16.10.2026, 04:41am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
صحت/سائینس
 

نہاری اٹھارویں صدی کے آخر کی ایجاد ہے۔۔۔۔۔ از:‌ ثنااللہ خان احسن 
17.11.2015, 01:04am , منگل (GMT+1)

یوں تو دہلی کے مغلئ کھانوں کا شمار دنیا کے بہترین کھانوں میں ہوتا ہے لیکن جو شہرت اور مقبولیت نہاری اور بریانی کے حصے میں آئی وہ کسی اور ڈش کا نصیب نہ بن سکی۔  نہاری آج بھی برصغیر میں بڑے ذوق و شوق سے بنائ اور کھائ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دہلی کی جامع مسجد کے اطراف آج بھی کچھ ایسے ریسٹورنٹ یا بھْٹیار خانے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مغل دور سے پشت در پشت اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔ بلکہ کچھ کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی نہاری مغل دور کی نہاری ہے کیونکہ وہ مغلیہ دور سے ہی دیگ میں ایک پیالہ نہاری بچا لیتے تھے اور اسکو  دوسرے دن کے لئےتیار کی جانے والی  تازہ نہاری کے بونگ والے گوشت و دیگر لوازمات  میں شامل کر دیتے تھے اس طرح وہی مغلیہ دور کی نہاری بہرحال اب تک کی نہاری میں شامل چلی آرہی ہے۔ یہ مبالغہ آرائ ہی ہو سکتی ہے لیکن نہاری کے شوقینوں کے لئے ایک فینٹیسی کا درجہ ضرور رکھتی ہے۔ آج بھی کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں بے شمار نہاری ریسٹورنٹ ہیں جن میں سے کچھ تو اتنے مقبول ہیں کہ وہاں نہاری کھانے یا خریدنے کے لئے باقاعدہ لمبی قطار میں کھْڑا ہو کر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔

نہاری اٹھارویں صدی کے آخر کی ایجاد ہے۔ بہادر شاہ ظفر کے دور سے ہمیں اس کا ذکرملتا ہے۔کچھ مورخین کا خیال ہے کہ یہ مغل بادشاہ کےشاہی مطبخ میں ایجاد ہوئ اور کچھ کا خیال ہے کہ اودھ کے نوابوں نے اس کو رواج ديا -  اکثر نوابان اودھ کا معمول تھا کہ نماز فجر ادا کر کے ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے سو جاتے اور پھر ظہر تک سوتے رہتے۔۔ دوپہر کو شدید بھوک محسوس ہوتی تھی اور کمزوری بھی محسوس ہوتی تھی۔ لہٰزہ ایک ایسی ڈش ترتیب دی گئ جو نواب صاحب نہار منہ کھا کر سو جائیں تو دوپہر تک بھوک محسوس نہ ہو اور قویٰ مضمحل نہ ہوں۔  کھانے کے بعد بھاری پن نہ ہو ہاضم بھی رہے اس لئے اس کے اجزا ترکیبی میں خاص طور پر سونف اور سونٹھ  شامل کی گئ۔ اس میں بکرے یا بھیڑ  کى ران  کے ادلےكا گوشت استعمال کیا جاتاتھا- نہاری پکانے کے لئےرات کو  گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو مصالحوں کے ساتھ پانی کی مناسب مقدار شامل کرکے   ایک زمین دوز دیگ میں ڈال دیا جاتا تھا۔ دیگ کے نیچے آگ جلانے کا انتظام ہوتا تھا۔ دیگ کے منہ پر ڈھکن رکھ کر اس کے چاروں طرف آٹا لگا کر ہوا بند کردیا جاتا تھا۔  آنچ اتنی مناسب رکھی جاتی تھی کی چھ سے آٹھ گھنٹے تک مستقل آگ جلتی رہے اور گوشت خوب اچھی طرح حلوان ہو جائے۔۔ صبح دیگ کھول کر اس میں آٹے کا آلن ڈال کر مزید پکایا جاتا تھا جس سے ایک گاڑھا شوربہ تیار ہو جاتا تھا۔  یوں صبح صبح تازہ گرما گرم  اشتہا انگیز نہاری تیار ہوتی تھی کہ  نواب صاحب تازہ تازہ نہاری گرما گرم نان کے ساتھ نوش فرما سکیں۔ حیدرآبادی نہاری میں بکرے کی سری اور ہڈیاں بھی شامل کی جاتی تھیں۔۔۔ بکرے کا مغز ابال کر اور ہڈیوں کا گودہ  الگ سے رکھ لیا جاتا تھا جو نہاری پیش کرتے وقت پلیٹ میں شامل کیا جاتا تھا۔۔ اوپر سے ادرک کی ہوائیاں، کترا ہوا سبز دھنیا،اور ہری مرچ  و لیموں چھڑکا جاتا تھا۔ اسے علاوہ  اصلی گھی میں پیاز داغ کر تازہ بگھار بھی لگایا جاتا ھا۔ ۔نہار منہ یعنی صبح ہی صبح کھائ جاتی تھی اس لئے اس کا نام نہاری پڑ گیا۔ دلی میں نہاری خاص طور پر سردیوں میں کھائ جاتی تھی۔ نہاری نہ صرف ایک مقوی غذا تھی بلکہ اس کو نزلہ وہ زکام کا بہترین علاج بھی تصور کیا جاتا تھا۔ 

