15.10.2026, 10:16pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

بارہ / نومبر 1966شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی
12.11.2015, 01:45pm , جعمرات (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی
شکیب جلالی کی وفات

بارہ / نومبر 1966ء کو اس خبر نے کہ اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی ہے، پوری ادبی دنیا کو سوگوار کردیا۔
شکیب جلالی کا اصل نام سید حسن رضوی تھا اور وہ یکم اکتوبر 1934ء کوعلی گڑھ کے قریب ایک قصبے جلالی میں پیدا ہوئے تھے۔ 1950ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں ملازمتوں کے سلسلے میں وہ مختلف شہروں میں مقیم رہے۔شکیب جلالی‘ ایک منفرد اسلوب کے شاعر تھے۔ انہوں نے بلاشبہ غزل کو ایک نیا لہجہ دیا۔
ان کا شعری مجموعہ روشنی اے روشنی ان کے ناگہانی انتقال کے چھ برس بعد 1972ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس مجموعہ کلام کا شمار اردو کے چند اہم ترین شعری مجموعوں میں ہوتا ہے۔ 2004ء میں لاہور ہی سے ان کے کلام کے کلیات بھی شائع ہوئی۔

شکیب جلالی نے صرف 32 برس کی عمر پائی مگر انہوں نے اتنی کم مہلت میں جو شاعری کی وہ انہیں اردو غزل میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔
آکر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
……٭٭٭……
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنی چلے، سر پھری ہوا سے کہو
شجر پہ ایک ہی پتہ دکھائی دیتا ہے
……٭٭٭……
شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد راہی کی پیدائش

بارہ / نومبر 1923ء پنجابی کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی تاریخ پیدائش ہے۔احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا اور وہ امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔
1946ء میں ان کی ایک اردو نظم آخری ملاقات افکار میں شائع ہوئی جو ان کی پہچان بن گئی۔ اس کے بعد ان کا کلام برصغیر کے مختلف ادبی جرائد کی زینت بننے لگے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں قیام پذیر ہوئے اور ماہنامہ سویرا کے مدیر مقرر کئے گئے۔ 1953ء میں پنجابی زبان میں ان کا شعری مجموعہ ترنجن شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی حاصل کی اور احمد راہی کا شمار جدید پنجابی نظم کے بانیوں میں ہونے لگا۔

 کم و بیش اسی زمانے میں انہوں نے پنجابی فلموں میں نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی فلم بیلی تھی جس میں انہوں چار گیت لکھے تھے اور چاروں کے چاروں بہت خاصے مقبول ہوئے تھے اس کے بعد انہوں نے لاتعداد پنجابی فلموں کے لئے نغمات تحریر کئے جن میں شہری بابو، ماہی منڈا، پینگاں، چھومنتر، یکے والی ، پلکاں، گڈو، سہتی ، یار بیلی ، مفت بر، رشتہ، مہندی والے ہتھ، بھرجائی، اک پردیسی اک مٹیار، وچھوڑا، باڈی گارڈ، قسمت، ہیر رانجھا، مرزا جٹ، سسی پنوں، نکے ہوندیاں دا پیار، ناجو اور دل دیاں لگیاںکے نام سرفہرست تھے، اس کے علاوہ انہوں نے کئی اردو فلموں کے لئے بھی کئی نغمات تحریر کئے جن میں فلم آزاد، کلرک اور باجی کے نام شامل ہیں۔

احمد راہی کی دیگر تصانیف میں ان کے شعری مجموعے رت آئے رت جائے، رگ جاں اور فلمی نغمات کا مجموعہ نمی نمی وا شامل ہیں۔

احمد راہی نے متعدد ایوارڈز بھی حاصل کئے تھے جن میں سب سے بڑا ایوارڈ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی تھا جو انہیں 1997ء میں حکومت پاکستان نے عطا کیا تھا۔ احمد راہی کا انتقال 2 / ستمبر 2002ء کو لاہور میں ہوا اور وہ لاہور ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔

:دیگر مضامین
(11.11.2015) گیارہ نومبر 1917ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کی تاریخ پیدائش ہے۔
(11.11.2015) آج کا انتخاب ایک بلا عنوان کارٹون ہے۔ ملاحظہ کیجئے
(10.11.2015) دس / نومبر 1958ء کو اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے
(09.11.2015) نو نومبر تابش دہلوی۔  ڈاکٹر شفیق الرحمٰ۔ن، گلوکارہ مالا  اور ثروت حسین کی پیدائش
(09.11.2015)  علامہ اقبال 9 نومبر1877کو کےبرطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیداہوئے
(08.11.2015) ‎وہ مصائب جو ہمارے منبروں سے پڑھے نہیں جاتے: عبداللہ بن حسن(ع) کی شہادت
(06.11.2015) آج انتخاب کے شعبے میں کویت کی شاہین اشرف علی کی ایک غزل کا انتخاب
(04.11.2015) لالچ اور طمع میں گھرے ھوئے انسانوں نے مقدس منصب پیشہ بنا دیا۔رافیعہ گیلانی
(02.11.2015) عالمی اخبار کے بغیر ایک دن بھی جیسے بیکار لگتا ہے۔ شاہین اشرف علی
(31.10.2015) لاہور میں تقریباً 40 لاکھ افراد مختلف اقسام منشیات استعمال کرتے ہیں
(31.10.2015) جھگڑے اور بدگمانیاں کیسے ختم ہوں ۔۔؟ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(31.10.2015) تیس کتوبر 1960ء کو پاکستان کے نامور مزاحیہ اداکار ظریف لاہور میں انتقال کرگئے۔
(29.10.2015) زلزلوں کی ہولناک تباہی اور بربادی ، تاریخ کے پس منظر میں ایک نظر
(26.10.2015) ڈینش شعرو ادب کی مکمل تاریخ صدف مرزا کے قلم سے
(24.10.2015) اتحاد بین المسلمین کا فقید المثال اور منفرد مظاہرہ ۔ شیعہ سُنی مشترکہ یاد کربلا
(22.10.2015) ریڈیو اخلاص ڈربی کے زیر اہتمام اخلاص ایجوکیشن سینٹر میں یاد کربلا
(18.10.2015) لندن میں عشرت حسین کی قیام گاہ پر سالانہ مجلس عزا کا انعقاد
(18.10.2015) عزاداری امام حسین ع کے تقاضے اور ھماری ذ مہ داری۔از۔ڈاکٹر سید نیاز محمد ھمدانی
(16.10.2015) فرخندہ رضوی کی کتاب ۔۔۔قلم خندہ ۔۔۔۔ کی تقریبِ رونمائی کی رپورٹ
(14.10.2015) انتفاضہ القدس صہیونی توسیع پسندی کے کینسرکا صفایا کردے گی:ابو مرزوق



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں