سنو ۔۔۔۔ میں اکثر سوچتی ہوں
جو ہمیں
چھتیس ہزار صبحیں میسر ہو بھی جاتیں تو کیا ہوتا
یونہیں پچیس چھبیس برس
قلب و نظر میں خواب سجاتے سجاتے گزر جاتے
پھر چون ۔۔ پچپن برس
دوڑتے بھاگتے ، کچھ جمع ، کچھ تفریق کرتے
اور ۔۔۔ باقی کے برس
برے موسم میں کبھی اداسی تو کبھی تشویش کشید کرتے
سنو میری جان ۔۔!
کارگاہ وجود کے لئے چھتیس ہزار صبحیں نہیں چاہیئے
بس ۔۔ حیات کے کچھ دن بارگاہ فطرت میں بسر ہوں
روح میں طمانیت، سرخوشی ، بے خودی کے راز ہوں
پاکیزہ آسمانوں کی قسم
محبت نشے کی امام ہے ۔۔۔ ساعت سپردگی ہے
جنت آسمان میں نہیں ۔۔۔۔ من کے اندر ہوتی ہے