16.10.2026, 10:45am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
عالمی اخبار ادبیات
 

ڈاکٹر وحید انجم کی انسانیت نواز افسانچہ نگاری

20.11.2015, 09:31am , جمہ (GMT+1)

عزیز بلگامی

ڈاکٹر وحید انجم کی انسانیت نواز افسانچہ نگاری
عزیز بلگامی
بھیڑ بھاڑ والی شہری آبادیوں سے دور، بہت دور کسی گھنے ، خاموش جنگل میں موجود کسی تنہا جھونپڑی کے آنگن میں ایستادہ ایک بلند قامت درخت کی سب سے اونچی ٹہنی پر بیٹھی کوئی خوش رنگ و خوش گلو چڑیا جب چہچہااُٹھتی ہے تو سارے ماحول میں جیسے ایک دِلنشین ترنم سا گھول دیتی ہے۔مگر
چہچہاہٹ کی یہ ترنم بیزی بس چند ہی لمحات کی مہمان ہوتی ہے اوراپنے خوش کن اثرات چھوڑ کربا لآخر رخصت ہو جاتی ہے۔کیوں کہ اُسے کسی عقاب یا کسی خونخوار پرندے کی جانب سے جھپٹ لیے جانے کا ہر دم خطرہ لاحق رہتا ہے۔فضاؤں میں چند لمحات پر مشتمل ایک دِل نشین گیت چھوڑ کر جب یہ اُڑ جاتی ہے تو کانوں میں بہت دیر تک اُس کی دل نشین چہچہاہٹ کا رس گھلاہوا محسوس ہوتا ہے۔بالکل ایسا ہی معاملہ صنفِ افسانچہ کا ہے۔قلم کاروں، خصوصاًافسانہ نگاروں کی بھیڑ میں ایک افسانچہ نگاربھی جیسے ادب کے خاموش جنگل میں چہچہاتا رہتا ہے اور اپنی مختصر سی خیال آفرینی کے ذریعہ چند لمحات کے لیے سہی، قاری کو مسحور کر تا رہتا ہے۔عقاب یا کسی خونخوارپرندے کا حوالہ بھی یہاں بے معنی نہیں ہے، اِس لیے کہ اِدھر کچھ دنوں سے افسانچہ نگاری کے فن پر بھی بے جا قسم کے بلکہ خونخوار قسم کے حملے ہو رہے ہیں۔ مثلاً ، ہندوستان کے مشہور افسانچہ نگار ڈاکٹر ایم اے حق صاحب نے فیس بک کی اپنی ٹائم لائن پر کسی پروفیسرکا یہ بیان(کہ اُردو افسانچہ، ادب میں ایک نا جائزاولاد کی حیثیت رکھتا ہے) نقل کیا تو اِس کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اِس کی حمایت میں بھی خاصی تعداد میں رائیں آئی تھیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ افسانچہ نگاروں کی حوصلہ شکنی کا ایک خاموش عمل ادبی معاشروں میں بہرحال موجود ہے اور قابل افسانچہ نگاروں کو ہراساں کرتا رہتا ہے ۔مبارکباد کے مستحق ہیں وہ افسانچہ نگارجو ایسی تمام تر مکروہات سے بے نیازو بے خوف ہو کر مذکورہ مترنم چڑیا کی طرح اپنی دِل نشین چہچہاہٹ کی لے بلند کرنے میں پابندی کے ساتھ مصروف ہیں۔
کرناٹک میں اُردو ادب کی زرخیر زمین گلبرگہ(نیا نام کلبرگی) کے متوطن افسانچہ نگار ڈاکٹر وحید انجم صاحب کا شمار بھی ایسے ہی با ہمت افسانچہ نگاروں میں ہوتا ہے۔مترنم چڑیا کے ترنم جیسی کیفیت ڈاکٹر وحید انجم صاحب کے افسانچوں کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی اِن کے قارئین پر طاری ہو جاتی ہے۔اور یہی اُن کے ایک کامیاب افسانچہ نگار ہونے کی دلیل ہے۔
ڈاکٹر وحید انجم صاحب کی تازہ کتاب’’تماشائی‘‘ میں سب سے چھوٹا افسانچہ
۱۵؍ الفاظ پر مشتمل ہے ، مگر کئی کہانیوں پر بھاری ہے۔اور سب سے بڑا افسانچہ بھی ایک صفحہ سے زیادہ کا نہیں۔مطلب یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے ہئیتِ افسانچہ کی حدودکا شعوررکھتے ہیں اور ایک ایماندار افسانچہ نگار ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ انہوں نے فنکارانہ سطح پر اپنی ذات میں برپا انسانیت نواز لہروں کے اِظہارکے لیے افسانچوی فارم کا کامیاب استعمال فرمایا ہے، جیسا کہ کسی انگریزی مفکر کا یہ قول ہے:"Short story writers may define their works as part of the artistic and personal expression of the form.(یعنی،مختصر کہانی (افسانہ یا افسانچہ) لکھنے والے اپنے کام کی وضاحت فارم کی فنکارانہ اور ذاتی اِظہار کے حصہ کے طور پر کر سکتے ہیں)،ڈاکٹر وحید انجم اِس قول کی صداقت کا ثبوت اپنے افسانچوں کے حوالے سے پیش فرماتے ہیں۔
