسے دیوار پر نہیں مار رہی ۔ میری حسنی صآحب سے درخواست ہے کہ ان گالیاں دینے والوں سے نام نہاد عاشقانہ علی کے حق میں دعا کریں کہ کم از کم اللہ پاک انہیں سوچنے سمجھنے اور تجزیئے کی توفیق عنایت فرمائے ۔۔ اور یہ آل رسول کی بدنامی کی بجائے ان کی نیک نامی کا موجب بنیں ۔ 

جاتے جاتے میرے ایمان کی یہ دلیل بھی سن لیجئے کہ میرے نزدیک جو شخص علم سے عاری ہے اور جسے دین کی معلومات نہیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آل کے فرامین پر عمل نہیں کرتا اسے عاشقان علی اور اہلبیت کہلوانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔

:دیگر مضامین
(30.09.2015) نفس کی سازش ۔۔۔اپنا محاسبہ نہیں کرنے دیتی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(25.09.2015) قوم میں کاہلی اور سستی کے معاشرے پر اثرات ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.09.2015) سوال یہ ہے کہ محبت کیا ہے ۔۔ ؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(06.09.2015) کیا شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینا مغرب کی زمیداری ہے۔ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.09.2015) بچوں اور ماں باپ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(28.08.2015)  ہماری نجات اجتماعی توبہ میں ہے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.08.2015) محسن کش قوموں کے انجام سے لرز جاتی ہوں ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔دوسری قسط
(23.08.2015) محسن کش قوموں کے انجام سے لرز جاتی ہوں ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔پہلی قسط
(11.08.2015) قصور کے بچوں کا کیا قصور ۔۔ ؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(20.07.2015) محبت ، شکر اور شکریہ سکھاتی ہے،احباب کوعید الفطر مبارک۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم 
(02.06.2015) نئی نسل کے مسائل ، ان کے اسباب اور ان کاحل ۔از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
(21.05.2015) خدا کے لئے  اپنے بچوں  کی مدد کیجئے ۔۔ ۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم
(20.05.2015) اسلامی تعلیمات میں‌ ذات پات اور قوم پرستی کاتصور۔از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
(28.04.2015) صحت مند رہنے کی اہمیت ----- ۔۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم 
(04.03.2015) اکثر اہل ادب ،عورت کے معاملے میں بے ادب کیوں؟ ۔۔ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم‎
(01.03.2015) ہم بزرگوں کی عزت کیوں کریں ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(16.02.2015) انفرادی تربیت ہی عالمی امن کی پرورش کر سکتی ہے۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(13.02.2015) کیا ہم کسی کے اچھے دوست ہیں ۔۔۔۔ ؟‌ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(12.02.2015) ہندوستان کو جمہوریت کی حقیقی فتح مبارک ہو ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(20.01.2015) میں کوئی نیا کالم کب لکھونگی ؟ ۔۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں