|
چشم نظارہ کوئی جیسے گل تر مانگے از منظور ثاقب
13.11.2015, 04:33am , جمہ (GMT+1)
منظور ثاقب
چشم نظارہ کوئی جیسے گل تر مانگے طائر فکر مرا اڑنے کو شہ پر مانگے
آج لوٹا دو مجھے میرا وہ شفاف بدن بہتے دریاﺅں سے قرض اپنا سمندر مانگے
ایک جگنو سے کہاں دور اندھیرا ہو گا شب تاریک تو اک مہر منور مانگے
یوں مرے کان سے ٹکراتی ہے دلدوز پکار ڈوبتا شخص کوئی جیسے شناور مانگے
برگ کے فہم پہ ماتم کے سوا کیا ہو گا لذت زیست اگر شاخ سے کٹ کر مانگے
جذبہءعشق کہ اخلاص کی خوشبو چاہے جذبہءفکر کہ اظہار کو دفتر مانگے
آج پھر لات و منات اور ہبل ہیں ثاقب آج پھر کعبہءوقت ایک پیمبر مانگے
|