  دلی والے نہاری کس ذوق و شوق اور اہتمام  و طریقے سے کھاتے تھے اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجئے۔ 

ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے شاہد احمد دہلوی نے اپنی ایک کتاب بزمِ خوش  نفساں میں ذکر کیا ہے کہ  ایک مرتبہ انہوں نے شوکت تھانوی اور نسیم انہونوی کو نہاری کی دعوت پر مدعو کیا۔۔۔ مگر سا تھ ہی تاکید بھى  کردی کہ یہ  صبح کے وقت کھانے کی ڈش ہے لہٰزہ اگر نہاری کا صحیع لطف اٹھانا ہے تو صبح چھ بجے غریب خانے پر تشریف لائیے گا۔  شاہد صاحب نے اپنے ماموں چشتی صاحب سے نہاری تیار کرنے کاکہا۔ چشتی صاحب صبح ہی صبح چھ بجے نہاری کا دیگچہ اور دیگر لوازمات لے کر پہنچ گئے۔ کوئ ساڑھے چھ بجے کے قریب دیسی گھی میں پیاز داغ کر بگھار بھی دے دیا گیا۔۔ جب آٹھ بجے تک تھانوی صاحب نہ پہنچے تو شاہد صاحب نے نہاری کا دیگچا اندر زنان خانے میں بھجوا دیا۔  شوکت اور نسیم صاحب کوئ صبح نو بجے پہنچے تو دہلوی صاحب نے بیوی سے چائے اور پان بھیجنے کا کہا۔ جب بیگم نے پوچھا،'' اور 
نہاری؟''۔ تو دہلوی صاحب نے جوب دیا کہ اب وہ نہاری کہاں رہی نرا باسی قورمہ رہ گیا۔''
تھانوی صاحب نے جب خالی پان اور چائے دیکھے تو نہاری کے بارے میں استفسار کیا -  شاہد صاحب نے انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ، "آپ سے ملوانے کے لئے کچھ اصحاب کو بلوایا تھا وہ تو صبح ہی نہاری کھا کر چلے گئے۔۔ افسوس کہ آپ بہت دیر سے آئے۔  دہلی کے شرفا تونہاری صبح ہی صبح کھاتے ہیں البتہ مزدور پیشہ لوگوں کے لئے بھٹیار خانوں میں دن چڑھے تک بکتی ہے۔" 
تھانوی اور نسیم صاحب منہ تکتے رہ گئے۔

شروع میں یہ امرا و شرفا تک ہی محدود تھی لیکن بعد میں مقوی اور غذائیت سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ خاص طور پر ان مزدوروں کو دی جانے لگی جو شاہی تعمیرات وغیرہ
میں کام کرتے تھے تاکہ صبح ہی صبح یہ غذائیت اور لحمیات و روغنیات سے بھرپور ناشتہ کر کے دوپہر تک بغیر تھکے کام کر سکیں۔۔
رفتہ رفتہ یہ مزدورطبقے کا  دلپسندناشتہ بن گیا اور دہلی کی جامع مسجد کے اطرف کے اکثر بھٹیارے اس کو تیار کرنے لگے۔
جہاں اکثر مزدور پیشہ اور محنت کش  لوگ ناشتہ کرنے آتے تھے۔

آجکل تو کراچی و دیگر شہروں میں نہاری صبح شام دستیاب ہوتی ہے۔ بکرے یا بھیڑ کے ادلے کی جگہ گائے کے بونگ کے گوشت نے لے لی ہی بلکہ کراچی میں تو اکثر ریسٹورنٹ اونٹ کے گوشت سے نہاری تیار کرتے ہیں جو اپنے لمبے ریشے اور نمکین ذائقے کی وجہ سے   نہاری کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔بلکہ گوشت كے ناغے والے دن مرغ نہاری بھی دستیاب ہوتی ہے مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔۔۔نہاری کا اصل لطف تو شاہد دہلوی جیسے لوگوں کے ساتھ ہی اٹھ گیا۔

:دیگر مضامین
(16.11.2015) پاکستان میں ہر آٹھواں شخص شوگر کے مرض میں مبتلا ہے  
(14.11.2015) پاکستان میں نمونیا بچوں کی شرح اموات کا سرفہرست مرض بن گیا ہے۔
(12.11.2015) اکیلے رہنے والے افراد غیر صحت مند غذا کی طرف راغب ہوتے ہیں: رپورٹ
(09.11.2015) آلودگی کا شکار شہروں میں رہائش دل کے دورے کا باعث ہے،تحقیق
(06.11.2015) انجیر کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا ہے
(03.11.2015) ناشتے سے پہلے 12 گھنٹے کچھ نہ کھانا پینا وزن کم کرتا ہے: تحقیق
(01.11.2015)  سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کی تیاری بقائے انسانی کے لیے خطرہ
(29.10.2015) زمین کی نوع کے 92 فی صد سیارے ابھی پیدا ہونا باقی ہیں: ناسا
(27.10.2015) بڑ ھتی عمر میں ورزش دماغی امرا ض سے محفو ظ رکھتی ہے
(25.10.2015) ہنسنے سے پریشانیوں سے جھٹکارا ملتا ہے
(22.10.2015) موسم گرما میں پیدا ہونے والے بچوں میں جوانی میں لمبے قد کا امکان: رپورٹ
(18.10.2015) لمبی زندگی گزارنے کیلئے اچھی صحت ہی نہیں ذہانت بھی چاہئے، ماہرین
(14.10.2015)  بستر مرگ پر پڑے ہوئے مریضوں کے لیئے برطانیہ بہترین ملک
(12.10.2015)  کیلا غذائی اھمیت کے علاوہ افزائش حسن کے لئے بھی خاصی اھمیت رکھتا ھے
(10.10.2015)  آلو میں روغن ، پروٹین،وٹامنز کی وافر مقدار ، کئی بیماریوں کیخلاف مفید
(07.10.2015) جلد کی حفاظت اور لیموں کے فوائد ۔۔۔ از: سیدہ رافعیہ گیلانی ۔ راجن پور
(04.10.2015) گوشت کے پکوان پروٹین کو پورا کرنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
(02.10.2015) جلدی بیماری کے کچھ مفید گھریلو ٹوٹکے - رافیعہ گیلانی برائے عالمی اخبار
(28.09.2015) طاقتور ال نینو : دنیا بھر کے موسموں کو متاثر کر سکتا ہے
(22.09.2015) طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ مرہ زندگی میں شکر کم سے کم استعمال کریں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں