ایک خط
لیکن
اتنے ہی فاصلے ہیں
اتنے ہی پت جھڑ ہیں
اور پتّے ہیں
اور برکھا میرے چاروں اور برس رہی ہے
تم آو تو میرے خواب لیتی آنا
جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے
اور میری آنکھیں بھی کہیں تمہارے بکس میں ہونگی
اور ہاں
ہاتھ بھی
میرے بوسے بھی
جو تم کہیں رکھ کر بھول گئی تھیں
جب سرما کی دھوپ
حد نظر تک پھیلی السی کی گہری گلابیوں پر مہکی تھی
اور ڈھلتی دوپہر میں
یوکلپٹس تلے بچھی سفید کرسیوں کے
ساے گہرے ہو گئے تھے
ان لمحوں کی باتیں لیتی آنا۔
( اقبال فہیم جوزی )