میرا یقین ہے کہ ہر انسان کے لیئے ہر دن اپنی برکتیں اور نحوستیں ساتھ لے کر آتا ہے ۔ اور کبھی کبھی ایک ہی دن کئی لوگوں کے لیئے پیغام بدقسمتی اور نحوست ایک ساتھ ایک ہی وقت میں لے کر آتا ہے ۔ جیسےگذشتہ شام یعنی تیرہ نومبر دوہزار پندرہ ، جمعہ کے روز بیروت کے جنوب میں البراجنہ ٹاور میں ہونے والے کم دھماکوں میں کم سے کم 43 افراد ہلاک اور 240 زخمی ہوگئے تھے۔
اس کے بعد جو بھی ہوا وہ سب ہم سب کو اب زبانی یاد ہو چکا ہے ۔۔ یہی کہ دولت اسلامی "داعش" کہلوانے والی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔۔ پوری دنیا کے معزز حکمرانوں نے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔۔ اور متعلقہ حکومت نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ورثہ کے لیئے کئی لاکھ نام کر دیئے ہیں ۔۔اور ملک کی انٹلی جینس ان دہشت گردو ں کی تلاش میں اپنی سرگرمیوں کو مزید موثر بنانے کا وعدہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے ۔۔ ہائے ۔۔ ان کا کیا جن کے پیارے بے خبری میں مارے گئے ۔۔۔ اور وہ اب کیا کریں گے جن کے ہاتھ پاؤں کٹ گئے ۔۔ چہرے
جھلس گئے ۔۔۔ معذور ہر طرح سے ہو گئے ۔۔۔۔ آنسو ہی آنسو ۔۔ فغاں ہی فغاں ۔۔۔
ابھی دنیا میں یہی غم منایا جا رہا تھا جس کے بہانے فلسطینیوں کو اپنے ذخم یاد آگئے ۔۔ عراق کو دوہزار کی جنگ یاد آگئی ۔۔ افغانستان نے گھبرا کر اپنی کمین گاہوں کو دیکھا ۔۔ پاکستان نے فورا ہی سینٹرل جیل کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔۔ ابھی اور بھی بہت کچھ ہونا باقی تھا کہ آج چودہ نومبر دوہزار پندرہ ، ہفتہ کے روز ایک اور انہونی ہو گئی ۔۔۔ خوشبوؤں کے دیس میں خون اور بارود کی بو پھیل گئی ۔۔۔۔۔ اور ایسی پھیلی کہ دنیا سہم گئی اور ہر حساس دل تڑپ کر رہ گیا ۔۔۔ ییرس کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اوردھماکوں کے نتیجے میں 160افرادہلاک ہوگئے۔ کئی دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ۔100 سے زائد افراد کو یرغمال بنالیا گیا۔حالات بے قابو ہو گئے ، فوج کو طلب کرلیا گیا ۔ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے ۔
حملوں کے وقت اسٹیڈیم میں فرانس اورجرمنی کےدرمیان فٹ بال میچ جاری تھا۔جسے دیکھنےکے لیے 80 ہزار تماشائی موجود تھے۔فٹبال میچ دیکھنے کے لیے فرانسیسی صدر بھی کابینہ کے ساتھ اسٹیڈیم میں موجود تھےجنہیں حفاظتی تحویل میں فرانسیسی صدروزارت داخلہ پہنچایا گیا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد پولیس نےعلاقےکوگھیرےمیں لے کر چیکنگ شروع کردی تاہم حالات قابو میں باہر ہونے کے باعث فرانس کی فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ اور ابھی ابھی دولت اسلامی "داعش" کہلوانے والی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔۔ اور ایکبار تعزیت کے سلسلے شروع ہو چکے ہیں ۔
ایکبار پھر وجوہات کی مد میں قیاس آرائیاں شروع ہو چکی ہیں ۔۔ ایک قیاس یہ ہے کہ سیرین رفیوجییز کا مسلہ سب کے سر پر منڈلا رہا تھا ۔ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں خاص طور پر امریکہ ، فرانس ، برطانیہ اور آسٹریلیا رفیوجیز کو اپنی سرزمین پر بسانے میں پس و پیش کر رہے تھے اور ہر ممکن کوشش سے نا صرف ٹال رہے تھے بلکہ اپنے فوجیوں کو بھی داعش کی حکومت کے خاتمے کے لیئے بھیجنے کو تیار نظر نہیں آتے تھے ۔۔۔ کل اور آج کہ دہشت گردی نے یہ بات ثابت کر دی ہے داعش کو مل کر ختم کرنا کتنا ضروری ہے اور سیرین کو "پناہ نا دینا " بھی ہیومن گراؤنڈ پر سب کی زمیداری بنتی ہے کہ جب داعش سیریا سے نکل کر دنیا کو اپنی دہشت کا نشانہ بنا سکتا ہے تو سیریا کے ریفوجیز کی شکل میں ، ان کے اندر گھس کر کیا کیا نہ کرے گا ۔
دوسرا قیاس یہ ہے کہ بڑی طاقتوں نے یہ خود پلان کیا تھا جیسے ایک قیاس نائن الیون کو بھی بڑی طاقتوں کے اپنے پلان کا حصہ بتاتے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ جب سے رشیا نے بشار الاسد کاہاتھ پکڑا ہے ، ایران اور بھی شیر ہوگیا ہے اور ایران کے ساتھ ہی لبنان کی جماعت حزب اللہ بھی ان کے اعلی اعلان ساتھ ہو گئے ہیں ۔ اور یوں سعودی عرب ، عرب امارات ، یورپی یونین ، آسٹریلیا اور امریکہ کو اپنی یکجہتی دکھانے کے لیئے یہ انسانیت سوز شو دکھانا پڑا ۔۔۔ اس ساری کہانی میں رشیا انتقاما اس جنگ میں یوں کودا ہے کہ اس کو بڑی طاقتوں نے مل کر خوب برباد کیا ہے ۔۔۔۔ انڈیا کے صدر مودی جو بہار کے الیکشن سے پہلے زرد رنگ میں رنگے ہوتے تھے اور ہارنے کے بعد زرد رنگ سے آزاد خود آج کا جواہر لعل نہرو سمجھ رہے ہیں ۔ اپنے موجودہ دورہ برطانیہ میں اپنے خلاف نعرے بازی پر غصے سے قلابازیاں کھاتے نطر آئے ، پر پیرس میں دہشت گردی کے بعد یوں سب کا دھیان بٹنے پر کچھ حوصلے میں آگئے ہیں اور تاحال خاموش ہیں ۔ ۔۔ چائینا کو صرف اپنی دولت کمانے سے مطلب ہے یا پھر ٹیکنالوجی سے ، سو اس جنگ سے اس کو کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔ رہی بات جرمنی کی تو وہ اتنی “ جنگ جنگ “ کھیل چکا ہے کہ وہ مزید کوئی جنگ نہیں چاہتا اس لیئے سکون سے چانسلر مرکل کے کہنے پر لاکھوں لاکھ رفیوجیز کو پناہ دے کر لوگوں کے دلوں میں گھر بنا چکا ہے ۔
تیسرا قیاس یہ کہتا ہے کہ داعش نے حقیقتا اپنے اوپر ہونے والے حملوں کا انتقام لیا ہے اور وہ گاہے گاہے اپنابدلہ لیتا رہے گا۔ اس وقت دہشت گردی کا مسلہ پوری دنیا کا مسلہ بن چکا ہے ۔ پر دنیا جو بھی کہے ۔۔ نہ مرنے والے واپس آ سکتے ہیں ۔۔ نا لاکھوں روپے دے کر کسی کا ہاتھ پیر واپس آ سکتا ہے ۔۔ نا خوشبوؤں کے دیس میں خون اور بارود کی بو کم ہو سکتی ہے ۔۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ۔۔۔
کیا بڑی طاقتیں داعش کے خلاف سریا اور عراق کی سرحدوں پر اپنی فوجیں بھیجیں گی ؟
کیا سیریا دوحصوں ( شعیہ ، سنی ) میں بٹ جائے گا ۔۔ ؟
کیا یہ بٹوارا بڑی طاقتوں کو منظور ہو گا ۔۔؟
کیا جرمنی کے علاوہ کوئی اور یورپین ملک بھی رفیوجیز کو پناہ دیں گے ؟
دوستو ! جب دن اور رات سے برکتیں اٹھ جاتی ہیں تو زمینیں فساد و دہشت سے اجڑ جاتی ہیں ۔۔ اور جو زمین بھی اجڑ جاتی ہے وہاں پر سانحہ کی یادگار تو تعمیر ہو سکتی ہے پر وہ جگہ دوبارہ آباد نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ اور جو اگر وہ آباد ہو بھی جائے تو اسکی خوشبو وہ نہیں رہتی ۔۔۔ کاش جس طرح سے بڑی طاقتیں اپنے وطن کی عزت اور حفاظت کرتی ہیں اسی طرح سے وہ دوسروں کے وطن کی بھی عزت اور حفاظت کریں ۔