گلاب ، چنبیلی ، موتیا ، بیلا ، رات کی رانی
اٹھو نا
کیوں مغموم اور سر جھکائے ہو
آج باد صبا اور شبنم بھی بہت اداس تھیں
اتنا پوچھا ۔۔۔ پر کچھ بتا کر نہیں گئیں
ارے اٹھ جاؤنا
دیکھو سورج کیسے آنگن میں اترنے والا ہے
لگتا ہے رات بھر تم سب جاگتے رہے ہو
دیکھو اگر ۔۔
یونہی تم سب چپ رہے تو تمہاری قسم میں رو دونگی
میرے قدم ۔۔۔ میرا التماس ۔۔ یکدم فضاؤں میں رہ گیا
دروازے کی بالائی محراب سے لپٹی رات کی رانی کانپ رہی تھی
چنبیلی کے سفید پھول محو گریہ زمین پر سجدہ ریز تھے
اوہ ۔۔۔ میری پیاری ۔۔ میری آنکھیں چھلک پڑیں
چنبیلی رندھے لہجے میں مجھ سے کہہ رہی تھی ۔۔
انہیں رات باد صبا اور شبنم نے بتایا ہے
دور بہت دور کسی دیس میں ۔۔۔
بارود کی بو نے ہمارے ہم وطنوں کی جان لے لی
گلاب ، چنبیلی ،موتیا ، بیلا ، رات کی رانی اور زیتون
سب جل گئے ۔۔ سب مر گئے
ہائے مٹی کی کوکھ اجڑگئی
کوئی ایک بیج بھی تو سلامت نہ رہا
تم ہی کہو ۔۔۔۔ ہم کیا بولیں ۔۔ کس سے بولیں
میں چنبیلی کو سینے سے لگا کر زار زار رو پڑی
ہمارا دکھ سانجھا تھا ۔۔۔ !
دور بہت دور اسی دیس میں ۔۔۔
بارود کی بو نے
میرے بھی ہم وطنوں کی جان لے لی تھی
ڈاکٹر نگہت نسیم