
عالمی اخبار صرف ایک اخبار نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک فکری درسگاہ ، ایک صحافت کی یونیورسٹی اور ایک تہذیب کا ادارہ ہے کہ جہاں کام کرنے والے تمام لوگ کسی مالی منفعت کے بغیر اس اخبار کو سات برس سے کسی اشتہار کے بغیر چلا رہے ہیں اور اکثر لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ اتنے برس سے بغیر کسی کمائی کے آخر یہ اخبار کس طرح دن میں تین سے چار بار شائع ہوتا ہے کہ جسکے پڑھنے والے آسٹریلیا سے امریکہ کے آخری کونے تک موجود ہیں ۔ سچ پوچھیں تو اسی کا نام ٹیم ورک ہے جس نے ہم سب کو استقامت کی دولت عطا کی ہوئی ہے
میری اپنی قلمی رفاقت عالمی آخبار کے ساتھ صرف چند سالوں پرمحیط ھے اور یہ میرے لیے یہ عظیم فکری درس گاہ بھی ھے کہ جس نے مجھے جہاں علم سے محبت سکھائی وہاں صحافت اور صحافت کے بنیادی اصولوں سے بھی آگہی دلائی۔ مجھے اس اعتراف میں خوشی ہے کہ یہاں آکر میں نے لکھا کم ھے مگر سیکھا بہت زیادہ ہے اور وہ سب کچھ سیکھا ہے جس نے مجھے مشکل حالات میں بھی ہنس کر زندگی گزارنے کے فن میں مدد دی ہے
قلم دوست بہت محترم ادبی خانوادے سے تعلق رکھنے والے محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب نے سات سال قبل اس آخبار کی بنیاد رکھی اور ایسے مشکل اور نامساعد حالات میں ابتدا کی کہ اب بھی ان دنوں کا ذکر کرتے ہیں تو مغموم ہو جاتے ہیں
عالمی اخبار سے قبل وہ اسلام آباد کے القمر نامی آن لائن اخبار کے مدیر اعلیٰ تھے اور موجودہ ٹیم کے کئی لوگ اس اخبار میں بھی انکے ساتھ تھے۔ لیکن اسلام آباد میں مقیم تکنیکی انچارج اور مدیر نے مالی دھوکہ کر کے صفدر ھمدانی اور انکے ساتھیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور پھر اسی جماعت نے دیوانوں کی طرح رات دن کام کر کے عالمی اخبار کو منظر عام پر لایا۔ صفدر ھمدانی کی سربراہی میں ڈاکٹر نگہت نسیم اور شمس جیلانی کے علاوہ اسوقت آصف جیلانی بھی شامل تھے
محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کو صدا کاری کی طرح علمی وادبی صحبتوں اھل قلم و اھل علم سے سخن کاری و سخن وری آبائی رکھ رکھاو بہترین آخلاق و مزاج کی سادگی خوش حالی و خوش فکری وضع داری در آل سے قلب و نظر و فکرکی گہری وابستگی خاندانی روایت و ورثہ بھی علمی ثروت کا بیش بہا خزانہ عطیہ پروردگار کی شکل میں ملا
جناب صفدر ھمدانی صاحب نام نمود و شہرت سے بے نیاز اخباری دینا کی چپقلش اور روایتی لسانی معرکے سے دور حسن نیت و درد مندی سے اپنے صحافتی مشن کی تکمیل میں لگے رھتے ھیں اور آپ نے جس جانفشانی سے آن لائن عالمی آخبار کی تزيئن و آرائش کی اور اس کوبڑی سچائی سے اوج کمال تک پہنچایا اسی کی وجہ سے آل لائن اخبارات میں اسے اب ایک مستند نام ملا ہوا ہے
عالمی آخبار میں ادبی دینا کا بہت معتبر نام بھی شامل ھے وہ ھیں ڈاکٹر نگہت نسیم جو سڈنی میں آباد ھیں اور یورپ میں اردو زبان کی بقاء کے لیے بڑی جدوجہد کررھی ھیں ۔عالمی آخبار کی اشاعت میں سیاسی سماجی ادبی مذھبی مبصرین کا قلمی تعاون بھی شامل ھے
کہتے ھیں کہ وسيع مطالعہ مشاھدہ و دور بینی و واقعہ نگاری خبر کے عناصر تر کیبی ھیں جو صحافی کو اپنی بصارت و سماعت کے کمال کو خبری پیکر میں ڈھالنا ھوتا ھے
عالمی اخبار کی ساری ٹیم کے بارے میں لکھںے کے لیئے ایک دفتر درکار ہے لیکن میرا فلسفہ یہ ہے کہ چاول کی دیگ کا ایک دانہ ہی دیگ کی خبر دے دیتا ہے اور میرے لیئے صفدر ھمدانی دیگ کا وہی دانہ ہیں۔