انتیس نومبر دوہزار پندرہ کے روز میری امی جی کو جنت مکانی ہوئے پورا ایک برس ہو جائے گا پر مجھے یوں لگتا ہے جیسے پہلے سے بھی زیادہ آن بان شان کے ساتھ میرے خون میں رواں ہیں ۔۔۔ میری پتلیوں کا ایک کونہ انہوں نے سنبھال رکھا ہے جہاں سے وہ مجھے اور میں انہیں ہر پل دیکھا کرتی ہوں ۔ صبح کو آواز دے کر جگا دیتی ہیں ۔۔ گھر سے نکلتے وقت دعا دیتی ہیں اور کہتی ہیں “ اپنی کوشش سے بھی بہتر کوشش کر کے اپنے مریضوں کو شفا بانٹ کر آنا “ ۔۔ میں ان سے اپنے بچوں کی شکایت بھی کر دیتی ہوں خاص طور پر نجیب کی جب وہ گھر دیر سے آتا ہے ۔۔ انہیں نجیب سے بہت بہت پیار جو ہے ۔۔۔ اب بھی اسی سے ہی سب سے زیادہ پیار کرتی ہیں جبھی تو اسے اپنی جدائی کے پہلے پرس لندن بلا لیا ۔۔ جاتے ہوئے کہہ گیا تھا کہ نانی ماں سے ملنے اسپیشل ان کے گھر جاؤنگا ۔۔ امی جی میں اپنے بیٹے کو اپنادل ، دماغ اپنی آنکھیں دکھانا چاہتی تھی جہاں آپ ہر وقت رہتی ہیں لیکن نہیں دکھا سکی ۔۔ شاید ہر دل میں کوئی ایسی جگہ ہوتی ہے جو صرف اسی کونظر آتی ہے جس کے ساتھ جدائی بیت جاتی ہے ۔۔ وہ آپ سے ملنے آئے گا ۔۔ فاتحہ کے لیئے جب ہاتھ اٹھائے گا تو دھیان سے سنیئے گا کہیں اور جو کہیں اٹک جائے تو اسے ضرور یاد کروا دیجئے گا ۔۔۔ ۔۔ وہ آپ کے علاوہ سنتا کب ہے کسی کی ۔۔۔
دنیا ویسی کی ویسی ہے امی جی جیسا آپ چھوڑ گئی تھیں ۔۔ دنیا والوں کی وہی لڑائی ، وہی جھگڑے ، وہی نا انصافیاں ، وہی دنیا میں ہمیشہ رہ جانے کے لیئے دوڑیں ۔۔۔۔۔ ہاں ابا جی پاکستان میں ہیں ۔۔ آپ کوبہت یاد کرتے ہیں پر بتاتے نہیں ہیں ۔۔ بس آپ کا زکر آتے ہی ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور آواز حلق میں ہی کہی گم ہو جاتی ہے ۔۔ پھر وہ کھانسی کا بہانہ کر کے سب کچھ چھپا جاتے ہیں ۔ وہ کہہ رہے تھے وہ پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں کہ ان کا دل لندن میں اب نہیں لگتا ۔ مجھے اس بار فروری میں بلایا ہے ۔ اباجی ہم تینوں بہنوں کے ساتھ دو ہفتے ساتھ گزاراناچاہتے ہیں ۔۔ مجھ سے تو وعدہ کیا ہے کہ مجھے روح کے سفر پر لے چلیں گے ۔۔۔ جی لاڈلی جو ہوں میں ان کی ۔۔۔ آپ ہنس پڑی ہے نا ۔۔۔۔۔
اور ہاں یاد آیا امی جی آپ نے تھوڑا سا بتایا تھا کہ جنت کے باغ ایسے ہوتے ہیں ویسے ہوتے ہیں ۔۔۔ اور بھی تو بتایئے نا وہاں سب کیسا ہے ؟ ۔۔۔۔۔ چچی خالدہ آپ کو دیکھ کتنا خوش ہوئی ہونگی کہ اب ان کی آپا انہیں چھوڑ کر کبھی کہیں نہیں جائینگی ۔۔۔۔۔۔ اور آنٹی زرینہ کیسی ہیں ۔۔ اف امی جی انہوں نے تو بہت ہی صبر سے اتنی تکلیف کاٹی تھی کہ دہائی خدا کی ۔۔ یقیننا وہ بھی آپ سے آ ملی ہونگی اور آپ تینوں جیسے یہاں خوش رہاکرتی تھیں وہاں اور بھی خوش ہونگی ۔۔۔۔۔۔ اف کیا حسین محفل ہوگی جہاں آپ تینوں ہوتی ہونگی ۔۔۔ میرا درجہ بدرجہ سب کو سلام دیجئے گا ۔۔
میں چاہتی تھی کہ انتیس نومبر کو آپ کی قدم بوسی کو حاضر ہوتی پر مجھے چین جا نا پڑ رہا ہے ۔۔ ہائے امی آپ کویاد ہے نا جب چین نیا نیا چائینا بنا تھا تو چچا امین نے اس بات کو ماننے سے انکار ہی کر دیا تھا ۔۔ وہ کہتے تھے چین کبھی چائینا نہیں ہو سکتا۔۔ حضور پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے الفاظ تم لوگ بدلو میں تو نہیں بدل سکتا ۔۔ ان کی دھیمی دھیمی مسکراہٹ میں ایسا سچا اقرار ہوتا ہے کہ دل ڈول جاتا ہے ۔۔ تب سے میں نے بھی دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ “ چین “ میرے لیئے کبھی چائینا نہیں بن سکتا ۔۔ میں اسی چین کو دیکھنے جا رہی ہوں ۔۔ امی جی یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ چین سے علم حاصل کرنے کے بعد مزید پڑھونگی کہ نہیں ۔۔ ہاہاہا ۔۔ ارے امی جی یاد ہے مجھے ۔۔کتابیں پڑھتے ہوئے مجھے چالیس برس ہونے کو آئے ہیں ۔۔ پر یہ بھی تو سچ ہے نا مجھے ابھی بھی کچھ نہیں آتا ۔۔۔
امی جی سنیئے نا ۔۔ مجھے آپ جیسا ہونا ہے ۔۔۔ مجھے وہ ڈگری لینی ہے جو آپ کے پاس تھی ۔۔۔۔۔۔ اسی لیئے دن رات آپ کے قدموں میں رہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ آپ کہا کرتی تھیں “ دھول “ ہو گی تو “ خاک شفا “ سے مل پاؤ گی ۔۔۔۔۔ میری اندر جتنی اچھی باتیں ہیں وہ سب آپ نے سکھائیں ہیں اور جو باتیں بری ہے وہ سب میری سیکھی ہوئی ہیں ۔۔۔ جس کے لیئے میں آپ سے شرمندہ و شرمسار ہوں ۔۔ معافی کی طلبگار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیاری امی جی مجھے معاف کر دیجئے ۔۔
وراثت ۔۔۔ میری امی جی کا فلسفہ وراثت
میرے لوگو ۔۔ !
ہماری حیات
ایک طرف کا سفر ہے
رکے گا جہاں یہ سفر
وہیں حیات کی فنا ہے
کیوں نہ ہم ۔۔۔!
آج سے یوں کریں
جن رستوں سے بھی گزریں
پھولوں کے بیج ڈالتے چلیں
آؤ میرے لوگو
وراثت میں
خوشبوؤں کی کاشت کریں
ڈاکٹر نگہت نسیم