واقعہ کربلا
گزرہ جو کَربلا میں شہیدوں پہ سانحہ
ہے حادثوں میں سب سے المناک حادثہ
ہے حادثہ جو خون ِ شہیداں سے تَر بتَر
ساری صداقتوں سے نہیں کچھ عظیم تَر
حق کے وہراہ رو وہ صداقت کے آشنا
باطل کو کیسے کہتے کہ باطل ہے حق نما
انسانیت کے آپ نے توڑے نہیں اصول
اِس معرکے میں جان بھی دینا کیا قبول
کیا کیا نہ ظُلم آپ نے کفار کے سہے
پیاسے رہے اور زخموں سے بے حال بھی رہے
تلوار نے حُسین کی جب جب چمک دکھائی
میدان میں عدو کے لہو کی ندی بہائی
شیر خدا کے لخت جگر نور عین نے
دشمن کی صفیں کاٹ کے رکھ دیں حُسین نے
تنہا تھے وہ تو دوسری جانب ہزار تھے
آل رسول تیر ستم کے شکار تھے
ابن ِ علی کا شمر ؔ نے سَر کر دیا قلم
تاریخ میں یہ باب شجاعت ہوا رقم
یہ کربلا کا سانحہ دیتا ہے یہ پیام
مَت خوف کھاؤ ظُلم سے جَم کر لڑو مدام