اپنے ہاتھوں میں دیکھو یہ کیا لے لیا؟
مفتیوں نے ہمارا خدا لے لیا!
ہوش و جذبہ، جنوں، غےر ت وزندگی
اہلِ طاقت نے سب برملالے لیا!
خون سے خون کے چھینٹے دُھلنے لگے
قطرہ قطرہ بنامِ خدا لے لیا
خون ِ باد ِ صبا میں ہے ڈوبا چمن
برگ ، گل سے برنگِ ہوا لے لیا
کس کے در سے ملے گی ہمےں روشنی؟
حرص نے منصفوں سے دِیا لے لیا
بانٹ لی کم دِلوں نے ضےائے حرم
اور فقےہوں نے نورِ حرا لے لیا!
جس طرف دیکھئے آسماںشرمگیں
شام نے کس کا رنگِ حنا لے لیا؟
اتفاقاً تمنا کا حق جب ملا
نام بے ساختہ آ پ کا لے لیا!
آپ کیوں ہیں صدف سے بھلا سر گراں؟
اُس نے ایسا بھی کیا آپ کا لے لیا؟