اپنے مجموعہ کے لیے ڈاکٹر موصوف نے جو نام تجویز فرمایا ہے،وہ بھی خاصہ معنی خیز ہے۔’’تماشائی‘‘ اور’’مشاہد ‘‘ میں جو فرق ہے اُسے ڈاکٹر صاحب خوب سمجھتے ہیں ۔ تماشائی کبھی کسی گہرے مشاہدے کا متحمل نہیں ہو سکتا ،بلکہ راہ چلتے چلتے کسی منظر سے ایک ہلکا سا تاثر لے کر گزر جاتا ہے۔ایک تماشائی کی حیثیت سے اُنہوں نے اپنے اطراف و جوانب میں جو مناظر دیکھے ہیں، اُنہیں وہ ایک تماشائی کی حیثیت سے ہی دیکھے ہیں۔لیکن چونکہ وہ ایک عام تماشائی ہی نہیں ،بلکہ ایک تخلیق کار بھی ہیں تو انہوں نے اپنے تماشائی ہونے کی حیثیت کو بدل کر ایک مشاہد قلمکار کا فریضہ نبھایا ہے اور اپنے مشاہدات کو مختصر مگر جامع افسانچوں میں ڈھال دیا ہے۔ چنانچہ معمولی سے معمولی مشاہدے کو فکر انگیزی عطا کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب کسی نکتے کو اختصار سے بیان کر کے گزر جاتے ہیں ، تو اِس کا اثر بہت دیر تک قاری کے ذہن و قلب پرمترتیب رہتاہے۔کمال کی بات یہ ہے کہ کہانی بیان کرتے ہوئے وہ کبھی اپنے اسلوب سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اپنی زبان کے رکھ رکھاؤکا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
ڈاکٹر وحیدانجم صاحب کی افسانچہ نگاری میں فکر کی جو رَوکارفرما ہے وہ بلا شبہ اِنسانیت نواز احساسات اور جذبات سے مملو ہے۔ اُن کے افسانچوں میں کہیں حرص و ہوس ،بے ایمانی، انا پرستی، ظلم و ستم اور جوڑ توڑکی صورتحال پر کاٹ دار تبصرہ ملتا ہے(افسانچہ بعنوان بے خبر)،تو کہیں وہ بڑھاپے کی مکروہات کااحاطہ کرتے نظر آتے ہیں (افسانچہ بعنوان بال ہٹ)۔ موجودہ دورکے قانون بیزار کرب زدہ ،بے چین و بے راہ رو انسان کا ذکرنہایت ہی کرب آگیں اُسلوب میں کرتے ہیں، جسے نہ دیش کے قانون کی پرواہ ہے نہ خدا ہی کے قانون سے کوئی غرض(افسانچہ بعنوان :کر ب و انتشار)۔ ایک افسانچہ (بعنوان :وحشی) میں وہ اِنسان کے پیدائشی وحشی ہونے کی جبلّی حقیقت بیان کرتے ہیں جس کے وحشی پن کو،بقول ڈاکٹر صاحب تعلیم و تربیت، مذہب اور دُنیوی بندیشیں سرے سے ختم نہیں کر سکتیں۔(افسانچہ بعنوان :تعلیم اور ڈگری)میں وہ حقیقی تعلیم اور اخلا ق کے درمیان کے تعلق کا ذکر فرماتے ہیں اورہمدردی محبت اور ایثار کے جذبات کے حوالے سے اِنہیں ضروری سمجھتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ سند یا فتہ (ڈگری ہولڈر) بن کر کرسی تو مل جاتی ہے مگراِس کے لیے اخلاق اور انسانیت کو کھو دینا پڑتا ہے ۔ کہیں وہ خدمت خلق کی اہمیت واضح فرماتے ہیں اور خادم کے حقیقی تصورسے روشناس کراتے نظر آتے ہیں(افسانچہ بعنوان :خادم)۔ ہارٹ اٹیک سے بوڑھے والدین کی اچانک موت کو وہ جدید دور کے خود غرض اور نافرمان بچوں کے لیے ایک نعمت کہہ کرایک ایسا کربناک طنزکرتے ہیں کہ جسے پڑھ کر جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔(افسانچہ بعنوان :نجات)۔
(افسانچہ بعنوان :مہر ہ )میں ہمارے کرپٹ معاشرے کی وہ بھیانک تصور دکھاتے ہیں۔دور حاضر کے تاجران کے ذوقِ اشتہاریت کی دیکھا دیکھی، تعلیمی اداروں کے بھی اِس میدان میں کود پڑنے کی تشویش ناک لہر پروہ ملو ل نظر آتے ہیں(افسانچہ بعنوان :اشتہاری دنیا )۔
ہم نے یہ چندمثالیں مشتے از خروارے ہی پیش کی ہیں، ورنہ قارئین کو ڈاکٹر صاحب کے ہر افسانچہ میں کوئی نہ کوئی اِنسانیت نوازپیغام ضرور ملے گا۔اُن کے افسانچوں کے درجِ ذیل عنوانات سے اُن کے دائرۂ مشاہدہ کی وسعت کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں:
"صلے کی پر وا۔۔۔دوراندیش۔۔۔تعلیمی شاپ ۔۔۔کر دار۔۔۔اپنی بستی ۔۔۔سخی داتا۔۔۔دعوٰے دار۔۔۔دو باتیں ۔۔۔المیہ۔۔۔تب اور اب۔۔۔بدلتے رنگ۔۔۔خاک سے خاک تک۔۔۔ماسٹر مائنڈ ۔۔۔کلرک ۔۔۔عمر رفتہ ۔۔۔بارش۔۔۔مہر ہ۔۔۔بے آواز گھنٹی ۔۔۔زبان۔۔۔اشتہاری دنیا۔۔۔پڑوسی ۔۔۔بازار زیست۔۔۔زحل کی چال۔۔۔ذائقہ ۔۔۔ہندی مسلما ن۔۔۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔بیٹی اور عورت کے عناوین پر ایک سے زائد افسانچے شاملِ مجموعہ ہیں،جن میں صنفِ نازک کے ساتھ روا کھے جانے والے سلوک کی کرب ناک جھلکیاں نظر آتی ہیں۔
چلیے،صنفِ افسانچہ نگاری پرجس کے بارے میں ڈاکٹر وحید انجم صاحب کا خیال ہے اور بجا طور پر ہے کہ کرناٹک میں اس صنف پر کام بہت کم ہوا ہے ، لگ بھگ ایک سو افسانچوں پرمشتمل ڈاکٹر وحید انجم صاحب کی تازہ ترین کتاب’’تماشائی‘‘غالب کالونی جیلان آباد گلبرگہ سے اُردو کے شائقین کی خدمت میں بڑے طمطراق کے ساتھ پیش ہونے جا رہی ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ افسانچہ کی صنف پر ڈاکٹر وحید انجم کی طبع آزمائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
دُعا کرتا ہوں کہ اللہ ڈاکٹر وحید انجم کی عمر میں برکت دے، تاکہ وہ اِسی طرح اپنی بے لوث خدمات سے اُردو ادب کو سرشار فرماتے رہیں۔آمین۔
***


:دیگر مضامین
(19.11.2015) پاکستان میں بچوں کا جاسوسی ادب متعارف کروانے والے اشتیاق احمد ۔از؛ ثنااللہ احسن خان 
(17.11.2015) پینسٹھ برس بھی کم ہیں محبت کے واسطے از صفدر ھمدانی
(16.11.2015) ہے کون ایسا شہر میں فتنوں کو جو دبا سکے از عزیز بلگامی
(15.11.2015) ہمارا دکھ سانجھا تھا ۔۔۔۔خوشبوؤں کے دیس پیرس کے نام 
(13.11.2015) چشم نظارہ کوئی جیسے گل تر مانگے  از  منظور ثاقب
(11.11.2015) مفتیوں نے ہمارا خدا لے لیا از صدف مرزا
(10.11.2015) محبت نشے کی امام ہے  از نگھہت نسیم
(09.11.2015) محبت از علامہ اقبال
(08.11.2015) عمر وارفتہ نے دکھلائے وہ منظر مجھ کو ۔۔۔ از۔۔۔ صفدر ھمدانی
(07.11.2015) حیات اپنا راستہ بدلتی رہی ۔۔۔از ۔۔۔زرقا مفتی
(05.11.2015) کب ملے گی ہمیں کاسۂ گدائی سے نجات ۔۔۔؟ ... از۔۔۔ عزیز بلگامی
(04.11.2015) نذرِ عقیدت بحضورِ سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام
(03.11.2015) حنا کا رنگ ہتھیلی سے تو جُدا نہ ہوا ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ زرقا مفتی
(02.11.2015) عالمی اخبار اک معیار ہے ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
(01.11.2015) اےمادر علمی ترا احسان ہے احسان ۔۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منظور قاضی
(01.11.2015) ‎‫انوکھا معجزہ قرآن ہے۔۔۔۔ از۔۔۔۔۔عرشی ملک‬
(30.10.2015) تم آو تو میرے خواب لیتی آنا۔ اقبال فہیم جوزی 
(28.10.2015) سلام بحضور ، امام ِعالی مقام ، امام حسین ، علیہ السلام۔۔۔۔سلیم طاہر
(27.10.2015) سب کے سجدوں کا محافظ ترا سجدہ دیکھا ۔۔۔ از ۔۔۔۔ ذوالفقار نقوی
(25.10.2015) مولا کوئی غم نہ دینا سوائے غم حسین کے 



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں