غزل
ہے کون ایسا شہر میں فتنوں کو جو دبا سکے
اِنسانیت کو ظلم سے اِس دور میں بچا سکے
اب شہرِ شعلہ پوش میں ، ہے آبجو کی جستجو
بھڑکی ہے جو قلوب میں،اُس آگ کو بجھا سکے
گو کہ فلک شگاف تھے ، ہم بے کسوں کے قہقہے
چہرہ تھا دل کا آئینہ ، غم کو نہ ہم چھپا سکے
اپنے ہی دم قدم سے ہے ، نغمہ و نطق کا بھرم
”کس کی زباں کھلے گی پھر ، ہم نہ اگر سنا سکے“
رکھ لیجئے گا شوق سے، تم ساری صبحیںاپنے پاس
ایسی سحر ملے ہمیں جو بارِ شب اُٹھا سکے
وہ عیب پوش تھا مگر، ہم عیب بیں و عیب چیں
آتا نہیں نظر کوئی ، عیبوںکو جو چھپا سکے
کتنا عزیز ہے ہمیں نغمہ عزیز کا ، عزیز
ایک ایسا سوز اِس میں ہے جو سارے غم بھلا سکے