علم نفسیات میں کردار کی پختگی اس کو کہتے ہیں جب کسی کی شخصیت کے بارے کوئی حتمی بات کہی جا سکے جیسے کوئی رحم دل ہے ، کوئی ہمیشہ وقت پر آتا ہے ، کوئی اپنا وعدہ نبھاہنے کے لیئے مانا جاتا ہے ۔ عموما عمر کے اٹھارہ سال تک پختگی آ جاتی ہے ۔ لیکن یہ بات انتہائی اہم ہے کہ جہاں پر چند خوبیاں یا برائیاں انسان کی پہچان بن جاتی ہیں ، انہیں میں سے کچھ خوبیاں اور برائیاں عارضی ہوتی ہیں اور حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ اسی لیئے ہمارے دین کا بنیادی مقصد ہی کردار سازی تھا جس کے لیئے انبیاء کرام آئے اور قران پاک نازل ہوا ۔
انسان کی خصوصیات دو طرح کی ہوتی ہیں ۔ ایک تو وہ اسے خدا پاک کی طرف ودعیت ہوتی ہیں جیسے رنگ ، نسل ، جسمانی ساخت اور زہنی صلاحتیں ۔ اور دوسری خصوصیات جو انسان اپنے اندر اپنی محنت اور ماحول کی وجہ سے حاصل کرتا ہے ۔ جس میں ان کے والدین ، دوست احباب ، اساتذہ اور سوسائیٹی کا اثر بہت ہوتا ہے ۔ اور ان ساری باتوں میں انسان کا اپنا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے کہ آیا ہم اچھے کردار کے انسان بننا چاہتے بھی ہیں کہ نہیں ۔ سو انسان کی زاتی خواہش یعنی لگن اور اس محنت ، صبر ، استقلال ، طرز فکر و عمل ، مشکلوں پر قابو پانے کی صلاحیت ، قناعت ، حوصلہ ، جرات ، بہادری ، معاملہ فہمی ، خوش اخلاقی ، اخلاص ، انصاف پسندی اسے اس کے حدف پر پہنچنے میں بہت مدد کرتی ہے ۔ وہی اس کا خوف ، غصہ ، تکبر ، جلد بازی ، نا عاقبت اندیشی ، جھوٹ ، غیبت ، منافقانہ رویہ اور اس کا لالچ اس کو اپنے حدف سے دور کر دیتا ہے ۔ لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ انسان خود کیا چاہتا ہے ۔ اگر وہ نیک طبعیت کا ہے تو یقیننا اپنے مزاج کے مطابق ہی اپنے حدف طے کرے گا اور پہنچنے کی مکمل کوشش کرے گا ۔ اگر وہ تخریباتی اور مجرمانہ زہنیت کا ہے تو وہ اسی کی طرف تگ و دو کرے گا ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اپنی منزل کاتعین کرنا اس کا مزاج اور کردار ہی طے کرتا ہے جس کی پرورش اس کے ماں باپ ، بہن بھائی ، خاندان والے ، اساتذہ ، دوست احباب ، ارد گرد کا ماحول ، میڈیا اور سوسائیٹی کرتی ہے ۔ ہمارے حدف اور ان تک پہنچنے کا رستے اور حدف پر پہنچ کر اپنے رتبے کا استعمال ہمارے کردار کا معیار طے کرتا ہے ۔ حد تک پہنچے کے لیئے اور حدف کو پالینے کے بعد بھی صرف معیاری اور مظبوط کردار ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں ۔ اور مثبت تبدیلی یعنی پرسکون معاشرے کی کردار سازی کے لئے مثبت طرز فکر ، قوت اردای ، خود اعتمادی ، احساس زمیداری اور انصاف پسندی انتہائی ضروری ہے ۔