15.10.2026, 04:08pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ روشنی حراسے(77)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
08.11.2015, 12:45am , اتوار (GMT+1)

 ہم گذ شتہ قسط میں سن تین ہجری تک کے واقعات الحمد اللہ قلم بند کر چکے ہیں اور بفضلِ تعا لیٰ غزوہ احد ختم کر لیا اب سن چا ر ہجری کے وا قعا ت کی طرف بڑھتے ہیں۔ چوتھے سا ل ما ہ ِ محرم میں حضو ر( ص) نے ابی سلمہ (رض) بن عبد الا ا سد اسدی کو بنی اسد کی مہم پر روا نہ ہو نے کا حکم دیا ۔اس کے با وجو د کہ غزوہ ا حد کے بعد وہ اپنے علا ج معا لجے میں مصروف تھے لیکن وہ یہ نہیں چا ہتے تھے کہ یہ عذر حضور (ص) کے سا منے پیش کر کے اس سعا دت سے محروم رہ جا ئیں۔ لہذا وہ ہنسی خو شی تعمیل ارشاد میں روانہ ہونے کے لیے حاضر ہو گئے حضور (ص) نے ان کو عَلم عطا فر ما یا اور یہ ہدا یت بھی فر ما ئی کہ اگر یہ قبیلہ سر کشی چھوڑ کر اسلام قبو ل کر لے تو بہتر ہے ۔اور اگر نہیں کرے تو تمہیں اختیار ہے کہ تم ان سے جنگ کرو اور اس صورت میں اگر اللہ فتح دے تو ان کے مال کو ما ِل غنیمت سمجھاجائے۔اس ہدایت کی ضرورت یو ں پیش آئی کہ حضو ر (ص) نے مدینہ کو محفو ظ کر نے کے لیے اطراف کے تما م قبا ئل سے معا ہدے کر لیے تھے لہذا جن قبا ئل نے غزوہ احد کے مو قعہ پر کفار سے سا ز باز کی یا سر کشی پر آما دہ ہو ئے ان سے موا خذہ بھی ضرو ری تھا۔یہ قبیلہ ان میں شامل تھااورابھی تک سر کشی پر آما دہ بھی ۔انہیں میں سے ایک شخص نے آکر اطلا ع دی کہ وہ شرا رت پر آما دہ ہیں اور خویلد کے دونو ں بیٹوں طلیحہ اسدی اور سلمہ اسدی نے لو گو ں کو حضور (ص) کے خلا ف بغاوت پر آمادہ اور جمع کرلیا ہے۔ مگر جیسے ہی ان لو گوں کو اس لشکر کی آمد کی خبر ملی وہ اپنے گھر بار اور سا ما ن چھو ڑ کر فرار ہو گئے۔ تا ریخ میں ہے کہ یہ لشکر ڈیرھ سو مجا ہدین پر مشتمل تھا یہاں کسی جنگ کی نو بت نہیں آ ئی لیکن حضرت ابو سلمہ (رض)  کے سا تھیو ں نے بھاگتے ہو ئے ان کے تین سرداروں کوگرفتا ر کر لیا۔ پھرحضور (ص) کے سا منے ما ل غنیمت کے سا تھ انکو پیش کیا۔ مال ِغنیمت مجا ہدین میں خمس نکا ل کر تقسیم کر دیا گیا۔ اور جس شخص نے اطلا ع دی تھی اس کو دوہرا حصہ دیا گیا۔لیکن اس مہم سے جب (رض) ابو سلمہ واپس پہو نچے تو زیا دہ دن تک حیا ت نہ رہ سکے، کیو نکہ و ہا ں دس روز ہ قیا م کے دوران ان کے ز خم پھر سے کھل گئے اور اور وہ اپنے خا لقِ حقیقی سے جمادی الاول میں جا ملے ۔ حضور (ص) نے ان پر یہ خصو صی انعام فر ما یا کہ ان کی بیو ہ سے عدت ختم ہو نے کے بعد عقد ةا لنکا ح فر ما لیا جو کہ بعد میں ام المو منین حضر ت ام ِسلمہ (رض) کہلا ئیں ۔ جب وہ حضور (ص) کی زو جیت میں آئیں اس وقت ان کی عمر انسٹھ سا ل تھی۔                                    
واقعہ رجیع :
در ا صل رجیع مدینہ سے آٹھ میل کے فا صلے پرایک مقا م کا نا م ہے جو کہ اسو قت قبیلہ بذیل کا چشمہ تھا اور انکے قبضے میں تھا ۔ اس کو ابن ِ ہشا م (رح) نے زیا د بن عبد اللہ بکا ئی اور انہو ں نے عا صم بن عمرو بن قتا دہ کے حوا لے سے تحریر کیا ہے کہ غزوہ احد کے بعد ایک وفد قبیلہ عضل اور قا رہ کا آیا اور اس نے در خواست کی کہ یا رسول  (ص)اللہ ہم لو گو ں میں اسلام تو پہنچ چکا ہے مگر ہم میں پو ری طر ح اسلا می تعلیمات نہیں پہو نچی ہیں لہذا ہم چاہتے ہیں کہ آپ کچھ لو گ ہما رے سا تھ کر دیں تا کہ سارے لو گ اسلا می تعلیمات سے بہرہ ور ہو سکیں۔ لہذا حضور (ص) نے اپنے چھ رفقا جن کا امیر حضرت مرثد (رض) بن ابو مر ثد اسدی کومقرر فرما یا با قی پا نچ اصحا ب جنکے نا م درجہ ذیل ہیں کو انکے ہمرا ہ روا نہ کر دیا ۔ لیکن انہوں نے پہلے ہی بنو ہذیل سے سا زباز سے کی ہو ئی تھی۔اس کی وجہ کیا تھی اس پر مورخین خا مو ش ہیں لیکن قیا س اور کردارسے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ شا ید اس وقت قبیلہ کا پیشہ برد ہ فرو شی تھا ۔ واللہ عا لم۔بہر حال جب یہ لو گ رجیع کے چشمے پر پہو نچے تو انہو ں نے ہذلیو ں کو مدد کے لیے آوا زیں دینا شرو ع کر دیں۔ اس سے پہلے کہ ان کو کوئی مد د پہنچے کو مجا ہد ین میں سے تین حضرات جن کے نا م تھے مر ثد بن ابو مر ثد ، خا لد بن بکیراور عاصم بن ثابت تلوار یں (رض) لیکر ان کے مقا بل ہو گئے اور با قی تین حضرات جو غیر مسلح تھے حضرت خبیب بن عدی ، حضرت زید بن دثنہ اور حضرت عبد اللہ (رض) بن طا رق اونٹو ں پر سوار رہے۔مندرجہ بالا تینوں حضرات نے کفار کو مغلو ب کر لیا اور رسیو ں سے با ند ھ دیا جس پر وہ لو گ قسمیں کھانے لگے کہ واللہ ہما را تمہیں قتل کر نے کو ئی ارا دہ نہیں تھا بلکہ ہما رے پاس ا ہلِ مکہ کی ایک چیز ہے جوکہ ہم نے آتے ہو ئے ہذلیوں کے پا س امانت رکھدی تھی۔ اس کے لیے ان کو آواز دے رہے تھے کہ وہ تمہیں پہنچا دیں۔ لیکن ان لو گوں نے انکا یہ حیلہ تسلیم نہیں کیا نہ انکی با ت کو کو ئی اہمیت دی البتہ اس بات چیت میں اتنا وقت انہو ں نے حا صل کر لیا جو انہیں چا ہئے تھا۔کہ منصو بے کے مطا بق بنو ہذ ل ان تک پہنچ گئے اور وہ بڑی تعداد میں تھے لہذا یہ تینو ں جو مصرو فِ پیکار تھے ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور با قی تین اصحاب جو اونٹو ں پر تھے ان کے لیے اس کے سوا کو ئی چا رہ نہیں تھا کہ وہ خو د کو دشمن کے حوا لے کر دیں اس لیے کہ وہ غیر مسلح تھے۔یہا ں ایک عجیب وا قعہ پیش آیا کہ جب عا صم  (رض)بن ثا بت شہید ہو گئے تو کفار نے یہ چا ہا کہ انکا سر کا ٹ کر لے جا ئیں اور سلا فہ کے ہا تھ فروخت کر دیں۔ اس لیے کہ جنگ احد میں سلا فہ بنت سعد وہ عورت تھی جس کے دو بیٹے  حضرت عا صم (رض) کے ہا تھو ں ما رے گئے تھے۔ اور اس نے قسم کھا ئی تھی کہ اگر عا صم (رض) اس کے قا بو میں آ جائے تو میں اس کے سر کا کا سہ بنا کر شراب پیئو نگی ۔ لیکن عجیب با ت یہ ہو ئی کہ ابھی ہذیلیو ں نے یہ ارا دہ ہی کیا تھا کہ نمعلو م کہا ں سے ہزا رو ں شہد کی مکھیا ں وہا ں پہنچ گئیں اور انہو ں نے میت کو چا رو ں طرف سے گھیر لیا لہذا انہو ں نے یہ طے کیا جب یہ مکھیا ں شا م کو چلی جا ئیں گی تو سر کا ٹ لیں گے ۔ مگر خدا کو ان کی لا ش کی کفا ر کے ہا تھ سے بے حر متی منظو ر نہیں تھی ۔لہذا اس دو را ن بہت تیز با رش شروع ہو گئی اور وہ میت نشیب میں سے بہتی ہو ئی بر سا تی نا لے میں چلی گئی اور بہہ گئی۔ وا ضح رہے کہ بر سا تی نا لے یو ں تو ریگستا نوں میں خشک پڑے رہتے ہیں مگر جب با رش ہو تی ہے تو یہ ہاتھی ڈبا ؤ  تک ہو جا تے ہیں اور اس وقت انکی طغیا نی کے سا منے ٹھہر نا نا ممکن ہو جا تا ہے ،بلکہ بعض اوقات اگر قا فلہ بھی اس میں پھنس جا ئے تو وہ بھی بہہ جا تا ہے۔رو ایت ہے کہ حضرت عا صم (رض) نے یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ نہ میں کسی کا فر کو چھو ؤ ں اور نہ کا فر میرے جسم کو ہا تھ لگا ئے لہذا اللہ نے انکی لاج رکھلی۔جب یہ خبر مدینہ پہنچی کہ اس قسم کا معا ملہ وقوع پزیر ہو اتو حضرت عمر (رض) نے سنکر فرما یا کہ اللہ تعا لیٰ مو من کے عہد کی بھی حفا ظت فر ما تا ہے۔لہذا  حضرت عاصم  (رض)کی موت کے بعد بھی اللہ تعا لیٰ نے اس کے عہد کا پاس رکھا۔باقی تین اصحا ب کو یہ رسیو ں سے با ندھ کر مکہ قریش کے ہا تھ فرو خت کر نے کے ارا دے سے روا نہ ہو ئے لیکن راستے میں مو قعہ پاکر حضرت ابن ِ طا رق (رض) نے اپنے ہا تھ آزاد کر لیے اور ان میں ہی سے کسی کی تلوار ان کو غا فل پا کر قبضہ میں کر لی اور لڑ نے پر آمادہ ہو گئے لیکن جو کفار اوپر سے نگرا نی پر متعین تھے انہو ں نے پتھرا ؤکر کے ان کو شہید کر دیا اب با قی دو حضرات رہ گئے جن کے نا م تھے خبیب اور ابن ِ دثنہ (رض) جن کو انہو ں نے قریش کے ہا تھ فرو خت کر دیا اور انہو ں نے اپنے انتقام میں قتل کر نے کا فیصلہ کیا ۔آگے ابن ِ اسحا ق (رح) لکھتے ہیں کہ حضرت ابنِ دثنہ (رض) کو صفوان بن امیہ نے خریدا تا کہ وہ اپنے با پ کے بد لے میں انہیں قتل کرے لہذا انکو حدود ِ حرم سے باہر لے جا یا گیاجب وہ مقام ِتنعیم پہنچ گئے تو انہیں قتل کر نے سے پہلے ابو سفیا ن نے پو چھا کہ اے ابن ِ دثنہ (رض) کیا تم چا ہو گے کہ اسو قت تمہا ری جگہ محمد (ص)ہو ں اوروہ قتل کیئے جا ئیں ۔ توانہو ں نے جوا ب دیا کہ میں تو یہ بھی بر داشت نہیں کرو نگا کہ میرے ہو تے ہو ئے اور انہیں (ص) ایک کا نٹا بھی چبھے۔اس پر ابو سفیا ن نے کہا کہ میں نے ایسے جا نثار کسی کے نہیں دیکھے جیسے کہ محمد (ص) کے ہیں اور اس کے بعد قتل کا حکم دیدیا۔کیو نکہ کفا ر اب انکے مرتد ہو نے کے امکا ن سے ما یوس ہو گئے تھے۔اس کے بعد حضرت خبیب  (رض)کی با ری آئی اور ان سے انکی آخری خوا ہش پو چھی گئی۔ تو انہو ں نے فر ما یا کہ میں دو رکعت نما ز پڑھنا چا ہتا ہو ں اگر تم اجا زت دو۔ لہذا انہو ں نے کہا کہ پڑ ھ لو، انہو ں نے نماز ادا کی سلام پھیرا اور کہا کہ واللہ اگر مجھے یہ خو ف نہ ہو تا کہ تم کہو گے مو ت سے ڈر گیا تو میں تما م عمر بھی نیت نہیں توڑتا ۔ تا ریخ میں لکھا ہے کہ مو ت سے پہلے دو رکت نما ز سب سے پہلے حضر ت خبیب  (رض)نے پڑھی اور انکی یہ سنت آج تک قا ئم ہے اور اس کا ثوا ب انہیں قیا مت تک ملتا رہے گا۔ حضرت خبیب (رض) کے ہی با رے میں حجیر کی لو نڈی معا ویہ کا بیان ہے کے وہ اسی کے گھر میں قید تھے ۔اور دورا ن قید اس نے دیکھا کہ خبیب (رض)کے ہا تھ میں آدمی کے سر کے برا بر انگو ر کا خو شہ تھا جس میں سے وہ کھا رہے تھے۔ ایسے انگور اس نے رو ئے زمین پر پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ باقی آئندہ                         



:دیگر مضامین
(03.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (76۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(24.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے ( (75۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(17.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (74)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (73)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا (72)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(27.09.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (71)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(19.09.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(70)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.09.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(69)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.09.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(68)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.08.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(67)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.08.2015) سیرتِ پاک حضور ۔۔۔روشنی حرا سے(66)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(15.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(65)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(08.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(64)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(01.08.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔ ۔روشنی حراسے(63)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(28.07.2015) سیرتِ پاک حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(62)۔ از ۔۔ شمس جیلانی
(25.07.2015) جناب طاہر حسین سلطانی فرد نہیں اک انجمن ہیں۔۔۔ ڈاکٹرشمس جیلانی
(17.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(61)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(13.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(60)۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(04.07.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(59)۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(27.06.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔روشنی حراسے(58) از. شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں