 |
| حیدر طباطبائی |
اپریل 23 کو لندن کے نہرو سینٹر میں ممتاز ادیب حیدر طبا طبائی کی دو کتابوں ۔لندن کے بھوت اور آین مے کشی ۔ کی رونمائی ہؤی۔ تقریب کی صدارت ممتاز نقاد ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے کی۔ تقریب کے آغاز میں شدھا شرما جنرل سیکرٹری مجاز اکادمی نے اقبال کی نظم۔ مجھے ہے حکم اذان لا الہ الااللہ ۔ترنم کے ساتھ پیش کی۔
سوہن راہی ڈاکٹر عبالغفار عزم ناظر فاروقی اعجاز احمد اعجاز آدم چغتائی اور احسان رشید نے منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
 |
| گوپی چند نارنگ |
تقریب میں معروف صحافی ،براڈکاسٹر اور عالمی اخبار کے معاون مدیر اعلیٰ آصف جیلانی اور دنیائے ارود ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹرگوپی چند نارنگ نے حیدر طباطبائی کی کتابوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ذیل میں ہم محترم آصف جیلانی کی تقریر کا متن پیش کر رہے ہیںحیدر طباطبائی کی تخلیقاتبلا شبہ یہ طمانیت کی بات ہے کہ حیدر طباطبائی کی ایک ساتھ دو تخلیقات منظر عام پر آئی ہیں اور یہ دوہری خوشی کی بات ہے کہ اس تقریب میں ان دونوں تخلیقات کی ایک ساتھ رو نمائی ہو رہی ہے۔
 |
| آصف جیلانی |
بچپن میں مجھے یاد ہے کہ جب کبھی کؤی دو جڑے ہؤے آم یا دوسرے جڑے ہؤے پھل ہاتھ آجاتے تھے تو فورا انہیں قاب میں ڈھانپ کر اپنے بڑوں کو پیش کیا کرتے تھے اس امید میں کہ اس کے بدلے میں د گنے پھل ملیں گے ۔ جیسے ہی یہ جڑواں پھل قبول ہوتے تو ان کے بے نقاب ہوتے ہی فراموش فراموش کہا جاتا تھا۔ آج تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ جڑواں پھلوں کا یہ تحفہ پیش کر کے لوگ فراموش کیوں کہتے تھے۔
بہر حال خوشی کی بات ہے کہ حیدر طباطبائی نے ہم سب کو اپنی تخلیقات کا یہ جڑواں تحفہ پیش کرنے کے ساتھ فراموش نہیں کہا ورنہ ہم ان کو ان تخلیقات کی ہم سر اور اتنی ساری تخلیقات کہاں سے پیش کر تے۔ ویسے بھی بچت یہ ہؤی کہ اب لوگوں نے یہ روایت خود فراموش کر دی ہے۔حیدر طباطبائی کی یہ دونوں تخلیقات لا جواب ہیں اور ایسے خوب صورت مضامین سے مزین ہیں کہ یہ علم و دانش کی کہکشاں نظر آتی ہیں اور مجھ جیسے تہی دامن کے لیئے کڑی آزمایش ہے کہ کس کتاب کو فوقیت دوں اور اس کے محاسن تفصیل کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کروں ۔ ان کتابوں کے بین الاقوامی اشاعتی نمبروں نے البتہ میرا یہ مخمصہ حل کر دیاہے ۔ ان نمبروں سے پتہ چلا کہ پہلے ۔لندن کے بھوت ۔طبع ہؤی ہے۔ لہذا میں پہلے اسی کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔
لندن کے بھوت کے عنوان سے تجسس کی سر سراہٹ ہوتی ہے اورجب کتاب کھول کر میں نے اس کے مضامین کی فہرست پر نظر ڈالی تو سخت تعجب ہوا کہ آخر اس کتاب کا عنوان ۔لندن کے بھوت ۔کیوں رکھا گیا ہے۔ سر فہرست ۔میرا شجرہ نسب۔ میری حدیث عمر گریزاں۔ حقیقت ابدی ہے مقام شبیری۔ عظمت حسین۔ امام حسین کا فلسفہ شہادت کے مضامین ہیں اور پھر لکھنو کے بارے میں چھ مضامین ہیں اور آ خر میں جا کر لندن کے بھوت کے عنوان سے مضمون ہے جس کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ کتاب کایہ نام کیوں رکھا گیا ہے۔
میں اس مضمون کی تفصیل میں جا کر ان لوگوں کے عالم حیرت کو پہلے سے نہیں توڑوں گا جنہوں نے ابھی یہ مضمون نہیں پڑھا ہے۔ ویسے لوگوں کو لندن میں بھوتوںکی موجودگی پر شبہ نہیں ہونا چاۂے کیونکہ ایک حالیہ سروے میںیہ انکشاف ہوا ہے کہ لندن میں 70 فی صد لوگ بھوتوں کا وجود تسلیم کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنہیں بھوتوں کا کسی نہ کسی اندازسے تجربہ ہوا ہے۔

اس کتاب کے پہلے مضمون ۔۔ میرا شجرہ نسب ۔۔ سے حیدر طباطبائی کی شخصیت کا انکسار عیاں ہے۔ انہوں نے نہایت سادہ انداز سے اپنے آباو اجداد کا ذکر کیا ہے ان کے کارنامو ں اور حشمت و دولت کے ذکر کے بغیر ۔ جس میں آج کے دور کی خودستائی اور خود نمائی کا ذرا بھی شایبہ نہیں۔آج تو لوگ پدرم سلطان بود سے کم بات نہیں کرتے۔
مضمون ۔ میری حدیث عمر گریزاں ۔ میں انہوں نے اسلامی انقلاب ایران کے اسباب و عوامل کا وہ پس منظر پیش کیا ہے جو خود انہوں نے اپنی آکھوں سے دیکھا اور جس کے شروع کے دور کے تجربات سے وہ خود گذرے۔
انقلاب ایران کے چشم دید احوال کے بارے میں اردو میں خال خال ہی کتابیں ہیں جن میں مختار مسعود کی کتاب لوح ایام نمایاں ہے لیکن حیدر طباطبائی نے عوامی سطح پر جتنے قریب سے ان حالات کوقدم بہ قدم دیکھا ہے جو انقلاب ایران سے تین سال پہلے رونما ہؤے اور انقلاب کا سبب بنے اتنے قریب سے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے ۔یہ مضمون اس لحاظ سے تشنہ رہ گیا کیونکہ ابھی یہ نا تمام ہے
۔
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری ۔۔عظمت حسین اور امام حسین کا فلسفہ شہادت ۔۔یہ مضامین حیدر طباطبائی کے عمیق مطالعہ مذہب کے عکاس ہیں۔ انہوں نے عظمت حسین کے مضمون میں یہ قابل غور نکتہ پیش کیا ہے کہ یہ سب مانتے ہیں کہ حسین ابن علی نے حق کی حمایت اور باطل کے خلاف جنگ کی لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ حق اور باطل کی حدود کیا ہیں اور وہ کون سی کسوٹی ہے جس پر حق اور باطل کو پرکھا جا سکے اور حق اور باطل کا ہمہ گیری معیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ۔۔۔ اور باتوں کو سمجھے بغیر ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ حسین ابن علی حق پر تھے لیکن ہم یہ نہ سمجھ پائے کہ حق والے کی پیروی کس طرح کرتے ہیں۔

خواتین اودھ کے زیورات کے دلچسپ بیان کے بعد جو خوب صورت اشعار سے آراستہ ہے پورا ایک لکھنو نامہ ہے جس میں لکھنو کے بھانڈ ۔ لکھنو کے منفرد کھانے۔ لکھنو کے سیاسی رہنما اور لکھنو کے بکیت کے موضوعات پر مضامین شامل ہیں ۔ یہ مضامین لکھنو کے شاندار عہد رفتہ اور اس تہذیب کی یاد دلاتے ہیں جنہیں اب لوگ بھولتے جارہے ہیں۔ آنے والی نسلیں حیدر طباطبائی کی مرہون منت رہیں گی کہ انہوں نے اپنے زمانے میں لکھنو کی تہذیب کو جیسے دیکھا انہوں نے رقم کرکے اس عظیم شہر کی یادوں کو زندہ جاوید کردیاہے۔
ممکن ہے کہ آپ میں سے بہت سوں کو اس بات کا علم نہ ہوگا کہ حیدر طباطبائی حضرت موسی کے بعد ان معدودے چند شخصیتوں میں ہیں جنہیں خواجہ خضر علیہ السلام سے ملنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس ملاقات کا انکشاف انہوں نے اپنے مضمون ۔ موت اور حسن موت۔ میں کیا ہے۔
حیدر طباطبائی نے اس ملاقات کے بارے میں لکھا ہے ۔۔۔ ایک تیر نیم کش دل میں اس وقت لگا جب میری عمر کؤی چھ سات برس کی ہوگی۔ لکھنو میں ہمارے گھر کے رو برو نواب تجمل حسین خان کا امام باڑہ ہے۔ محرم کے دن تھے کہ ایک روز ایک مجلس پڑھنے ایک سن رسیدہ بزرگ تشریف لائے۔ ان کی صورت نورانی تھی۔ ریش سفید ۔ بڑی سی ہزار دانے کی تصبیح ہاتھ میں تھی۔ لکھنو کے لوگ اس حلیہ میں نہیں ہوتے تھے۔ اس لیئے مجھ کو اور ساتھ کے لڑکوں کو ہنسی کادورہ پڑا اور مجلس میں سر جھکائے ہنستے رہے۔ میرے قریب بیٹھے ہؤے ایک بزرگ نے کہا ہنسو مت یہ ذاکر نہیں بلکہ خواجہ خضر علیہ السلام ہیں ۔ میں سہم گیا اور یکایک سنجیدہ ہو گیا۔مجلس کے بعد طبق رواج ذاکر سے مصافحہ کرنے کے لیئے اہل مجلس بڑھے۔ سب سے آخر میں میری باری آئی تو مجھے دیکھ کر ان بزرگ نے فرمایا کہ برخوردار موت کو یاد رکھنا۔ اور میں لرز گیا۔ وہ بزرگ پھر کبھی دکھائی نہیںدیئے اور نہ میں نے کبھی ان کا ذکر سنا۔ لیکن جس کرخت آواز میں موصوف نے نصیحت کی تھی اس کا تیر نیم کش دل میں ہمیشہ خلش پیدا کرتا رہا اور یہ خلش ابھی تک ہے۔ وہ بزرگ ہو بہو سامنے آجاتے ہیں اور ان کی کرخت آواز ذہن کے گنبد میں گونجنے لگتی ہے۔ حیدر طباطبائی لکھتے ہیں کہ موت کیا ہے؟ یہ بھی کؤی یاد رکھنے کی چیز ہے۔ خوفناک اور بھیانک شے کو بھی کؤی شخص یاد رکھتا ہے۔ قافلہ رہزن کو یاد رکھیں تو کیوں؟ لیکن جب سے میں موت کے متعلق سوچتا رہا اور سوچ کا یہ سفر ابھی تک جاری ہے ۔ غور کریں تو موت زندگی سے زیادہ قابل غور اور یقینی چیز ہے۔

حیدر طباطبائی کی دوسری تصنیف ۔ آئین مے کشی ۔ کے بارے میں تفصیل سے ذکر اور مجھ سے زیادہ اچھی طرح دوسرے مقرر کریں گے البتہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ اس کے خم خانہ عجم میں ملک الشعرا بہار۔ میرزادہ عشقی ۔ ابوالقاسم لاہوتی ۔ ایرج مرزا اور پروین اعتصامی کے بارے میں جو مضامین ہیں ان سے فارسی ادب کے ان گوہر نایاب کے بارے میں گہرائی میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ فارسی کی جدید شاعری کے بارے میں گو منیب الرحمان نے بڑی اچھی کتاب لکھی ہے لیکن فارسی کے ان چنیدہ ممتاز شاعروں کے فن کے ساتھ ان کی شخصیت اور ان کی زندگی کے دلچسپ گوشوں کے بارے میں اب تک اس انداز سے اردو میں کہیں نہیں لکھ گیا جس طرح حیدر طباطبائی نے لکھا ہے۔
یہ بات قابل قدر ہے کہ ایک طویل عرصہ تک ایران میں قیام اور فارسی ادب پر وسیع عبور کی بدولت حیدر طباطبائی نے فارسی شناسی میں جو بے کراں تجربہ حاصل کیا ہے وہ انہوں نے اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اس سے اردو کو فیض پہنچایا ہے ۔ اور ہر شخص اس بات کا معترف ہے کہ ان کی زبان میں ۔فارسی ’ زعفران کی طرح مہکتی ہے اور جیسا کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے ۔ حیدر طباطبائی کی تحریر میں جو فارسی زبان اور ادب کا غازہ ہے وہ ان کو انفرادیت عطا کرتاہے۔جدید فارسی ادب ہو یا قدیم ۔ ان کی تحریربڑے دقیق انداز میں اس کا تقابلی مطالعہ پیش کرتی ہے
۔

اردو زبان کی بقا اور اس کی شایستگی اور اسکے تقدس کے تحفظ کے لیئے حیدر طباطبائی کا جو جہادی جذبہ ہے وہ بلا شبہ اردو زبان کے سچے عقیدت مندوں کے لیئے قابل قدر ہے۔ آج کل بے چاری اردونہایت خطرناک طوفانوں سے گذر رہی ہے اور اسے داخلی اور بیرونی دونوں حملوں کا سامنا ہے اس پر انگریزی کا اس بری طرح سے غازہ تھوپا جارہا ہے کہ اس کا چہرہ مسخ ہوتا جارہا اور جوکروں کی مانند مضحکہ خیز بنتا جارہا ہے۔ اس عمل میں اردو اخبارات اور ٹی وی چینل نہایت مجرمانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ اردو کے صحافیوں کی یا تو کاہلی ہے یا پھربے فیضی کہ وہ انگریزی سے ترجمہ کرنے اور نئی اصطلاحات وضع کر نے کا کشت اٹھانا نہیں چاہتے یوں وہ انگریزی کی آمیزش کر کے اردو کو مکدر کر رہے ہیں ۔ ویسے بھی بر صغیر میں ہر شخص اپنے آپ کو پڑھا لکھا ثابت کرنے اور بقراطیت جتانے کے لیئےگفتگو میں جا بجا انگریزی کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انگریزوں سے آزادی تو ہم نے حاصل کرلی ہے لیکن خود اپنے آپ اپنے اوپر مغربی ذہنی غلامی طاری کر لی ہے ۔۔ اس زمانہ میں جب ملک انگریزوں کا غلام تھا اردو زبان کی ایسی غلامانہ درگت نہیں بنی تھی۔
پھرکبھی اردو کو تنگیء داماں کا طعنہ دیا جاتا ہے اور کبھی اس کا اپنے خوب صورت رسم الخط کا لباس اتار کر اس پر رومن چولا لادنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ایسے پر آشوب دور میں تمام آلودگیوں سے پاک شستہ مہذب اور آبدار زبان لکھ کر حیدر طباطبائی اردو پر ایک زبردست احسان کر رہے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