تاریخ 30 / اکتوبر سن 1960ء کو پاکستان کے نامور مزاحیہ اداکار ظریف لاہور میں انتقال کرگئے۔
ظریف کا اصل نام محمد صدیق تھا۔ وہ یکم جون 1926ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پہلی فلم ’’دل دیاں لگیاں‘‘ قیام پاکستان سے پہلے ریلیز ہوئی
تھی۔ پاکستان بننے کے بعد ریلیز ہونے والی ان کی پہلی فلم دو کنارے تھی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 56فلموں میں کام کیا جن میں نتھ، جھیل کنارے، جلن، پاٹے خان، یکے والی، انار کلی، گلنار، پینگاں، کچیاں کلیاں، چھومنتر، مس 56، رانی خان، سوہنی کمہارن، چھوٹی بیگم، ٹھنڈی سڑک، بہروپیا اور کرتار سنگھ کے نام سر فہرست ہیں۔
انہوں نے کئی فلموں میں گلوکاری بھی کی خصوصاً فلم چھومنتر میں ان کا گایا ہوا نغمہ ’’برے نصیب مرے…‘‘ بے حد مقبول ہوا۔
ظریف لاہور میں قبرستان بی بی پاک دامناں میں آسودۂ خاک ہیں۔مشہور اداکار منور ظریف ان کے چھوٹے بھائی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلدار پرویز بھٹی کی وفات
تاریخ 30 / اکتوبرسن 1994ء کو ٹیلی وژن کے مقبول کمپیئر، ڈرامہ آرٹسٹ، کالم نگار اور انگریزی زبان و ادب کے استاد دلدار پرویز بھٹی دماغ کی شریان پھٹ جانے کی وجہ سے امریکا میں وفات پاگئے۔
دلدار پرویز بھٹی 30 / نومبر 1946ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ گوجرانوالہ منتقل ہوگئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کیا اور پھر ایم اے او کالج لاہور میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ 1974ء میں انہوں نے لاہور ٹیلی وژن سے کمپیئرنگ کا آغاز کیا اور ٹاکرا اور پنجند جیسے مقبول پروگراموں کی میزبانی کی۔
انہوں نے کچھ عرصہ اخبارات میں کالم نگاری بھی کی۔ ان کے شگفتہ کالموں کا مجموعہ ’’آمنا سامنا‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔
دلدار پرویز بھٹی لاہور میں وحدت کالونی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