فرقت کا دکھ سہا تری قربت کے واسطے
ہم نے دعائیں کیں اسی تہمت کے واسطے
پھر یوں ہوا نہ گھر ملا نہ گھر کا راستہ
نکلے تھے یوں تو گھر سے مسافت کے واسطے
مصروفیت میں جینے کی مشکل ہے کار عشق
رکھا یہ کام ہم نے فراغت کے واسطے
شہرت سے دور رہ کہ بھی عزت ملی بہت
خواہش کبھی بھی کی نہیں شہرت کے واسطے
لکھے ہیں دوستوں نے نئی طرز کے خطاب
ہم ساکنان کوئے ملامت کے واسطے
ہم کو فقیہہ شہر نے خود یہ سبق دیا
درکار ہے ریا بھی عبادت کے واسطے
صفدر یہ راز آج کھلا ہے فقیر پر
پینسٹھ برس بھی کم ہیں محبت کے واسطے