14.10.2026, 03:43pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

چودہ/ نومبر 1957ء اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی
14.11.2015, 09:01am , ہفتہ (GMT+1)

اقبال حسن کی وفات
یہ 14 / نومبر 1984ء کی بات ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت کے دو مایہ ناز اداکار اقبال حسن اور اسلم پرویز، حیدر چوہدری کی فلم جھورا کی عکس بندی کے بعد فیروز پور روڈ، لاہور سے اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے کہ ان کی کار کا ایک ویگن سے تصادم ہوگیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں اقبال حسن تو جائے حادثہ پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسلم پرویز ایک ہفتہ تک موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 21 /نومبر کی صبح خالق حقیقی سے جاملے۔

اقبال حسن نے اپنی فنی زندگی میں 285 فلموں میں کام کیا تھا۔ وہ پاکستان کے مقبول اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اقبال حسن کی فلمی زندگی کا آغاز ہدایت کار ریاض احمد کی پنجابی فلم سسی پنوں سے ہوا تھا۔ انہوں نے کچھ اردو فلموں میں بھی کام کیا لیکن ان کی وجہ شہرت پنجابی فلمیں ہی بنیں۔ اقبال حسن کی مشہور فلموں میں یار مستانے، سر دھڑ دی بازی، وحشی جٹ، طوفان، گوگا شیر، وحشی گجر، شیرتے دلیر، دو نشان، سر اچے سرداراں دے، میری غیرت تیری عزت، ہتھکڑی ،ایمان تے فرنگی، بغاوت، جوانی دی ہوا، ڈاکو تے انسان، دس نمبری، جوڑ برابر دا، خانو دادا، جوان تے میدان، سجن دشمن، مرزا جٹ،دادا استاداور بدلے دے آگ کے نام سرفہرست ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب زاہد حسین کی وفات

چودہ/ نومبر 1957ء کو پاکستان کے مشہور ماہر اقتصادیات اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی۔ جناب زاہد حسین 1895ء میں پیدا ہوئے تھے انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور اور علی گڑھ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ پھر انڈین فنانس ڈپارٹمنٹ کے مقابلے کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے حکومت کے اہم عہدوںپر فائز رہے۔

1945ء سے 1947ء تک وہ سلطنت آصفیہ (حیدرآباد دکن) میں وزیر خزانہ کے عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ بھارت میں پاکستان کے پہلے سفیر مقرر ہوئے۔

یکم جولائی 1948ء کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح ہوا تو جناب زاہد حسین اس کے پہلے گورنر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد بھی آپ مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 14 نومبر 1957ء کو آپ نے کراچی میں وفات پائی۔ آپ کو علامہ شبیر احمد عثمانی کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا ظہور الحسن درس کی وفات

چودہ / نومبر 1972ء کو مشہور عالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے وفات پائی اور کراچی میں قبرستان مخدوم صاحب نزد دھوبی گھاٹ کراچی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
آپ 9 / فروری 1905ء کو کراچی میں مولانا عبدالکریم درس کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ 1940ء سے 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن اور اہم عہدوں پر فائز رہے۔قائداعظم آپ کو سندھ کا بہادر یارجنگ کہا کرتے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں آپ ہی کی اقتداء میں ادا کیں۔ اکتوبر 1947ء میں جب عید الاضحی کی نماز کے وقت قائد اعظم کے عید گاہ میں پہنچنے میں تاخیر ہوئی اور اعلیٰ حکام نے آپ سے نماز کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی تو آپ نے کہا کہ میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں چنانچہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے اور انہوں نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ نماز کے بعد قائد اعظم نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرأت ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔

مولانا ظہور الحسن درس کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں چشم تلطف پنجتن‘ خون کے آنسو اور تحقیق الفقہ اما فی کلمتہ الحق کے نام سرفہرست ہیں۔



:دیگر مضامین
(13.11.2015) حسن ناصر 13 / نومبر 1960ء کو جان کی بازی ہار گئے۔
(12.11.2015) بارہ / نومبر 1966شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی
(11.11.2015) گیارہ نومبر 1917ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کی تاریخ پیدائش ہے۔
(11.11.2015) آج کا انتخاب ایک بلا عنوان کارٹون ہے۔ ملاحظہ کیجئے
(10.11.2015) دس / نومبر 1958ء کو اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے
(09.11.2015) نو نومبر تابش دہلوی۔  ڈاکٹر شفیق الرحمٰ۔ن، گلوکارہ مالا  اور ثروت حسین کی پیدائش
(09.11.2015)  علامہ اقبال 9 نومبر1877کو کےبرطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیداہوئے
(08.11.2015) ‎وہ مصائب جو ہمارے منبروں سے پڑھے نہیں جاتے: عبداللہ بن حسن(ع) کی شہادت
(06.11.2015) آج انتخاب کے شعبے میں کویت کی شاہین اشرف علی کی ایک غزل کا انتخاب
(04.11.2015) لالچ اور طمع میں گھرے ھوئے انسانوں نے مقدس منصب پیشہ بنا دیا۔رافیعہ گیلانی
(02.11.2015) عالمی اخبار کے بغیر ایک دن بھی جیسے بیکار لگتا ہے۔ شاہین اشرف علی
(31.10.2015) لاہور میں تقریباً 40 لاکھ افراد مختلف اقسام منشیات استعمال کرتے ہیں
(31.10.2015) جھگڑے اور بدگمانیاں کیسے ختم ہوں ۔۔؟ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(31.10.2015) تیس کتوبر 1960ء کو پاکستان کے نامور مزاحیہ اداکار ظریف لاہور میں انتقال کرگئے۔
(29.10.2015) زلزلوں کی ہولناک تباہی اور بربادی ، تاریخ کے پس منظر میں ایک نظر
(26.10.2015) ڈینش شعرو ادب کی مکمل تاریخ صدف مرزا کے قلم سے
(24.10.2015) اتحاد بین المسلمین کا فقید المثال اور منفرد مظاہرہ ۔ شیعہ سُنی مشترکہ یاد کربلا
(22.10.2015) ریڈیو اخلاص ڈربی کے زیر اہتمام اخلاص ایجوکیشن سینٹر میں یاد کربلا
(18.10.2015) لندن میں عشرت حسین کی قیام گاہ پر سالانہ مجلس عزا کا انعقاد
(18.10.2015) عزاداری امام حسین ع کے تقاضے اور ھماری ذ مہ داری۔از۔ڈاکٹر سید نیاز محمد ھمدانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں