16.10.2026, 09:13am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
عالمی اخبار ادبیات
 

پاکستان میں بچوں کا جاسوسی ادب متعارف کروانے والے اشتیاق احمد ۔از؛ ثنااللہ احسن خان 
19.11.2015, 01:03am , جعمرات (GMT+1)

اشتیاق احمد 1944  میں پانی پت کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان جھنگ میں آ کر آباد ہو گیا۔ لکھنے کے شوق کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ان کی سب سے پہلی تحریر سن 1960 میں ہفت روزہ قندیل میں شائع ہوئ تھی جس کا عنوان تھا، بڑا قد،۔ پہلا باقاعدہ ناول غالبا'' 1972 میں چھپا تھا جس کا نام '' پیکٹ کا راز'' تھا۔اشتیاق صاحب بتاتے ہیں کہ پہلے ناول کا معاوضہ انہیں پچاس روپے ملا تھا۔اس کے بعد اشتیاق صاحب نے مستقل ناول لکھنے شروع کئے جس میں انہوں نے پاکستان میں بچوں کے جاسوسی ادب کو متعارف کروایا۔ جو کہ تا حیات جاری رہے۔ ان کے ناولوں کو سن اسی اور نوے کی دہائی میں بہت زیادہ مقبولیت و پذیرائ ملی۔ ان کا آخری ناول '' عمران کی واپسی'' تھا جو حال ہی میں شائع ہوا تھا۔اس ناول میں انہوں نے ابن صفی کے ناولوں کے مشہور کردارعمران کو دوبارہ جاسوسی ادب میں زندہ کرنا چاہا لیکن افسوس  کہ مزید لکھنے کی مہلت نہ ملی۔ ویسے اشتیاق صاحب کے کام میں ابن صفی سے لی گئ انسپائریشن صاف نظر آتی ہے۔

میں نے کبھی بھی اشتیاق صاحب کے ناول نہیں پڑھے کہ شاید میرےذوق کے مطابق نہ تھے۔ ایک دو مرتبہ پڑھنے کی کوشش کی لیکن کچھ ہی صفحات پڑھ کر اکتا کر بند کردیا۔ بچپن ہی سے جس کو کرشن چندر، منٹو، منشی پریم چند، ڈپٹی نذیر احمد، اسد محمد خان، شوکت صدیقی، ندیم احم قاسمی ، عصمت چغتائ، شکیل عادل زادہ، راجندر سنگھ بیدی، گلزار، امرتا پریتم، مارک ٹوین، چارلس ڈکنس،  اور ایسے ہی نہ جانے کتنے نابغہ روزگار تخلیق کاروں کی تحریروں کا چسکا پڑ جائے اسے بھلا پلپ فکشن والےان بچوں کے جاسوسی ناولوں میں کیا مزہ آئے گا۔ نلی نہاری، سرخ تار والا ادلے کا قورمہ، چٹپٹی بریانی اور زعفرانی مہک والے پلائو اور دھواں لگے سیخ کباب کے چٹخاروں کا چٹورہ بھلا پھیکے سیٹھے چکن سینڈوچ اور برگر اور پاستا  سے کیا بھوک مٹائے گا۔۔ آپ کی دلچسپی کے لئے بتادوں کہ پلپ فکشن کی اصطلاح دراصل 1920 کے امریکہ میں ایجاد ہوئی ۔ 

عام لوگوں کے مطالعے کے لئے چٹپٹی مصالحہ دار کہانیاں بالکل اسٹار پلس کے ڈراموں جیسی۔ جن میں مختلف اقسام کے محیرالعقول کارنامے انجام دینے والے کردار، جاسوس، اور دیگر بے شمار عام دلچسپی کے موضوعات شامل ہوتے تھے۔ عوام میں یہ بہت مقبول تھا بالکل ایسے ہی جیسے کہ دوپہر میں شائع ہونے والے دو اور پانچ روپے والے اخبار۔۔۔یہ تمام مواد گھٹیا درجے کے کاغز پر شائع کیا جاتا تھا۔ کاغذ بلا شبہ لکڑی کے گودے سے ہی تیار کیا جاتا ہے جس کو انگلش میں پلپ کہتے ہیں۔ لیکن عمدہ کاغذ کو بلیچ کر کے اس کو بالکل سفید کرلیا جاتا ہے۔ مزید مراحل سے گزار کر اس کو چکنا اور دبیز بھی کیا جاتا ہے۔ گھْٹیا درجے کا کاغز پلپ کہلاتا تھا اور کیونکہ یہ تمام مواد یا ادب پلپ کاغذ پر چھاپا جاتا تھا تاکہ اس کی قیمت کم ہو اور عام عوام اس کو آسانی سے خرید سکیں۔ اس لئے اس کا نام پلپ فکشن پڑ گیا۔ ٹائٹل البتہ خوبصورت اور رنگین ہوتا تھا۔

 مقبول العوام تھا اور لوگ بہت ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے ایک عام مزاق اور مزاج کے شخص کو  شوخ پھولوں اور گلدستوں والی ، یا قدرتی نظاروں والی عام پینٹنگ زیادہ پسند آئے گی جبکہ چغتائی ، گل جی، صادقین ، ایف ایم حسین وغیرہ کے کام کو وہ قطعی اپنے ڈرائنگ روم کی دیوار پر لگانا پسند نہیں کرے گا۔ اشتیاق صاحب کا کام بھی پلپ فکشن کے زمرے میں آتا ہے۔ پلپ فکشن سے یہاں یہ مراد ہرگز نہ لی جائے کہ یہ کوئ گھٹیا درجے کا کام تھا۔ بلکہ یہ بھی ادب کی ایک اصطلاح ہے کہ کاغذ بے شک گھٹیا ہوتا تھا لیکن اس میں بھی انتہائ اعلیٰ اور  خوبصورت تحاریر ملتی ہیں۔ خاص طور پر فلموں کے لئے پلپ فکشن بہترین مواد فراہم کرتا ہے۔ ٹارزن، سپر مین، اسپائڈر مین، بیٹ مین، کنگ کانگ وغیرہ پلپ فکشن کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔ اس کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ اس کو پڑھنے اور پسند کرنے والے لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہوتے ہیں - اشتياق صاحب بهى بهت مقبول تهے،  خاص طور پر بچے ان کے ناولوں کے بْڑے شیدائی تھے۔ 

 بلا شبہ آٹھ سو ناول لکھنا ایک انتہائ غیر معمولی بات ہے۔ ایسا زرخیز ذہن اور تخلیقی صلاحیت بے شک خدا کی دین ہی ہوتا ہے۔ ہم اور آپ سے اگر کوئ دو صفحات کا مضمون یا کہانی لکھنے کوكهه دے تو  ہم بدحواس ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلا خیال دماغ میں یہی آتا ہے کہ بھلا یہ ہم کیسے کر سکتے ہیں۔ مرتے کڑھتے ادھر ادھر سے آئیڈیے لے کر یا نقل مار کر بمشکل ایک بھونڈا مضمون یا کہانی تیار کر پاتے ہیں۔ جی ہاں اس کے لئے لکھنے سے بہتر لفظ تیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ کہاں ایک شخص گویا ناول لکھنے کی مشین بنا ہوا ہے اور ہر ماہ دھڑا دھڑ ناول لکھے جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود یکسانیت سے قطعی پاک اور مستقل چالیس سال اپنے قارئین کو برقرار رکھنا ایک عجوبے سے کم نہیں۔ اگر اشتیاق صاحب مغربی دنیا میں ہوتے اور ان کا کام انگریزی میں ہوتا تو بلا شبہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ہوتے اور ان کے ناولوں پر بے شمار ٹی وی سیریز یا سیریلز بن چکے ہوتے۔ کروڑوں کی رائلٹی مل رہی ہوتی۔  لیكن افسوس کہ یہاں پھجے پائے والا اور زاہد نہاری والا ایک آٹھ سو ناول لکھنے والے مصنف سے زیادہ مشہور اور مالدار ہے۔ دہی بھلے اور چاٹ کیے ذائقے کی بنیاد پر لوگ ملک کے اعلیٰ ترین  عہدوں پر فائز ہیں۔ قلم سے زیادہ کفگیر  محترم ہے۔ 

وہ دور جب تک انٹر نیٹ، ویڈیو گیمز اور کیبل ٹی وی نہ آیا تھا اس زمانے میں اشتیاق صاحب کے ناول گرم کیکوں کی طرح بکتے تھے۔ ہر ماہ باقاعدگی سے ایک ناول شائع ہوتا تھا۔ کچھ ناول اتنے طویل تھے کہ چار یا پانچ حصوں میں شائع ہوئے۔  بچے اور اسکول کے طلبا و طالبات ہر ماہ بے چینی سے ان کے نئے ناول کا انتظار کرتے تھے اور اگر کبھی ناول مقررہ تاریخ سے زرا تاخیر سے آتا تو باقاعدہ ہاکر یا بک اسٹال والوْں سے پوچھتے نظر آتے تھے کہ اشتیاق صاحب کا نیا ناول آیا کہ نہیں؟ بچوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنے میں اشتیاق صاحب نے انتہائ اہم کردار ادا کیا۔ میں نے ایسے بھی کئ لوگوں کو دیکھا کہ جن کو مطالعہ سے مطلق دلچسپی نہ تھی لیکن اشتیاق صاحب کے ناول بہت شوق سے پڑھتے تھے کہ شاید نوجوان نسل كو ان کی تحریروں میں بچوں کے لئے  ٹی وی پر پیش ہونے والی ابنى بسنديده انگلش کرائم اور ایڈونچر سیریز اور سیریلز کی  جھلک نظر آتی تھی۔ 

آٹھ سو ناول لکھنے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف اور پذیرائ کی جائے وہ کم ہے۔ خود اشتیاق صاحب بھی ایک انتہائ سادہ اور منکسرالمزاج شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی نشست و برخاست اور گفتگو سے کبھی رتی بھر بھی تفاخر یا احساس برتری کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔ وہ '' بچوں کا اسلام'' نامی میگزین بھی نکال رہے تھے ۔ یہی نہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے بچوں کے لئے ایک ویب میگزین بچوں کا کلب www.bachoonkaclub.com   بھی شروع کیا تھا ۔

بچوں کے اردو جاسوسی ادب میں ان کے تخلیق کردہ کردار ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔

:دیگر مضامین
(17.11.2015) پینسٹھ برس بھی کم ہیں محبت کے واسطے از صفدر ھمدانی
(16.11.2015) ہے کون ایسا شہر میں فتنوں کو جو دبا سکے از عزیز بلگامی
(15.11.2015) ہمارا دکھ سانجھا تھا ۔۔۔۔خوشبوؤں کے دیس پیرس کے نام 
(13.11.2015) چشم نظارہ کوئی جیسے گل تر مانگے  از  منظور ثاقب
(11.11.2015) مفتیوں نے ہمارا خدا لے لیا از صدف مرزا
(10.11.2015) محبت نشے کی امام ہے  از نگھہت نسیم
(09.11.2015) محبت از علامہ اقبال
(08.11.2015) عمر وارفتہ نے دکھلائے وہ منظر مجھ کو ۔۔۔ از۔۔۔ صفدر ھمدانی
(07.11.2015) حیات اپنا راستہ بدلتی رہی ۔۔۔از ۔۔۔زرقا مفتی
(05.11.2015) کب ملے گی ہمیں کاسۂ گدائی سے نجات ۔۔۔؟ ... از۔۔۔ عزیز بلگامی
(04.11.2015) نذرِ عقیدت بحضورِ سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام
(03.11.2015) حنا کا رنگ ہتھیلی سے تو جُدا نہ ہوا ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ زرقا مفتی
(02.11.2015) عالمی اخبار اک معیار ہے ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
(01.11.2015) اےمادر علمی ترا احسان ہے احسان ۔۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منظور قاضی
(01.11.2015) ‎‫انوکھا معجزہ قرآن ہے۔۔۔۔ از۔۔۔۔۔عرشی ملک‬
(30.10.2015) تم آو تو میرے خواب لیتی آنا۔ اقبال فہیم جوزی 
(28.10.2015) سلام بحضور ، امام ِعالی مقام ، امام حسین ، علیہ السلام۔۔۔۔سلیم طاہر
(27.10.2015) سب کے سجدوں کا محافظ ترا سجدہ دیکھا ۔۔۔ از ۔۔۔۔ ذوالفقار نقوی
(25.10.2015) مولا کوئی غم نہ دینا سوائے غم حسین کے 
(22.10.2015) احمد کے گھرانے کی عزادار ہوں لوگو۔۔۔ نیلما ناہید درانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں