ایک دور تھا کہ سورماؤں اور جنگجو ؤں کو پسند کیا جاتا تھا؟ کیوں؟ اس لیے کہ جب کوئی قوم کسی دوسری قوم پر چڑھائی کر کے قابض ہو جاتی ، تویو ں سمجھ لیں کہ اسکی لاٹری نکل آتی ، فاتح قوم مفتوح قوم کے تمام وسائل پر قابض ہو جاتی اوراس کا فائدہ فاتح قوم کے ہر بچے کو پہونچتا تھا۔ یہ صورت حال اس وقت تک رہی جب تک کہ اسلام نہیں آیا، اسلام نے آکر تمام قدریں تبدیل کردیں ۔ جس نے اس عقیدہ کواپنایا وہ جو کل دشمن تھا آج دوست بن گیا اسے بھی بلا امتیاز رنگ و نسل وہ تمام حقوق حاصل ہو گئے، جو بقیہ مسلمانوں کو حاصل تھے۔ قرآن نے تین نسخہ ِکیمیا بتائے کہ جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی؟ یوں تو پورا قر آن ہی اس قسم کے نسخوں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر ہم صرف تین پر ہی آج بات کریں گے۔ وہ ہیں یہ کہ “ محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں، معاف کرو تاکہ معاف کیے جاؤ اور تیسرا یہ ہے کہ ہر برائی کا بدلہ اچھا ئی سے دو تم دیکھو گے کہ تمہارا بدترین دشمن بھی دوست بن جا ئے گا ً جبکہ تیسرے نسخے کے ساتھ یہ ہدایت بھی فرما دی کہ یہ بڑے حوصلے کا کام ہے اور یہ بہت بڑے ظرف والے کرتے ہیں “ اس کو سب سے پہلے داعیِ اسلام حضرت محمد (ص) مصطفی احمد مجتبیٰ نے اپنے اوپر نافذ کرکے دکھایا،چونکہ ان کے اتباع کاحکم اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بعد قرآن کی پہلی ترجیح ہے، ان کے صحابہ کرام (رض) نے بھی اسی کو اپنا یا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو دشمن تھا جانثار بن گیا۔ جس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں ۔ پھرانہوں (ص) نے بشمول صحابہ کرام (رض) تمام مسلمانوں کو بجائے دارالحکومت میں بیٹھ کر حکومت کرنے کہ دنیا میں پھیل جانے کاحکم دیا، جس کے نتیجہ میں اسلام بہت تیزی سے پھیلنا شروع ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے جوکہ اپنے کردار کی بنا پر کروڑوں لوگوں کے دلوں پر آج تک راج کر رہے ہیں۔ ان کی تعلیمات کے نتیجہ میں جو مسلم حکومتیں آئیں وہ جلد ہی چلی گئیں کیونکہ وہ اپنے اندر وہ خواص قائم نہیں رکھ سکے جو حضور (ص) اور ان کے پیرؤں کا جوہر تھا۔ جبکہ ان کی بادشاہت جو زمین میں نہیں دلوں میں تھی وہ آج بھی قائم ہے اور انشا ءاللہ قیامت تک قائم رہے گی۔
جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ بادشاہوں کی وہ ترجیحات نہ تھیں جو کہ قرآن حکمرانوں میں دیکھنا چاہتا تھا۔ پہلے مسلمانوں کی ترجیح یہ تھی کہ اپنے اخلاق سے لوگوں کو متاثر کرو، پھر انہیں مسلمان بنا کر اپنا جیسا بناؤ؟ اس طرح شمع سے شمع روشن کرو ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دیکھتے دیکھتے نصف سے زیادہ دنیا ان سے روشن ہو گئی ، کوئی دین اتنی تیزی سے نہیں پھیلا جتنا کہ اسلام؟ بعد میں زیادہ تر حکمراں وہ آئے جو بظاہر تو مسلمان کہلاتے تھے مگر ترجیحات بدلی ہوئی تھیں ۔ انہیں مسلمان نہیں جزیہ چاہیے تھا۔ ایک افسر نے ایسے ہی ایک حکمراں کو رپورٹ کی کہ مالیہ گھٹتا جارہا ہے چونکہ لوگ بہت تیزی سے مسلمان ہو رہے ہیں۔اسے حکم دیاگیا کہ جو مسلمان ہو جائے اس سے بھی جزیہ وصول کرو؟ اس قسم اقدام سے لوگوں میں بد دلی پیدا ہوئی کہ اگر وہ مسلمان ہونے کے بعد بھی بھائی نہیں بن سکتے ہیں۔ تو پھر انہیں کیا ضرورت ہےکہ وہ اسلام قبول کریں؟
آج بھی دبی ہوئی راکھ میں سے کہیں کہیں ایسی چنگاری نظر آتی ہے، جیسے قرون ِ اولیٰ میں تھی اور اپنے کردار سے لوگوں کے دل موہ لیتی ہے۔ آج سے چند دہائی پہلے ایک شخص نے کچھ کرنے کی ٹھانی جن کانام اب پوری دنیا میں بہت ہی احترام سے لیا جاتا ہے ؟ ابتدا انہوں نے پاکستان سے کی ، لیکن حکومت کی طرف نہیں دیکھا صرف عوام کی طرف دیکھا ؟ ان کی ایک ہی خوبی تھی کہ وہ مخلص تھے ۔اس کی بنیاد انہوں نے اپنے ذاتی وسائل سے شروع کردی جو نہ ہونے کے برابر تھی ۔ جنہوں نے ان کا ابتدائی دور دیکھا ہے وہ گواہ ہیں کہ پہلے انہوں نے لاوارث میتوں کے دفنا نے کا کام شروع کیا ۔ وہ اس میت کو بھی اپنے ہاتھ سے غسل دیتے جس سے اٹھتے تعفن کی بناپر کوئی قریب جانے کو تیار نہیں ہو تا تھا۔ اس میں ان کی واحد معاون ان کی بیگم صاحبہ تھیں۔ یہ تھےجناب عبد الستار ایدھی اور محترمہ بلقیس ایدھی صاحبہ جو آج دنیا میں ایدھی فا ؤنڈیشن کے بانی اورکرتا دھرتا ہو نے کی بنا پر پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں ۔ جبکہ ان کی تاریخ یہ ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف مدد کے لیئے نظر اٹھاکر بھی نہیں دیکھا ۔ان کا نعرہ بھی عجیب تھا کہ لوگوں سے بھی عطیات اوروں کی طرح چاپلوسی کر کے نہیں لیتے تھے،بلکہ رویہ بھی عجیب تھا کہ مجھے دینا ہے تو مجھ سے حساب مت مانگو؟ مگر لوگوں نے جب کام دیکھا تو اس انوکھی شرط کے باوجود بے حساب دینا شروع کردیا۔ کیونکہ لوگوں کو فائیدہ پہونچ رہا تھا اور ان کا کام خود منہ سے بول رہا تھا۔ جبکہ اس وقت سے لیکر آج تک ان کے اپنے رہن سہن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ وہی موٹا جھوٹا پہننا اسی جگہ رہنا جہاں وہ رہ رہے تھے۔ جبکہ آج صورت حال یہ ہے کہ ہر جگہ ان کا عملہ خدمت کو تیار موجود ملے گا ؟ چاہے سیلاب آئے چاہے طوفان آئے کوئی بھی کسی قسم کی پریشانی کسی کو لاحق ہو وہ انہیں کی طرف دیکھتا ہے۔ انکےایمبولینس کے فلیٹ کے فلیٹ پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ جو چیز حکومت کے پاس بھی کمیاب ہے ان کے پاس موجود ہے یعنی فضائی ایمولینس سروس ؟ اب عالم یہ ہے کہ ہر ضرورت مند ہر تکلیف کا مداوا ان کے پاس ڈھونڈتاہے اور وہاں سے مایوس واپس نہیں آتا۔ اگربوڑھے والدین کا مسئلہ ہو تا ہے سعادتمند فرزند بلا تکلف ان کے پاس چھوڑ آتے ہیں۔ اگر میت کو کسی وجہ سے سرد خانے میں رکھنا ہوا توانہیں اطلاع دیدیتے ہیں اور وہ لے جاتے ہیں اپنے پاس رکھتے ہیں پھر وہاں سے میت کو تیار کرکے ان کے دولت کدے پر بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ اور دوسرے عزیزو اقارب دیدار فرمالیں؟ اور پھر وہیں سے میت قبر ستان چلی جاتی ہے جہاں پہلے ہی سے ان کی طرف سے قبر تیار ہوتی ہے۔ اگر بچے اپنی ذاتی زندگی میں پرانے زمانے کے ماں باپ سے عاجز آجاتے ہیں تو وہ انہیں بھی انہیں کے سپرد کر آتے ہیں ۔ کیونکہ ایدھی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے امریکہ کے سابق صدر کنیڈی کا شاید یہ قول پڑھا ہوا ہے کہ “ یہ مت پوچھو کہ ملک کو تمہاری کہاں ضرورت ہے بلکہ یہ دیکھو کہ تم ملک کے کہاں کام آسکتے ہو “ جبکہ انکو معلوم ہے کہ قدم قدم پر مفاد پرستوں سے مقابلہ ہے جو یہ نہیں چاہتے کہ ایسے لوگ وہاں موجود رہیں جو ان کے کاروبار میں حائل ہوں ، پہلے ان کی ایمبولینس تک جلائی جاتی رہں بجائے تحسین کے دھمکیاں ملتی رہیں مگر انہوں نے تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھا؟
میں نے آج ان پر قلم اس لیے اٹھایا کہ حال میں انہوں نے اور ان کی بیگم صاحبہ نے وہ کارنامہ انجام دیا۔ جو کوئی پاکستانی ستر سال میں نہیں دے سکا جس میں اسلام کے وہی مندرجہ بالا اصول کارفرماں ہیں ؟بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ایک چھوٹے سی بچی جو کہ گونگی تھی اس کو کسی نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر گھومتے دیکھا تو اس کو وہ ایدھی فاؤنڈیشن کے لاہور کے دفتر میں پہونچا آیا ۔ یہ عجیب بات ہے کہ اللہ اگر کسی گویائی نہ عطا کرے تو وہ سن بھی نہیں سکتا ہے۔ مگر اس بچی کی شاید سماعت درست تھی جو اسکی کہانی کے اگلے حصے سے ظاہر ہوتا ؟( ہم کتنے ناشکرے ہیں کہ اس کی تمام عطا کردہ نعمتوں سے فیض یاب توہوتے ہیں مگر شکر ادا نہیں کرتے۔ اگر ان میں سے وہ ایک بھی ہم سے چھین لے تو تمام دنیاملکر اس کا متبادل فراہم نہیں کرسکتی)وہ بچی وہاں سے ان کی بیوی کی نگرانی میں پرورش پانے کے لیے کراچی آگئی ، پہلے انہوں نے اسے مسلمان سمجھا اور اسکو فاطمہ جیسا خوبصورت نام عطا کیا۔ مگر وہ رونے لگ گئی اور آسمان کی طرف اشارے کرنے لگی تو انہیں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ مسلمان نہیں ہے ۔جب انہوں نے اس کانام گیتا رکھا تو وہ مطمعن ہوگئی۔ وہ اس کی سالوں پرورش کرتی رہیں ۔ آخر وہ وقت آگیا جبکہ بطور بھارتی اسے شناخت کرلیا گیا ۔ اور وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونے ہندوستان اسے پہونچانے تشریف لے گئیں۔ وہاں ان کا وہاں کے صدر، پردھان منتری، وزیر خارجہ اور عوام سب نے ذاتی طور پر ایک بار نہیں، بار بارشکریہ ادا کیا۔ یہ ہے ان تین اسلامی اصولوں کا منہ بولتا ثبوت؟ اگر ایک میاں بیوی نے اس کو اپنا کر اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا تو اسی پر قیاس کیجئے کہ ہم سب اگر ایسے ہو جائیں تو کیا ہوگا، یہ سوال میں آپ کے سوچنے لیے چھوڑتا ہوں ؟ اس سے پہلے میں اپنے ایک کالم میں اس پر لکھ چکا ہوں ، کہ ایک صاب نے منہ کالا کرانا پسند کیا، مگر اپنے پاکستانی مہمان کومایوس نہیں کیا۔ اب وہ میزبان بن کر دو نومبر کواسی مہمان کی دعوت پر پاکستان آرہے ہیں! اب ہماری باری ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔ یہ تو آپ سب نے پڑھا ہو گا کہ بہت سے لوگوں نے وہاں نفرت کی مذمت کی ہے اوراپنے خطابات واپس کردیے ہیں کیا ہمارے بھی ایسے دانشور ہیں جو امن پسند ہوں یہ وقت ہے کہ وہ سامنے آئیں؟۔ کیونکہ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا امن چاپتی ہے، جنگ نہیں ۔