15.10.2026, 11:02am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا (72)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
04.10.2015, 12:00am , اتوار (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

پھر حضور (ص) نے حضرت عبداللہ (رض) بن جبیر کے زیرِ قیا دت پچا س آز مو دہ کار تیر اندا زو ں کا ایک دستہ تیا ر کیا اور ان کو ہدا یت کی وہ کسی حا لت میں یہ گھا ٹی نہ چھو ڑیں چا ہیں فتح ہو یا شکست۔ اور اپنا مو رچہ ایسی جگہ بنا ئیں کہ دشمن کسی سمت سے بھی ان تک آسا نی سے نہ پہنچ سکے تا کہ بر وقت ِ ضرورت تیر برسا کر دشمن کو رو ک سکیں،ورنہ وہ صرف جنگ کا نقشہ چو کسی کے ساتھ دیکھتے رہیں ۔اس کے بعد حضور (ص) نے اپنی تلوار میا ن سے نکا لی اور فرما یا کہ کو ئی ہے جو اس کا حق ادا کرے اور اس سے حا صل کر نے کے لیے کئی لو گ کھڑے ہو ئے ۔مگر حضو ر (ص) نے وہ تلوار کسی کو نہیں دی ،اس کے بعد حضرت ابو دجا نہ (رض)  کھڑے ہو ئے اور پو چھا کہ حضور (ص) اس کا حق کیا ہے ؟ تو فر ما یا کہ اس کا حق یہ ہے کہ جو اسے لے وہ اس طر ح دشمن کی صفو ں میں گھستا چلا جا ئے کہ جو سا منے آئے اسے قتل کر دے ،حتیٰ کہ یہ تلوا ر ٹیڑ ھی ہو جائے۔ لہذا انہو ں فر ما یا حضو ر (ص) یہ مجھے عنا یت فر ما دیجئے، انشاء اللہ میں اس کا حق ادا کرونگا ۔ اور جب حضور (ص) نے تلوا ر ان کو عنا یت فر ما دی تووہ اکڑتے ہو ئے اور رجز پڑھتے ہو ئے دشمن پر ٹوٹ پڑ ے۔ اس مر حلہ پر بعض صحا بہ کرا م نے ان کے رجز پڑھنے اور اکڑنے کی طرف حضو ر (ص) کی تو جہ مبذو ل کر ائی تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ یہ سچ ہے کہ اس طر ح فخر اور تکبر کر نا اور اترا نا اللہ تعا لی ٰ کو نا پسند ہے مگر مو قع کے لحاظ سے اس وقت اللہ تعالی ٰنے پسند فر ما یا ۔ابن ِ اسحاق (رح) نے یہ روایت بہت ہی تفصیل سے در ج کی ہے جو کہ بہ روایت مسلم ابی بکر اور عفا ن  (رض)کے حوالے سے پیش کر تے ہیں کہ ابو دجا نہ (رض) بہت بہا در شخص تھے ۔اور جو کو ئی ان کے سا منے آتا اسے للکا رتے اور دشمن کی صفو ں میں بہت آگے تک بڑھتے چلے گئے۔در اصل یہ انکا طر یقہ تھا کہ جب وہ لڑا کر تے تھے تو اپنے سرپر ایک لال رو ما ل با ندھ لیتے تھے، لہذاوہ دشمنو ں اور اپنوں میں دور سے پہچا نے جا تے تھے۔ انکی بہا دری اور شہرت کی وجہ سے ہر سو ر ما کی یہ خو اہش ہو تی تھی کے وہ انکا مقا بلہ کر ے۔ اور وہ نتیجہ کے طو ر پر اپنی جا ن کھو بیٹھتا تھا۔ اس کے بعد ایک دو سری روایت ابن ِ اسحاق (رح) نے ہی حضرت زبیر (رض) بن عوام سے بیا ن کی ہے کہ ایک شخص کفا ر میں ایسا تھا جو کسی کو خا طر میں نہیں لا تا تھا۔ جو اس کے سا منے آتا اس کو شہید کر کے آگے بڑ ھ جا تا ۔اتنے میں ،میں نے دیکھا کہ وہ دجا نہ  (رض)کے سا منے آر ہا ہے۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ یہ کسی طر ح دجا نہ کے سا منے آجا ئے اور خدا کا کر نا ایسا ہو ا کہ و ہ دجا نہ کے سا منے آگیا ۔اور اس نے بڑی چابک دستی سے دجا نہ (رض) پر حملہ دیا جس کو انہو ں نے جھکا ئی د ے کر وار خا لی دیا اور جیسے ہی پلٹ کر حملہ کیا تو اس کے ایک ہی وار میں دو ٹکڑے کر دیئے۔ پھر میں نے ان کو ایک اور سوار پر حملہ کرتے دیکھا مگر جیسے ہی ان کی تلوا ر اس کے سر پر پہو نچی انہو ں نے اپنا وار خود ہی رو ک لیا، اس کے بارے میں ابن ِاسحاق (رح) فر ما تے ہیں کہ جب کسی نے ان سے اس وا قعہ کے با رے میں پوچھا تو انہو ں نے فر ما یا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لو گو ں کو جنگ کے لیے اکسا رہا میں نے سو چا کہ اس کا کا م تما م کر دو ں۔ مگر جب میں نے تلوار کھینچی تو وہ بلبلا نے لگا در اصل وہ ہندہ تھی۔ جب میں نے اسے پہچا ن لیا تو میں نے حضور (ص) کی تلوار کو ایک عو رت کے خو ن سے آلو دہ کر نا منا سب نہ سمجھا اور میں نے اپنا وار رو ک لیا ۔حضرت دجا نہ (رض) نے نہ صرف اس غزوہ میں بلکہ متعدد جنگو ں میں اسی تلوارسے حصہ لیا اور ہمیشہ سر خرو رہے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر (رض) کے دور ِ خلا فت میں مسلمہ کذاب کے خلا ف لڑ تے ہو ئے درجہ شہا دت پا یا ۔                                       
حضرت حمزہ (رض) کی شہا دت: وہ بھی اسی طر ح جدال و قتا ل میں مصروف تھے اور ایک ایک کا صفا یا کر تے چلے جا رہے تھے یہا ں تک کہ کفا ر کے ایک انتہا ئی زور آور شخص ارطا ة بن عبد شر جیل کو بھی مو ت کے گھا ٹ اتار دیا۔ یہ بنی الدار میں سے تھااور غنیم کا پر چم بر دار تھا۔ پھر سبا ع بن عبد العزیٰ غبشانی کو قتل کیا اس کے بعد انہو ں نے سباع بن عز یٰ کو للکارا ،پھر ابن ِ اسحاق  (رح)آگے خود وحشی کی ز با نی بیان کرتے ہیں کہ اس نے بتا یا کہ ” جب میں نے دیکھا حضرت حمزہ (رض)  قریش کے بہا درو ں کو قتل کیئے جا رہے ہیں اور کسی سے نہیں رک رہے ہیں تو میں نے اپنا حربہ آز ما نے کا فیصلہ کر لیا مگر اتنے میں نے دیکھا سبا ع بن عز یٰ انکے سا منے آگیا جس کو انہو ں نے للکا را تھا ۔اسی دورا ن انہوں نے سبا ع پر وار بھی کر دیا جو کہ خطا گیا لہذا مجھے مو قعہ مل گیا اور عین اسی وقت میں نے اپنا حربہ پھینکا جو ان کی نا ف کو چیر تا ہو ا آر پار ہو گیا ۔وہ میری طرف تیزی سے بڑھے مگر نڈھال ہو چکے تھے لہذا زمین پر گر گئے۔میں نے اسی حالت میں انہیں چھو ڑ دیا حتیٰ کہ وہ شہید ہو گئے اور میں ایک طرف جا کر کھڑا ہو گیا ۔کیو نکہ میں اب آزاد ہو چکا تھا اور میرا دو نو ں فریقوں سے کو ئی واسطہ نہ تھا “۔ آگے ضمری (رض) ا بن ِ خیا ن کی زبا نی انہوں نے پو را وا قعہ بیا ن کیاہے کہ وہ عبید اللہ بن عدی کے ہمرا ہ ایک سفر پر نکلے یہ معاویہ  کا زما نہ تھا۔جب ہم حمص سے گذرے تو ہم نے سو چا کہ حبشی سے ملا جا ئے لہذا اس کا پتہ کرتے ہو ئے ہم اس تک پہنچ گئے ۔دیکھا تو وہ اپنے مکا ن کے سا منے کمان کی طر ح گڑی مڑی بیٹھاہے۔ وہ اس وقت انتہا ئی بو ڑھا ہو چکا تھا۔جب ہم نے اسے سلام کیا تو اس نے عبید اللہ (رض) بن عدی کو پہچا ن لیا اور پو چھا کیا تم عدی بن خیار کے بیٹے ہو اور جب انہو ں اثبا ت میں جواب دیا تو انہو ں نے بتا یا کہ میں نے تمہا رے پیروں سے پہچا نا جیسے ہی تم کھڑے ہو ئے ۔واللہ میں نے تمہیں اسوقت نہیں دیکھا تھا جب تمہا ری ما ں کو اٹھا کر گو د میں دیا تھا ۔ صرف تمہا رے پیر دیکھے تھے جو کپڑے سے باہر لٹک رہے تھے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی غر ض اور غا یت بیا ن کی کہ ہم آپ سے حضرت حمزہ (رض) کے قتل کا قصہ سننے آئے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ میں تمہیں اسی طر ح سناؤ نگا جس طر ح میں نے حضور کو سنا یا تھا۔ اس کے بعد کے واقعا ت سب وہی ہیں جو ہم پہلے بیا ن کر چکے ہیں۔ اضا فہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں پھر قریش کے سا تھ ہی مکہ واپس چلا گیا ۔ لیکن جب حضور (ص) نے مکہ کو بھی فتح کر لیاتو میرے لیے مکہ بھی غیر محفو ظ ہو گیا لہذا میں طا ئف چلا گیا ا ور وہا ں کچھ وقت تک ٹھہرا رہا، لیکن جب طا ئف وا لو ں کا وفد بھی مکہ حضو ر (ص) کی خد مت میں روانہ ہو نے لگا تو میں پر یشا ن ہو گیا ۔اس وقت میری سمجھ میں کچھ نہیں آر ہا تھا کہ میں کہا ں جا ؤں کبھی سو چتا شا م چلاجا ؤ ں کہ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ تیرا برا ہو واللہ! رسو ل (ص) اللہ ایسے کسی شخص کو قتل نہیں کرتے جو ان کا دین قبو ل کر لے لہذا جب مجھے یہ معلو م ہوا تو میں رسول (ص) اللہ کی خد مت میں حاضر ہو نے کے لیے مدینہ چلا گیا۔ اور سامنے پہنچتے ہی کلمہ شہا دت بہ آوا ز بلند پڑھنے لگا ۔حضو ر (ص)نے تعجب سے مجھے دیکھا اور پو چھاکہ تم حبشی ہو؟میں نے کہا جی ہا ں! یا رسو ل (ص) اللہ ! فر ما یا بیٹھ جا ؤاور مجھے سنا ؤکہ حمزہ (رض) کو تم نے کس طر ح شہید کیا۔لہذا میں نے ٹھیک قصہ اسی طر ح بیا ن کر دیا جس طر ح ابھی تمہا رے سا منے بیا ن کیا ہے۔یہ سن کر حضور (ص) نے فر ما یا ترجمہ: ”تیرا برا ہو اپنا چہرہ میرے سا منے سے ہٹا لے میں (ص) تیرا چہرہ پھر کبھی نہ دیکھو ں“ اس کے بعد حضور (ص)جہا ں بھی ہو تے میں اپنا چہرہ چھپا کر کھڑا ہو جا تا ،تا کہ آپ کی نظر نہ پڑے اور یہ سلسلہ حضور (ص) کے وصا ل تک جاری رہا ۔ اس کے بعد جب مسلما ن مسلمہ کذاب سے جنگ کے لیے روانہ ہو نے لگے تو میں بھی انکے سا تھ ہو لیا اور وہ حربہ جو میں نے حمزہ (رض) کو قتل کرتے ہو ئے استعما ل کیا تھا ،اپنے ساتھ لے لیا۔جب دو نو ں گروہو ں میں تصا دم ہو ا تو میں نے کسی سے پو چھا کہ مسلمہ کو نسا ہے ؟ تو اس نے بتا یا وہ سا منے کھڑا ہے ۔میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھ میں تلوار لیے کھڑا تھا ۔لہذا میں اسے قتل کر نے کے ارادے سے آگے بڑ ھا دوسری طرف سے ایک انصا ر بھی آگے بڑھے۔ اور انہو ں نے اس پر وار کر دیا درا یں اثنا میں بھی اپنا حربہ پھینک چکا تھا جو میں نے اسکو لگتے بھی دیکھا بہرحال وہ قتل ہو گیا۔ واللہ عا لم وہ میرے حربے سے مارا گیا یا انصا ر کے ہا تھو ں مارا گیا ۔ اگر وہ میرے حر بے سے مرا تو مجھے اس با ت کا فخر ہے کہ جہاں میں نے حا لت ِ کفر میں ایک بہترین آدمی قتل کیا تھا، وہیں میں نے حا لت ِ اسلام میں ایک بد ترین آدمی کو بھی قتل کیا۔لیکن ابن ِاسحاق (رح) ا یک اور روایت بیا ن کرتے ہو ئے جس کے راوی حضرت عبداللہ (رض) بن عمر ہیں کہ انہوں نے بیا ن کیاکہ ،  “اس جنگ کے مو قعہ پر انہو ں نے ایک شخص کو چیختے سنا کہ مسلمہ کذاب کو حبشی غلام نے قتل کردیاہے۔ باقی آئندہ  
                           






:دیگر مضامین
(27.09.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (71)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(19.09.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(70)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.09.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(69)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.09.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(68)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.08.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(67)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.08.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حرا سے(66)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(15.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(65)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(08.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(64)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(01.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔ ۔روشنی حراسے(63)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(28.07.2015) سیرتِ پاک حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(62)۔ از ۔۔ شمس جیلانی
(25.07.2015) جناب طاہر حسین سلطانی فرد نہیں اک انجمن ہیں۔۔۔ ڈاکٹرشمس جیلانی
(17.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(61)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(13.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(60)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(04.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(59)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(27.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔روشنی حراسے(58) از. شمس جیلانی
(21.06.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(57)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(13.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے56... از ۔۔۔ شمس جیلانی
(07.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔روشنی حراسے(55)۔ از.شمس جیلانی
(28.05.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حراسے(54) از ۔۔۔ شمس جیلانی
(22.05.2015) ولادت ِحضرت اما م حسین علیہ السلام ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں