امید فاضلی کی پیدائش

اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کا اصل نام ارشاد احمد تھا اور وہ 17 /نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈبائی اور میرٹھ سے حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1944ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکائونٹس کے محکمے سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی اور اسی محکمے سے وابستہ رہے۔
امید فاضلی اردو کے اہم غزل گو اور اہم مرثیہ گو شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدا میں وہ امید ڈبائیوی کے نام سے شاعری کرتے تھے بعدازاں انہوں نے امید فاضلی کا قلمی نام اختیار کیا۔
امید فاضلی کی غزلیات کا پہلا مجموعہ دریا آخر دریا کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا جسے 1979ء میں شائع ہونے والے بہترین شعری مجموعے کا آدم جی ادبی انعام بھی عطا ہوا تھا۔ ان کے مرثیوں کا مجموعہ سر نینوا، نعتوں کا مجموعہ میرے آقا، منقبتوں کا مجموعہ مناقب اور قومی شاعری کا مجموعہ پاکستان زندہ باد اور تب و تاب جاودانہ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے جبکہ ان کا آخری مجموعۂ کلام زندہ گفتگو ہنوز تشنہ ٔ طباعت ہے۔امید فاضلی کے نعتیہ مجموعہ کلام میرے آقا پر بھی انہیں رائٹرز گلڈ کا انعام عطا ہوا تھا۔
28 اور29 / ستمبر 2005ء کی درمیانی شب اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کراچی میں وفات پاگئے۔ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کے کئی اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔
جانے کب طوفان بنے اور رستہ رستہ بچھ جائے
بند بنا کر سو مت جانا، دریا آخر دریا ہے
…٭٭٭…
دلوں کو زخم نہ دو حرفِ ناملائم سے
یہ تیر وہ ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے
…٭٭٭…
کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی
خیال تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفیع محمد شاہ کی وفات

سترہ / نومبر 2007ء کو پاکستان ٹیلی وژن اور فلموں کے معروف اداکار شفیع محمد شاہ کراچی میں وفات پاگئے۔
شفیع محمد شاہ 1948ء میں کنڈیارو میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور ایگری کلچر بنک میں ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اسی زمانے میں وہ اپنی خوب صورت آواز کی بدولت ریڈیو پاکستان میں بھی صداکاری کے جوہر دکھانے لگے۔ کچھ عرصہ بعد وہ ملازمت ترک کرکے لاہور چلے گئے جہاں اداکار محمد علی کی وساطت سے انہوں نے فلم کورا کاغذ میں کردار ادا کیا۔ لاہور میں ہی انہیں ٹیلی وژن کے پروڈیوسر شہزاد خلیل نے اپنے ڈرامے اڑتا آسمان سے چھوٹی اسکرین پر متعارف کروایا لیکن ان کی شہرت کا آغاز ڈرامہ سیریل تیسرا کنارا سے ہوا، یہ ڈرامہ بھی شہزاد خلیل کی پیشکش تھا۔ لاہور میں قیام کے دوران انہوں نے کئی اور فلموں میں کام کیا جن میں بیوی ہو تو ایسی، ایسا بھی ہوتا ہے، نصیبوں والی، روبی، تلاش، میرا انصاف اور الزام کے نام شامل ہیں۔
شفیع محمد شاہ نے ٹیلی وژن کے 50 سے زیادہ ڈرامہ سیریلز میں اداکاری کی جن میں آنچ، چاند گرہن، جنگل، دائرے، کالا پل، ماروی اور کھیلن کو مانگے چاند کے نام سرفہرست ہیں۔
شفیع محمد شاہ آرٹس کونسل آف پاکستان،کراچی کی گورننگ باڈی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے ٹکٹ پر 2002ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا تھا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔
شفیع محمد شاہ کو ان کی خوب صورت اداکاری پر پی ٹی وی ایوارڈ بھی عطا کیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی زندگی میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے اور ان کی وفات کے بعد ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ وہ کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید وقار عظیم کی وفات

سترہ / نومبر 1976ء کو اردو کے معروف ادیب، نقاد،مترجم، محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر سید وقار عظیم وفات پاگئے۔
سید وقار عظیم 15 اگست 1910ء کو الٰہ آباد (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹی کیا۔ الٰہ آباد یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ دہلی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اسی دوران حکومت ہند کے سرکاری ادبی جریدے آج کل کے مدیر ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد محکمہ ٔ مطبوعات و فلم ماہ نو کے بانی مدیر مقرر ہوئے۔ 1949ء میں لاہور چلے آئے اورنقوش کی ادارت سنبھالی۔ 1950ء میں اورینٹل کالج لاہور میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ اور 1970ء تک اسی کالج سے وابستہ رہے۔ اسی دوران اقبال اکیڈمی، مرکزی اردو بورڈ مجلس ترقی ادب، مجلس زبان، دفتری اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ و تصنیف و تالیف میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ غالب کی صد سالہ تقریبات پر 1969ء میں انہیں پہلا غالب پروفیسر مقرر کیا گیا۔
سید وقار عظیم، اردو کے افسانوی ادب کے اولین نقاد شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اٹھارہ کتابیں تصنیف کیں جن میں افسانہ نگار، داستان سے افسانے تک، نیا افسانہ، ہماری داستانیں، فن اور فن کار، ہمارے افسانے، شرح اندر سبھا، اقبال بطور شاعر، فلسفی اور اقبالیات کا تنقیدی جائزہ کے نام سرفہرست ہیں۔
سید وقار عظیم نے 17 / نومبر 1976ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید قاسم محمود کی پیدائش

اردو کے ممتاز افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور متعدد حوالہ جاتی کتب کے مولف سید قاسم محمود 17 / نومبر 1928ء کو کھرکھودہ ضلع روہتک میں پیدا ہوئے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ 1951ء میں مجلس زبان دفتری، حکومت پنجاب سے بطور مترجم منسلک ہوئے۔بعدازاں وہ لیل و نہار، صحیفہ، کتاب، سیارہ ڈائجسٹ، ادب لطیف اور قافلہ کے مدیر رہے۔ 1970ء میں انہوں نے لاہور سے انسائیکلو پیڈیا معلومات کا اجرا کیا۔ 1975ء میں انہوں نے مکتبہ شاہکار کے زیر اہتمام شاہکار جریدی کتب شائع کرنا شروع کیں۔ 1980ء سے 1998ء تک وہ کراچی میں مقیم رہے جہاں انہوں نے ماہنامہ افسانہ ڈائجسٹ، طالب علم اور سائنس میگزین کے نام سے مختلف جرائد جاری کئے اور اسلامی انسائیکلو پیڈیا، انسائیکلو پیڈیا فلکیات، انسائیکلو پیڈیا ایجادات اور انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا شائع کئے۔ ان کے اسی نوع کے متعدد کام ان کی وفات کی وجہ سے ادھورے رہ گئے۔ وہ ایک اچھے افسانہ نگاراور مترجم بھی تھے اور ان کے افسانوں کے مجموعے دیوار پتھر کی، قاسم کی مہندی اور وصیت نامہ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔
اکتیس / مارچ 2010ء کو سید قاسم محمود لاہور میں وفات پاگئے اور جوہر ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے