لندن میں جناب عشرت حسین کی قیام گاہ پر سالانہ مجلس عزا کا انعقاد ہوا جس سے مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے خطاب کیا ور عزاداری کے عنوان سے مرثیہ نو تصنیف پیش کیا

اس سے قبل معروف سوز خوان سہیل چوہان اور انکے ساتھیوں نے سوزوسلام پیش کیا
اپنے خطاب میں جناب صفدر ھمدانی نے کہا کہ مجالس عزا کا بنیادی مقصد پیغام کربلا کو اسکی روح کے ساتھ سامعین خاص طور پر نئی نسل تک پہنچانا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ فکری شعوری بیداری پیدا کرنا ہے اور یہ دونوں عناصر خطابت اور ذاکری میں بزنس کا نظریہ در انے کی وجہ سے پس پشت چلے گئے ہیں۔ ہمارا منبر کو علم کے فروغ کا مرکز تھا سطحی ذکر اذکار اورمعجزات کے بیان تک محدود ہو گیا ہے جس کے باعث مجلس عزا میں آنے والا یہاں سے کوئی توشہ علم حاصل نہیں کر رہا
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بنیادی ذمیداری عزا خانوں کے منتظمین اور خود سامعین کی ہے کہ وہ منبر کے تقدس کو برقرار رکحنے کے لیئے اپنی زمیداری پوری کریں
خطاب کے بعد انہوں نے اپنے نوتصنیف مرثیے ۔۔۔ عزاداری۔۔۔۔ سے منتخب بند پیش کیئے جسکے بعد ماتم مظلوم کربلا ہوا اور اختتام پر نیاز امام حسین علیہ السلام پیش کی گئی
مرثیے سے قبل جناب صفدر ھمدانی تازہ ترین سلام پیش کیا
آنکھوں میں آنسوؤں کی روانی حسین سے
کرتی ہے عشق تشنہ دہانی حسین سے
اس دین کی جوانی میں خوں ہے حسین کا
قائم ہر اک جواں کی جوانی حسین سے
بس اک علم سجانے پہ انعام یہ ملا
دارالبقا یہ گھر ہوا فانی حسین سے
اس در پہ ختم سر کو کٹانے کا سلسلہ
بیعت ہیں سارے درد کے بانی حسین سے
بس ان سے ہی طلب کرؤ خیرات صبر کی
پانی میں آگ سیکھو لگانی حسین سے
اصغر نے مسکرا کے لیا تیر حلق پر
شرمندہ اب تا حشر ہے پانی حسین سے
روتا ہوا قلم میری میراث بن گیا
صفدر ملی یہ مجھکو نشانی حسین سے