پھر ایک برس ہے گذرا ، بدل گئی تقویم
کہ زندگی کا سفر کروٹیں بدلتا ہے
تو پھر جمود یہ کیسا شعور ہستی میں ؟
کہ سال نو بھی نئی زندگی کا مژدہ ہے
وہ زندگی جو بتان ہوس کو توڑتی ہے
وہ زندگی جو مشیئت کے راز کو جانے
وہ زندگی جو شریعت کو وقت سے پرکھے
یہ عہد نو ہے ، تمدن بدل چکے ہیں سبھی
مگر جو آج بھی رسم کہن کو پوجتے ہیں
انہی کی عقل نے بخشا ہے معاشرے کو جمود
لباس دین میں پائی قنوطیت نے نمود
یہ سال نو کہ ہے آغاز ہی محرم سے
غم حسین (ع) کو اشک و عزا کی رسم ملی
مگر پیام صداقت کو ہم نے کیا جانا ؟
وہ کربلا تو بہت انقلاب پرور تھی
جو حر (ع) کو عاشق صادق بنا گئی ایسا
کہ حشر تک اسے حریت کا استعارہ دیا ۔
ہمارے فکر و عمل میں نہیں ہے حر کی جھلک
مگر زبان سے دعوی کہ ہم حسینی ہیں
جمود فکر ہے ، تقلید ریاکار فقیہ
نشان سجدہ جبینوں پہ جو سجاتے ہیں
مگر بتوں کو وہ زیر قبا چھپاتے ہیں
بت ہوس نے ہلاکت میں ڈال رکھا ہے
" لباس دین میں پائی قنوطیت نے نمود "
حدیثیں گھڑ کے مناتے ہیں جشن ماہ عزا
غم حسیں (ع) کی تجارت عروج پر پہنچی
فقیہ نے جبہ غفلت کو اوڑھ رکھا ہے
عیاش ذاکروں نے دین سے کیا یہ مذاق
کہ ختم کی ہے حلال و حرام کی تفریق
نہ احترام شریعت ، نہ ہی شعور اس کا
فقیہہ نے بھی تو شریعت کا ایسا حال کیا
فقہ کے نام پر سوچوں کو کر دیا محدود
سوال کرنے پہ قدغن لگاۓ رکھی ہے
بہت سے باب ہیں انسانیت سے کوسوں دور
فقہ کے نام پر جو شامل نصاب کیۓ
نہ جانے کیوں انہیں اتنا سمجھ نہیں آتا
" کہ زندگی کا سفر کروٹیں بدلتا ہے
تو پھر جمود یہ کیسا شعور ہستی میں ؟
وہ زندگی جو بتان ہوس کو توڑتی ہے
وہ زندگی جو مشیئت کے راز کو جانے
وہ زندگی جو شریعت کو وقت سے پرکھے "
اے کاش سارے فقیہوں کو آۓ ایسا خیال
کہ ان کی فکر ہے جامد اسے روان کریں
قرآن حکم جو دے ، اس حکم تک رہیں محدود
وگرنہ زندگی اک بوجھ بنتی جاۓ گی
یہ بوجھ نسلوں سے ہم سہہ رہے ہیں کیوں خاموش ؟
کہ بے مشاہدہ تقلید ہے ریاکاری
خدا را اشک عزا کی اساس کو سمجھو
وگرنہ رسم عزا بے ثمر عبادت ہے
پھر ایک برس ہے گذرا بدل گئی تقویم
یہ سال نو ہے ، بچھا ۓ گۓ ہیں فرش عزا
یہ فرش ماتم نئی زندگی کا مژدہ بنیں