16.10.2026, 09:07pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

جو گرجتے ہیں برستے نہیں ۔۔از؛ عالم آراء ۔ وینکوور
19.11.2015, 02:02am , جعمرات (GMT+1)

ہم اپنی سیا ست کو بس گرجتا دیکھتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ وہ برستی کبھی نہیں ۔ہمارے سارے سیاسی شتر مُرغ بس گرجنے کا کام کرتے ہیں کوئی جلسہ ہو کوئی جلوس ہو  کوئی میٹنگ ہو صرف کچھ اداروں کے سامنے تھوڑا قا بو رہتے ہیں ورنہ کھلی چھوٹ ہے ،کہ جتنا غلط بیانی سے کام لے سکتے ہو لو جتنا بے وقوف بنا سکتے ہو بناؤ اپنا وقت نکالو ۔کاش ہمیں کوئی برسنے والا لیڈر مل جائے جو بہا دے  ہمارے ملک سے کرپشن ، نا خواندگی، غربتَ بے ایمانی َ رشوت ،دھوکہ ،الزام تراشی اور نکموں کی فوج ،جو صرف حکومت کو مکھن لگانے اور اپنا اآپ بچانے کی کوششوں میں ہر جائز اور نا جائز حربہ استعمال کرتے ہیں اور ملک کی قسمت سے کھیلتے ہیں ۔

ہمارے ملک میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے اداروں میں ایمانداروں کی کوئی کمی نہیں ہے درد مندوں کا کوئی فقدان نہیں ہے ،درد مند دل رکھنے والوں کا کوئی قحط نہیں ہے جو اآج بھی اپنے ملک کے حالات پر کُڑھتے اور افسردہ نظر اآتے ہیں ۔لیکن افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہم زبان نہیں کھولتے ہم باہر نہیں نکلتے ہم احتجاج نہیں کرتے ۔کیونکہ ہمارے زیادہ تر لوگ مست ہیں اپنے ماحول میں انہیں یہ فکر نہیں ہے کہ ملک کس اندھی کھائی میں جھونکا جا رہا ہے قرضے لے لے کر ،انہیں یہ افسوس نہیں ہے کہ ہماری اآنے والی نسلیں اس قرضے سے نقصان اُٹھائینگی ۔کیونکہ اآج انکی تنخواہ لاکھوں میں ہے ان کے سب کام احسن طریقے پر ہو رہےہیں ۔انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ پٹرول کیا بھاؤہے اور بجلی کا بل کتنے کا اآتا ہے ۔چاول کتنے روپئے کلو ہے یا آٹا اچھا ملتا ہے کہ نہیں ۔ان کا تو پانی بھی باہر کا در آمد کیا ہو اہوتا ہے ۔ انہیں  کیا ضرورت کہ وہ صآف پانی مہیا کریں عوام کو؟ کہ عوام کے معدے تو ہم نے نا قص ناخالص چیزیں کھلا کھلا کر مضبوط کر دئے ہیں ۔اب اگر بیماریاں ہیں تو بس ہم کیا کریں ؟ اگر پینے کا صاف پانی نہیں ملتا تو ہمیں کیا ؟عوام کا مقدر تو بس انکی باتیں سننا اور پیٹ پر پتھر باندھنا ہے ۔

ہندسوں کا ہیر پھیر جو چلایا جاتا ھے وہ بھی اپنی مثال اآپ ہے ۔پھر چاہے بجٹ ہو یا کسی منصوبے کا حساب بس ایسا ہیر پھیر ہے کہ جانے والی حکومت تو بغلیں بجاتی چلی جاتی ہے کہ دیکھو کیسا بے وقوف بنایا اور آنے والی جو بڑے دھوم دھڑکے سے اآتی ہے کہ بس ہم نے تمہاری تقدیر بدلی کہ بس بدلی وہ اآتے ہی خزانہ خالی ہونے اور ہر سیج کو کانٹوں کی سیج کہنے کے سوا کچھ نہیں کرتی اور اگلے پانچ سال بھی لنگوٹی میں پھاگ کھیل کر چل دیتی ہے کہ ہم تو تمہاری تقدیر بدل دیتے مگر تمہاری قسمت ہی خراب ہے ؟؟؟؟؟ اور ہم پھر اللہ کے حضور اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے پانچ سال گزار دیتے ہیں ،اس آس پر کہ اب کے جو لوگ آئینگے وہ شاید ہماری قسمت بدل دیں ۔لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ جب تک اپنے حق کے لئے اپنے مطالبے کو پورا کرنے کے لئے خود نہ اُٹھو گے کوئی کچھ نہیں کر سکیگا ۔

ہر طرف شور ہے کہ ہمیں دھوکہ دے دیا جیسا کہ آج کل ایک پراجیکٹ سے مکینوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے کہ وہ زمین ریلوے کی تھی جس پر فلیٹ بنا کر بیچ دئے گئے ۔ایسے تو نہ جانے کتنے منصوبے ہونگے پورے ملک میں جو بے ایمانی اور دھوکے سے بنائے گئے لیکن پکڑنے والا کوئی نہ تھا ۔حیرت یہ ہے کہ جب یہ منصوبے منظور کئے گئے اس وقت کسی نے کیوں نہ دیکھا ؟ کیا اداروں کی یہ غلطی عوام کے لئے تکلیف کا باعث نہیں کہ جنہوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنے سر چھپانے کی جگہ خریدی وہ دھوکہ تھی ۔ظاہر ہے کہ فلیٹ خریدنے والوں کو تو یہ نہیں پتہ تھا کہ زمین کس کی ہے ؟ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اگر وہ قربانی دیں اور حکومت سندھ انہیں متبادل جگہ دے تو ان دھوکہ دینے والوں کو تختئی دار تک تو ضرور پہنچانا چاہئے جنہوں نے سینکڑوں لوگوںکے سر  سے چھت چھین لی ۔

افسوس یہ ہے کہ کھیل سے لے کر اسپتالوں تک کوئی بھی ادارہ بے ایمانی اور دھوکے سے خالی نہیں ۔کہاں گئیں ہماری اقدار ؟ کہاں گیا ہمارا ملِی وقار اور کہاں گئی ہماری شرافت اور حیاء جو خاصہ تھا ہمارے اباء و اجداد کا ۔جسے ہم نے بیچ کھایا اور انکی روحوں تک کو بے چین کردیا ۔کیا ہماری اقدار اتنی ہی سستی ہیں کہ انہیں بے ایمانی سے بیچ دیا جائے اور پیسہ کما لیا جائے ۔حیف صد حیف کہ ہم اپنی دینی اور اخلاقی حدوں سے بھی گزر گئے کہ اب صرف اور صرف پیسہ اور دنیاوی عیش و عشرت ہی سب کچھ ہے ۔کہیں ڈاکٹروں کا نام ہے کہیں وکیلوں کا کہیں ججوں کا کہیں بلڈروں کا کہیں وزیروں کا کہیں بڑے عہدے داروں کا شاید ہی کہیں ڈھونڈنے سے کوئی ادارہ ملے جس میں کرپشن نام کی بلا نہ ہو دھوکہ دہی کا الزام نہ ہو ،بے ایمانی سے لوٹنے کا زکر نہ ہو ۔ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟؟

قرضوں نے ہمیں کہیں کا نہ رکھا یہ سب حکومتی لوگ یہ خزانے کے وزیر سب کچھ کھوکھلا کر کے چل دینگے ،حد ہے کہ قرضوں کا سود دینے کے لئے بھی قرضے لئے جاتے ہیں اور خوش خبری یہ دی جاتی ہے کہ ریزرو میں اضافہ ہوا ہے ؟؟معیشت بحال ہو رہی ہے ۔؟؟  بہت کچھ اچھا کیا جارہا ہے مگر شاید صرف ایک ادارے کی سختی کی وجہ سے مگر ہمیں خوشی ہے کہ کسی طرف تو توجہ ہے ۔لیکن اگر یہ منی لانڈرنگ کرنے والے ،یہ دھشت گردی کرنے والوں کو سہارا دینے والے یہ ملک میں بد عنوانی کو فروغ دینے والے اگر چھوڑ دئے گئے تو انتہائی افسوس اور دکھ کا مقام ہوگا ۔کہ پھر ہم کچھ اور ایسے ہی بونے تیار کرینگے کہ جنکی سوچ ہوگی ““ جو چاہے کر لو کچھ نہیں ہوتا کوئی نہیں پکڑتا “ اور شاید یہ ہی سوچ ہے جس نے ہمارے تمام ادارے تباہ کر دئے ۔ایک ڈاکٹر جو وزیر داخلہ بھی تھے چیخ چیخ کر دُہائی دے رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ ثبوت ہیں میرے پاس لیکن کوئی ان سے یہ ثبوت لیتا ہے نہ انکی بات پر کان دھرتا ہے ۔ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ غلط بیانی کر رہے ہیں تو بھی انکی بات کو سنا جائے اس پر ایکشن لیا جائے تاکہ اگر وہ غلط الزام لگا رہے ہیں تو انہیں بھی سزا دی جائے کہ کسی شریف پر کیوں کیچڑ اُچھالا ؟۔مگر جس طرح کانوں میں روئی ٹھونسی جا رہی ہے وہ بھی سوچنے کی طاقت کو مفلوج کر دیتا ہے کہ شاید ہم کسی کو بھی سزا نہیں دے سکتے کہ ہم ملی بھگت سے حکو مت چلاتے ہیں کہ یہ جو پہئیے لگے ہوتے ہیں حکومت کے ساتھ ہم انہیں کسی صورت پنکچر نہیں ہونے دیتے کہ اگر ایسا ہو گیا تو باری کہاں سے ملے گی ۔؟
مگر کاش ہمارے لوگ اب عقل کے ناخون لیں اور پوچھیں ان بے اعتدالیوں کے بارے میں جنہوں نے ہم سے ہماری قومی شناخت کو بھی چھیننے کی کوشش کی ہے اور ہمیں بے حس بھی بنا دیا ہے کہ بے حس ہی ہوتے ہیں جنہیں کسی بات پر کوئی دکھ ہوتا ہے نہ تکلیف پھر چاہے ملک کی بد نامی ہو یا عوام کی تباہی ۔کوئی فرق نہیں پڑتا ۔کاش وہ لوگ جو اآج کل پکڑے ہوئے ہیں اپنے ضمیر کو زندہ کرلیں اور سب کچا چٹھا کھول دیں پھر چاہے وہ ایان علی ہو یا ڈاکٹر عاصم ہو اگر ایک دفعہ دل کڑا کر کے ساری بے ایمانیاں بتا دیں تو ملک کو ان جونکوں سے ضرور نجات مل سکتی ہے جنہوں نے خون چوس لیا ہے قوم کا ۔ورنہ ہم تو وہ ہیں جو حلفیہ بیان پر بھی پکڑ نہیں کرتے ؟؟؟؟

اب پھر ایک ادارے اور حکومت میں نوک جھونک شروع ہو گئی ہے جو کسی بھی طرح اچھی بات نہیں ہے ۔کہ اب کسی کو بھی مہلت نہیں دینی چاہئے کہ وہ ملک کے لئے کوئی بھی ایسی بات کرے جو نقصان اور شرمندگی کا باعث ہو ۔کہ ہر بات کی ایک حد ہو تی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ پاکستان کچھ خاندانوں کی جاگیر نہیں ہے کہ وہ جس طرح چاہے اسے چلائیں اور عوام خا موش  رہیں وہ ۔باریاں لیں اور لوٹ کر چل دیں ۔

بس دل یہ چاہتا ہے کہ اب کوئی ایسا برسنے والا لیڈر سامنے آئے جو ہر برائی کو بہادے ایک سیلاب میں  سچائی کے سیلاب میں  ایمانداری کے سیلاب میں ملک سے محبت کے سیلاب میں ،عوام کی بحالی کے سیلاب میں ،بھوک اور غربت کے خاتمے کے سیلاب میں ،اور جھونک دے ان بے حسوں کو جیلوں میں اور کال کوٹھریوں میں جنہوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ۔بس اب برسنے والوں کی ضرورت ہے جو کسی کی نہیں سنتے ۔کاش ملک میں وہ وقت آئے کہ ملک پر کوئی قرضہ نہ ہو اور ہم اپنی معیشت کو اپنے ہی وسائل سے اتنا طاقتور کر لیں کہ سر بلند کر کے بات کر سکیں ہر طاقت سے ،اور تعلیم یافتہ قوموں میں شمار ہوںے لگیں ۔کچھ مشکل نہیں اگر ایک دفعہ سارا گند نکال کر پھینک دیا جائے کہ “ہم میں خضر بہت سے ہیں
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو آمین 

:دیگر مضامین
(26.10.2015) عوام کے دوست ہی عوام کے سب سے بڑے دشمن !! از؛ عالم آرا ۔ وینکوور
(29.09.2015) کچھ کردار ہونا چاہئے ،کچھ اخلاق ہونا چاہئے ۔از؛ عالم آرا ۔ وینکوور 
(02.09.2015)  کا روائی قانونی بھی اور غیر قانونی بھی ۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2015) اول تو کوئی پکڑا نہیں جاتا !!!از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(30.06.2015) کمال ہو گیا ،واقعہ کا نوٹس لے لیا ۔۔از:‌عالم آرا۔ وینکوور
(08.06.2015) پھول میرا وطن چاند میری زمیں ۔۔ عالم آرا ، وینکوور
(14.05.2015) ھوئے تم دوست جس کے!!!۔۔ از:‌عالم آرا۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(23.04.2015) اجنبی دنیا اجنبی لوگ!! ۔۔۔ از: عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(05.04.2015) گولی بندوق کی ہو یا حکومت کی ۔از؛ عالم آرا ۔وینکوور 
(02.02.2015) شرم ہم کو کیوں نہیں آتی ؟؟ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(26.01.2015) بِل منظور ،تحفظات نا منظور ۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(22.12.2014) کیا واقعئی ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.12.2014) ڈاکو بھی  احتجاج کرنے لگے ؟؟ از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(14.11.2014) وہ اُجالے لینے گئے ہیں ۔۔۔ از:‌ عالم آرا ، وینکور، کینیڈا
(05.11.2014) سمجھ نہیں آتا ۔کس طرح خود کش سیکیورٹی پار کر جاتا ہے۔ از۔ عالم آرا
(14.10.2014) تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔۔ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(30.09.2014)  انتظار انتظار اور انتظار۔۔۔۔ از :‌عالم آرا ۔۔ وینکوور۔ کینیڈا
(08.09.2014) پارلیمنٹ اور اس کا احترام ۔۔۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(26.08.2014) ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے۔از ۔عالم آرا
(19.08.2014) اگر عوامی مینڈیٹ ہے تو پھر ڈر کیسا؟؟از۔۔۔۔ عالم آرا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں